ترکی: بائیں بازو کے پرچے ’یووینس‘ کے ساتھ قمرالزمان خاں کا انٹرویو!

قمر الزمان خاں، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے سیکرٹری جنرل اور مزدورنامہ کے ایڈیٹر ہیں۔ حال ہی میں ترکی کے بائیں بازو کے اخبار یووینس نے ان کا انٹرویو کیا، جو ہم قارئین کے لئے ذیل میں اردوزبان میں شائع کر رہے ہیں۔

انٹرویو: یاسر ڈیمولوگ، ممبر ایڈیٹریل بورڈ  UYANIS ترکی

پاکستان میں انقلابی جدوجہد کی کیا تاریخ ہے؟

پاکستان میں انقلابی جدوجہد کی تاریخ تقسیمِ ہندوستان سے پہلے کی ملتی ہے۔ آغاز میں یہ قومی آزادی کی تحریک تھی اور یہ نوآبادیاتی آزادی کی جدوجہد تھی لیکن محنت کش طبقے کی سیاست میں مداخلت نے تمام صورتحال کو یکسر بدل دیا۔1917ءکے بالشویک انقلاب کے بعد قومی آزادی کی تحریک میں فیصلہ کن موڑ آگیا۔ تمام کے تمام جہدکاروں اور راہنماؤں کو روس میں ہونیوالے انقلابی واقعات نے متاثر کیا۔ 1925 میں ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس نے سوشلزم کے ایجنڈا کو ابھارا۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بگڑتے ہوئے معیارِ زندگی نے مزدوروں،کسانوں اور پڑھے لکھے نوجوان طبقے میں ایک نئی کشمکش کو جنم دیا۔ مزدور طبقے اور پڑھے لکھے انقلابی نوجوانوں نے سامراجیت پر فیصلہ کن حملہ کیا۔ سب سے قابلِ دید وہ لمحہ تھا جب جہازیوں کی بغاوت نے 1946 میں راج برطانیہ کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ جب تحریک بعد از غداری ماند پڑی تو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے راہنماؤں نے قومی آزادی کی جدوجہد سے کنارا کشی اختیار کی اور ہندوستانی بورژوازی کے سیاسی نمائندگان نے تحریک کی باگ ڈورسنبھال لی۔ ہندوستان کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا اور عوام کو ناگزیر اسکا خمیازہ بھگتا پڑا۔

تقسیم کے بعد پاکستان کی عوام نے حکمران طبقے کے خلاف جدوجہد جاری رکھی۔ میڈیا کی منظر کشی کے برعکس پاکستان کے محنت کش طبقے کی عظیم انقلابی رویات موجود ہیں۔ایک نہایت اہم واقعہ پاکستان میں1968-69 کا انقلاب تھا۔ اس انقلاب کا آغاز ریاست کی جانب سے ایک طالبعلم کے قتل کے نتیجے میں ابھرنے والے طلبا تحریک سے شروع ہوا تھا۔جس نے محنت کش طبقے کو اٹھنے پر مجبور کیا اور کلاسیکل انداز میں محنت کش طبقے نے فیکٹریوں،کھیتوں پر قبضے شروع کیے اور ہر جگہ سے سوشلسٹ انقلاب کے نعرے گونجنے کو ملے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں اس وقت کے آمر ایوب خان کو اقتدار کو خیر باد کہنا پڑا اور اقتدارکی باگ ڈور پاکستان پیپلز پارٹی نے سنبھال لی۔ بعد ازاں، ضیا الحق کے دو (1977-1988)میں محنت کش طبقے کی بے شمار بغاوتیں نظر آئیں۔

 اس وقت کیا صورتحال ہے اور جدوجہد کی کیا شکلیں موجود ہیں؟

گزشتہ کچھ دہائیوں میں پاکستان کو نازک صورتحال سے گزرنا پڑا۔ پاکستان میںموجود سرمایہ داری کی وجہ سے عوام کی اکثریت بے روزگاری،مہنگائی اور لا علاجی کا سامنا ہے۔ حکمران طبقہ کرپٹ اور مختلف جرائم میں ملوث ہے۔ایک طرف ریاستی جبر ہے تو دوسری طرف زہریلی مذہبی شدت پسندی نے سماج کی ہیئت کو بگاڑ دیا ہے۔پاکستان کے محنت کش اور نوجوان طبقے کی عظیم انقلابی رویات موجود ہیں اور پچھلے نصف صدی میں کئی لڑائیاں اور تحریکیں دیکھنے کو ملی ہیں۔ تقسیم کے ستر سال بعد یہاں کے محنت کش طبقے کو اس وقت کی نسبت زیادہ اذیتوں کا سامنا ہے۔ یہاں پر جمہوریت فریب ثابت ہوئی ہے۔ یونینوں اور محنت کش طبقے پر مسلسل جبر کیا گیا۔ سماج کے اندر بغاوت پنپ رہی ہے جو جلد یا بدیر کسی انقلابی بغاوت کی شکل اختیار کرے گی۔

