اسلام آباد: ریڈیو پاکستان برطرف ملازمین کی تحریک کے خلاف حکومتی اوچھے ہتھکنڈوں نامنظور

رپورٹ: PTUDC اسلام آباد

مورخہ 20 اکتوبر کو ایک حکم نامہ کے ذریعے ریڈیو پاکستان کے 749 ملازمین کو جبری برطرف کر دیا گیا، اس پر کل مورخہ 21 اکتوبر کو یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن سی بی اے PBC ریڈیو پاکستان کی جانب سے کوئٹہ، کراچی سے لے کر اسلام آباد تک ملک گیر مظاہرے منعقد کئے گئے۔  ہرجگہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC سمیت آل پاکستان ایمپلائز پنشنرزاینڈ لیبر تحریک میں شامل مزدور تنظیموں کے قائدین شریک ہوئے اور ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے شانہ بشانہ لڑنے کا عہد کیا۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا، احتجاجی مظاہرہ سے آر آئی یو جے کے صدر عامر سجاد سید،ریڈیو یونین کے جنرل سیکرٹری محمد اعجازاور چوہدری ارشد نے بھی خطاب کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں حکومت مخالف بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر بحالی کے مطالبات درج تھے۔

ان مظاہروں کو گونج گرج سے حکومت بوکھلا گئی اور ریاستی دباؤکے ذریعے ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی آواز کو خاموش کروانے کی کوشش کی گئی۔ کل رات گئے سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے ملازمین کے دھرنے پر پولیس نے دھاوا بول دیا اور یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن سی بی اے PBCریڈیو پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری محمد اعجاز سمیت کئی ملازمین کو گرفتار کر کے تھانہ کوہسار میں بند کر دیا گیا۔ اس موقع پر آر آئی یو جے کا وفد جب تھانہ پہنچا تو پولیس نے صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کی اور انہیں تھانے سے نکال دیا گیا۔

اس واقعہ پر آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز لیبر تحریک نے سرکاری ریڈیو کے 749 کنٹریکٹ ملازمین کی برطرفی کو حکومت اور سرکاری ملازمین کے مابین مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دے دیا۔ رہبرتحریک حاجی اسلم خان، یوٹیلٹی اسٹورز سی بی اے کے چیئرمین سید عارف حسین شاہ، PTUDC کے ڈاکٹرچنگیزملک، میونسپل لیبر یونین کے راجہ مجید، پی آئی اے کے رمضان لغاری پاک پی ڈبلیو کے ذیشان شاہ، سول ایویشن کے خالد خان او جی ڈی سی ایل کے ملک اخلاق اور دیگر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ محمد اعجاز جنرل سیکرٹری سی بی اے یونین ریڈیو پاکستان اور ان کے پرامن احتجاج کرنے والے ساتھیوں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ظلم بھی ہو اور احتجاج بھی نہ ہو، ایسا ممکن نہیں۔ آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک ریڈیو پاکستان کے تمام برطرف ملازمین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ رہبر تحریک محمد اسلم خان اور دیگر قائدین ریڈیو پاکستان کے برطرف ملازمین سے یکجہتی کیلئے آج اسلام آباد پہنچیں گے۔

آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ٹرسٹ کے چیئرمین اکرام اللہ، فنانس سیکرٹری محمد توقیر، ایگزیکٹو ممبر صادق علی و دیگرنے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والے ریاست مدینہ کے دعویدار حکمرانوں نے سینکڑوں خاندانوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں۔ برسہا برس سے ریڈیو پاکستان میں خدمات انجام دینے والے اور اپنی جوانیاں اس محکمے پر لٹانے والے ورکرز کو آئی ایم ایف کی پٹھو حکومت کی جانب سے نکال باہر کرنا انتہائی تشویشناک عمل ہے جس سے ملک میں بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

شرافت اللہ زئی مرکزی صدر آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹا ف ایسو سی ایشن، محمود ننگیانہ مرکزی صدر، سرفراز خان قائد تحریک ریل مزدور اتحاد، محمد عنایت علی گجرمرکزی صدر یلوے لیبر یونین، ڈاکٹر سلمان حسیب صدر ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن پنجاب، اکبر میمن رہنما پاکستان سٹیل ملز اور نذر مینگل مرکزی چیئرمین PTUDC نے اپنے بیانات میں کہا کہ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں، پرامن احتجاج سب کا آئینی حق ہے۔ ہم حکومت کو واضح کر دیں کہ اگر گرفتار ملازمین کو رہا نہ کیا گیا اور انہیں ملازمتوں پر بحال نہ کیا گیا تو ہم ریڈیو پاکستان کی اس تحریک کو ملک کے ہر ادارے میں پھیلا دیں گے اور حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔

آج مورخہ 22 اکتوبرکو PFUJ اور ریڈیو پاکستان کے ملازمین کی جانب سے ملک کے تمام پریس کلبوں کے باہر جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی ادائیگی میں رکاوٹیں، ویج ایوارڈ اور میڈیا پر پابندیوں کے خلا ف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*