ریڈیو پاکستان کی مجوزہ نجکاری کے خلاف ملازمین کی تحریک

رپورٹ: مزدور نامہ

تحریک انصاف نے اقتدار میں آتے ہی محنت کشوں اور عوام پر حملوں کا آغاز شروع کر دیا ہے، اس سلسلے میں 200 سے زائد عوامی اداروں کی فی الفور نجکاری کا اعلان کیا جا چکا ہے اور ساتھ ہی تمام عوامی اداروں کی زمینوں کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ اسی سلسلے میں ریڈیوپاکستان کی ملک بھر میں موجود زمینوں بشمول عمارتوں کو نجی شعبے کے ہاتھوں لیز پر دینے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ کچھ دن قبل وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں ریڈیو پاکستان ہیڈ کواٹر کے ملازمین کو عمارت خالی کر کے ریڈیو پاکستان اکیڈمی منتقل ہوناکا کہا گیاساتھ ہی تمام کنٹریکٹ ملازمین کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کے حوالے سے احکامات جاری کئے گئے۔ اس فیصلے کے خلاف ادارے کی مزدور یونین یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن کے زیر قیادت ملازمین نے پاکستان بھر میں کام چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔

یونین ذرائع کے مطابق ریڈیو پاکستان میں 700 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کام کرتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں، ریاست کی جانب سے ریڈیو پاکستان کے بجٹ میں مسلسل کمی کرنے کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں تنخواہوں کے لئے بھی ذلیل ہونا پڑ تا ہے۔ رواں برس اپریل تا جولائی کی مکمل تنخواہیں ابھی تک نہیں ادا کی گئیں۔ تنخواہوں کی واگزاری کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا جس پر سپریم کورٹ نے 17اگست تک تمام تنخواہیں دینے کا فیصلہ صادر فرمایا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اسی طرح ان ملازمین کو لیبر قوانین کے مطابق بھی سہولیات میسر نہیں حتٰی کہ گزٹڈ چھٹیوں کی سہولت بھی میسر نہیں ہے۔ چھٹی کرنے کی صورت میں تنخواہ میں کٹوتی اور دیگر مختلف طرح کے ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق حکومت نے یونین کے ساتھ مذاکرات کئے ہیں، لیکن یونین نے تحریری طور پر اس فیصلے کی منسوخی کا اعلان ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست کی جانب سے عوامی اداروں کو دانستہ کمزور کیا جا رہا ہے، اگر پاکستان میں ریڈیو کی صنعت کو دیکھا جا ئے تو ملک میں 143 سے زائد کمرشل اور 45 نان کمرشل ریڈیو کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ عرصے میں شاید ہی کوئی ریڈیو سٹیشن بند ہوا ہو، نجی ریڈیو چینلز، کوئیر سروس، نجی ایر لائنز اورکورین بس سروس تو منافع میں ہیں مگر جو ادارے ریاست کا چہرہ ہیں اور عوام کے لئے لازمی سروسز میں شمار ہونے کے بوجود ان کے بجٹ میں روز بروز کمی کی جا رہی ہے۔