ایک پاکستانی کمیونسٹ کے ناطے آپ ہمیں اپنے کام کے متعلق کیا بتا سکتے ہیں؟

ظاہری استحکام کے نیچے پاکستانی سماج میں مختلف تضادات پنپ رہے ہیں۔ ہم انقلابی سوشلسٹ قوتوں کی تعمیر کے ساتھ ایک انقلابی تناظر اور حکمتِ عملی واضح کر رہے ہیں تاکہ سماج میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو سکے۔ اس کے لئے سماج کی مختلف پرتوں جیسا کہ ٹریڈ یونینز،طلبا،جوانوں اور خواتین میں کام کر رہے ہیں۔ ہمارا ٹریڈ یونین کا کام پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC کے نام سے مجتمع ہے۔ PTUDC کا آغاز1995 میں اس وقت ہوا جب ہمارے ایک کامریڈ عارف شاہ،جوکہ پنجاب ورکرز فیڈریشن کے سربراہ تھے اور اس تنظیم کے 65000 ممبران تھے، کے بیہمانہ قتل کے بعد ہوا۔ PTUDC ٹریڈیونینز کے ایکٹوسٹوں کے دفاع، انکو منظم کرنے اور ان سے یکجہتی کے لئے، قومی اور عالمی سطح پرجدوجہد کرنے کے لئے ایک تحریک ہے۔

پاکستان میں کس طرح کے حکمران اقتدارمیں ہیں اور ان کا کردارکیسا ہے؟

پرچے کا ٹائٹل

تاخیر زدہ اور ناہموار سرمایہ دارانہ ترقی اور حکمران طبقے کے خصی پن کی وجہ سے پاکستان میں محنت کش طبقے کی تکالیف میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشی زخم رس رس رہے ہیں،جس کی وجہ سے غم و غصہ اوربے چینی سماجی معمولات بن گئے ہیں۔ معیشت میں کالے دھن کی سرایت کی وجہ سے حکمران طبقہ مکمل طور پر کرپٹ اور جرائم پیشہ بن چکے ہیں۔ سماجی انتشار و ٹوٹ پھوٹ پاکستانی ریاست کی نازک صورتحال کی عکاس ہے۔ پچھلے 70 سالوں میں یہاں کا حکمران طبقہ قومی جمہوری بورژوا انقلاب کا ایک بھی فرض ادا کرنے سے قاصر رہی ہے۔ ایک طرف وہ اپنی بقا کے لئے سامراجی طاقتوں پر منحصر ہیں تو دوسری جانب خطے میں موجود سامراجی پراکسیوں کا موہرا بن چکے ہیں۔ پاکستان کے حکمران طبقے کا رجعتی کردار اس بات سے واضح ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں بنیاد پرستی،دہشت گردی اور کالے دھن کو پروان چڑھا رہی ہے۔

جیسا کہ پاکستان میں مزدور طبقے کی ایک جاندار جدوجہد موجود ہے، کیا آپ اس سے متعلق ہمیں آگاہ کر سکتے ہیں؟

محنت کش طبقہ ریاست کی جانب سے شدید جبر کا نشانہ ہے۔ وہ ریاست کے مسلسل حملوں کا شکار ہیں۔ریاست محنت کش طبقے کے خلاف پالیسیاں بنا رہی ہے۔وہ تقریبا” تمام عوامی اداروں کی نجکاری کر رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ کے زیرِ اثر بنیادی سہولیات کے مراکز جیسا کہ صحت اور تعلیم بھی نجکاری کے صف میں ہیں۔ فیکٹریوں سے محنت کش طبقے کو بے دخل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب حقیقی اجرتوں میں ایک واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ تاہم اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے محنت کش طبقہ سر گرم عمل ہیںاور سطح کے نیچے ایک بغاوت پنپ رہی ہے۔ اگست 2017 ءمیں پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز ہڑتال ہوئی جسے الگ طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ نرسوں اورپیرامیڈیکس نے بھی ہڑتال کی۔ ریلوے کے ڈرائیورز نے 24 گھنٹوں تک ریل کو روکے رکھنے کی ہڑتال کی۔اسکے علاوہ بلوچستان کے پیرامیڈیکس نے 90 روزہ مسلسل جدوجہد کے بعد اپنے زیادہ تر مطالبات منوا لیے۔ جدوجہد کا قلیدی مسئلہ انقلابی قیادت کا فقدان ہے جو انہیں واضح پروگرام اور تناظر دے سکے۔

آپکی اسلامی دنیا میں ہونیوالے واقعات کے متعلق کیا رائے ہے؟

ہمارے خیال میں دو اسلامی دنیا ہیں، ایک سعودی عرب حکمران طبقہ،ایرانی ملاؤں اوراردگان پر مشتمل ہے۔ باقی اسلامی دنیا مزدوروں،کسانوں،نوجوانوں کی ہے جو اپنی زندگیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ بحران اسلامی دنیا بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں عیاں ہے۔عرب بہار مشرقِ وسطیٰ میں ایک متاثر کن واقعہ تھا جس نے ساری صورتحال یکسر بدل دیا۔ انقلابی قیادت کے فقدان کی وجہ سے انقلاب عارضی طور پر پسپائی کا شکار ہوا اور رجعتی حکومتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ عراق شام اور لیبیا اسکی خوفناک مثالیں ہیں۔ سائیکس پیکوٹ معاہدے کے سو سال بعد مشرقِ وسطیٰ جل رہا ہے اور سامراجی یلغار اس میں ایندھن کا کام دے رہی ہے۔ اسلامی بنیاد پرستی کو ایک حکمت عملی کے طور پر مغربی سامراجیت نے متعا رف کروایا تاکہ وہ اپنے کلیدی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ لیکن اب سامراجی قوتیں بنیاد پرستی کو قابوکرنے میں ناکام ہو گئی ہیں اور وہ اب اپنے آقاؤں کو کاٹ رہے ہیں۔ مگر اسکا شکار ہونیوالے خطے کے دبے ہوئے اور غریب لوگ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اسلامی بنیاد پرستی اور سامراجیت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ سعودی عرب کے خوفزدہ شہزداہ محمد بن سلمان تباہ ہوتے ہوئے سعودی نظام کو مزید تقویت دے رہا ہے۔ سعو دی عرب خطے میں رجعت کے گڑھ کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی بحرین،یمن اور قطر میں یلغار ایک نا ختم ہونیوالے تضاد کو جنم دے چکی ہے۔ فلسطین کے دو ریاستی اور مذہبی بنیاد پر بننے والے نظریات کا دیوالیہ پن واضح ہے۔ بنیاد پرست حماس اور الفتح اب ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں۔ حماس کا وجود اسرائیل کے وینٹیلیٹر پر منحصر ہے اور مسئلہ فلسطین قومی بنیادوں پر حل نہیں ہو سکتا۔ اسلامی بنیاد پرستی کا خاتمہ صرف اور صرف طبقاتی جدوجہد اور انقلاب کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ غریب عوام کی آزادی اورایک سوشلسٹ انقلاب سے جڑی ہے جوکہ مشرقِ وسطیٰ کی سوشلسٹ فیڈریشن کا باعث بنے اور عالمی انقلاب میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

آپکے خیال میں کمیونسٹوں کو مسلم عوام میں کس طرح جانا چاہیے اور انکے تعلقات کیسے ہونے چاہیں؟

جیسا کہ میں پہلے وضاحت کی ہےکہ جدوجہد کی صرف ایک صورت ہے اور وہ طبقاتی جدوجہد ہے۔ حکمران طبقہ ہی مذہب، قومیت،ذات اور لسانیت کی بنیاد پرتعصبات پیدا کرتا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے جب تحریک چل پڑتی ہے تو تمام تعصبات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد سرمایہ داری کواکھاڑ پھینکنا ہے اور ایک سوشلسٹ ریاست کی تعمیر کرنی ہے تو ہمیں ان امتیازات میں الجھنے کی بجائے ہمیں ایک شفاف معاشی پروگرام مہیا کرنا چاہیے۔ ہمارے تعلقات طبقے کی بنیاد پر استورا ہیں ابو عزیزی، جس نے خود کو آگ لگادی، بھی محمد بن سلمان کی طرح مسلمان ہی تھا۔ ان دونوں کے یکساں تعلقات کیسے ہو سکتے ہیں؟ تاہم ایک غریب ترک اورایک غریب یورپی کا طبقہ مشترک ہے۔ ہم عالمی پرولتاریہ کے علمبردار ہیں۔

پاکستان کے ایک انقلابی کی حیثیت سے آپ ترکی کے کامریڈز کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

ترک کامریڈز کے نام ہمارا پیغام یہ ہے کہ ہماری جدوجہد آپکی جدوجہد ہے اور آپکی جدوجہد ہماری جدوجہد ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایک بہت ہی اہم چیز سے منسلک ہیں اور وہ ہمارا مشترک طبقہ ہے۔ محنت کش طبقے کی جدوجہد کا نصب العین ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ”ایک کا زخم سب کا زخم ہے”۔ اگر ہم متحد ہوں تو ہم کبھی شکست سے دوچار نہیں ہو سکتے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*