یونین کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز

پاکستان میں ریڈیو کی تاریخ اور اہمیت کا جائزہ لیا جائے تو اس کی بنیادیں تقسیم سے پہلے متحدہ ہندوستان میں ملتی ہیں۔ برصغیر میں پہلا ریڈیو اسٹیشن انڈین براڈکاسٹنگ کمپنی نے ممبئی کے مقام پر23 جولائی 1927ء کو قائم کیا۔ اپریل 1930 ء میں اس کمپنی کو براہ راست حکومت کی تحویل میں لے کر 1936ء میں اسے آل انڈیا ریڈیو کا نام دیا گیا، پاکستان بننے کے بعد 17 سالوں تک ریڈیو ہی تفریح اور خبروں کا بنیادی مرکز تھا۔ 1964ء میں پی ٹی وی قیام کے بعد بھی اس کی اہمیت میں کمی واقع نہ ہوئی بلکہ آبادی کی بڑی تعداد ریڈیو سے ہی مستفید ہوتی رہی۔ ریڈیو ہی وہ واحد ذریعہ ابلاغ ہے جو قدرتی آفات, سیلاب, جنگ اور ہر مشکل وقت میں قلیل ریسورسز کے ساتھ اپنے وطن کی خدمت کے لئے پیش پیش ہوتا ہے۔ کمرشل نشریاتی اداروں کے مقابل ریڈیو پاکستان کا کردار ایک پبلک سروس ادارے کا رہا ہے۔ یعنی ایسا ادارہ جو پیسہ کمانے کےلیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کےلیے کام کرتا ہے۔ ماضی میں ریڈیو پاکستان کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ لائسنس فیس تھی جو کہ پوسٹ آفس کے ذریعے اکٹھی ہوتی تھی، لیکن نوازشریف کی دوسری حکومت کے زمانے میں لائسنس فیس ختم کردی گئی۔ وہی ریڈیو پاکستان جو گلگت سے کراچی تک عوام کو ہر طرح کی معلومات اور تفریح بہم پہنچانے کےلیے باسٹھ برس سے سرگرمِ عمل ہے، جسکا سِگنل وہاں بھی پہنچتا رہا ہے جہاں ٹی وی کی رسائی نہیں اور جو ٹرانسسٹر ریڈیو کے ذریعے اُن دُور دراز دیہات میں بھی سنا جاتا ہے جہاں بجلی تک نہیں ہے۔ آج بھی اس کی اہمیت کا اندازہ بی بی سی کے حالیہ سروے سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق پاکستان کی شہری آبادی کا 28فیصد اور دیہی آبادی کا 31فیصد باقاعدگی سے ریڈیو سنتے ہیں۔اس طرح گیلپ سروے 2014 ء کے مطابق پاکستان کی ریڈیوانڈسٹری میں اشتہارات کی آمدنی کا ححم 1.57 بلین سے تجاوز کر چکاہے۔ اگر ریڈیو پاکستان کےاثاثوں کا تخمینہ لگایا جا ئے تو حکومت کے مطابق صرف اسلام آباد ہیڈکواٹر کی سات منزلہ عمارت کی مارکیٹ ولیو اس وقت 50 ارب سے زائد ہے، یہاں اس وقت 1000 سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ریڈیو پاکستان کے پاس 20 سٹوڈیو ہیں جہاں مختلف زبانوں میں پروگرام تیار کئے جاتے ہیں ۔ ہر سٹوڈیو میں بیرون ملک سے درآمد کردہ کروڑوں روپے مالیت کی مشینری ہے ۔ اس کے علاوہ پورے ملک میں اربوں کی اراضی اورعمارتیں ہیں۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن (PTUDC) حکومت کے اس مکروہ منصوبے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے ملازمین کے ساتھ مکمل اظہاریکجہتی کا اعلان کرتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت میں آکر برسر روزگار ملازمین کا روزگار چھین کر انہیں بے گھر کرکے روڈ پر لارہی ہے ہم حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ روزگاردینے کے بجائے روزگار چھیننے کے عمل سے بازرہے۔آمدنی بڑھانے کے نام پر عوامی عمارات کی نجی شعبے کو منتقلی کا منصوبہ دراصل لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ماضی کے تجربات سے واضح ہے کہ ایسے منصوبوں نے محض سرمایہ داروں کی تجوریاں بھری ہیں۔ خسارے کے اصل ذمہ دار اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے لٹیرے ہیں ، حکومت محنت کشوں کے خون پسینے سے تعمیر شدہ اداروں کو بیچنے کی بجائے نجی شعبے کی لوٹ مار پر لگام لگائے۔ حکمران طبقے کے کسی وعدے اور مستقبل میں بہتری کی گنجائش نہیں ہے اس لئے محنت کشوں کو صرف اپنی طاقت پر ہی انحصار کرتے ہوئے متحد ہو کر اس نظام زر کے خاتمے کی جدوجہد تیز کرنا ہو گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*