رحیم یارخان: جیٹھہ بُھٹہ شوگر ملز میں مزدور ہلاکتیں

تحریر: رؤف لنڈ

 مزدوروں کے زخموں سے رستے لہو کی پکار کا تقاضہ۔۔۔ ایک طبقاتی جنگ اور ایک غیر طبقاتی سماج

چند روز قبل سرمائے کے پجاریوں کے کماد کے ذریعہ چینی بنانے کے کارخانے (شوگر ملز) جو کہ درحقیقت مزدوروں کے لہو کے بل بوتے پر دولت اگلتی مشینیں ہیں ایک واقعہ ہوا، ایک سانحہ ہوا۔ شوگر مل کا بوائلر پھٹا جس کے نتیجہ میں بہت سے مزدور جھلس گئے۔ اس وقت تک ایک مزدور کے مرنے کی اطلاع ہے۔ ملز انتظامیہ نے اسے ایک حادثہ قرار دیا ہے جو ایک مجرمانہ خباثت ہے۔ حادثہ اس واقعہ کو کہتے ہیں کہ جو انسانی وہم و گمان میں نہ ہو۔ یہاں سرمائے کے جُغادری جن مزدوروں کا لہو نچوڑ کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں وہ ان مزدوروں کو انسان سمجھنے سے عاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مزدوروں کے تحفظ کیلئے مشینری کے حفاظتی سامان پر سرمایہ خرچ کرنےکی بجائے اپنی کمائی کے ان اداروں میں دعائیہ تقریبات کے انعقاد پر تھوڑی سی رقم سعادت, عبادت اور ایسی ذہن سازی پر صرف کرتے ہیں۔ تا کہ اس کارخانے میں جو مزدور کسی بجلی کے جھٹکے یا کسی مشین کے کل پرزے کی زد میں آ کر ہلاک ہو تو یہ سمجھا جائے کہ یہ اس مزدور کا اپنا قصور ہے یا پھر چونکہ اس کی تقدیر میں یہ لکھا جا چکا تھا لہذا ایسا ہونا اٹل و ناگزیر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت تک کی اطلاع کے مطابق نا تو شہید اور زخمی مزدوروں کے لواحقین کو معاوضہ دیا گیا ہے نا ان کی جگہ ان کے وارثوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ اور نہ ہی شوگر ملز کے اندر حفاظتی انتظامات کو لیبر قوانین کے مطابق بہتر کیا گیا ہے۔

یہ بھی ایک دہشت گردی ہے۔ یہ دہشت گردی کسی خود کش بم دھماکے سے کم واردات نہیں بلکہ ایک لحاظ سے زیادہ ابتر واردات ہے کیونکہ خودکش حملے میں حملہ آور خود بھی مرتا ہے اور اس کے پتہ لگ جانے پر اس کی نسلیں بھی برباد ہو جاتی ہیں۔ جبکہ ادھر دولت پیدا کرنے کارخانوں دھماکوں سے مزدور مرتے ہیں اور مالک نہ صرف بچ جاتے ہیں بلکہ وہ زیادہ منافع کمانے کی مبارکبادیں وصول کرتے پائے جاتے ہیں۔ اس سانحہ پر اس وقت تک کوئی ٹی وی پروگرام نہیں ہوا؟ زخمی مزدور جہاں زیر علاج ہیں ان ہسپتالوں کے ڈاکٹرز سے کوئی انٹرویو نہیں کیا گیا کہ پتہ چل سکے کہ جل جل کر سسکنے والے محنت کشوں کے جسمانی زخموں کے اندمال کے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ ضلعی پولیس کا کوئی بڑا آفیسر وردی پہن کر اپنی نفری سمیت مل مالک کے ڈیرے پر نہیں گیا کہ اس سانحہ کی تفتیش کا آغاز کر سکے۔ وردی میں ملبوس پولیس کے یہ آفیسرز, میڈیا مالکان یہ تکلیف کریں تو کیونکر ؟ کریں تو کھائیں کہاں سے ؟ انصاف کی حکومت باز پرس کرے تو کیسے کرے کہ اپنے ان گماشتوں کی دولت اور قد کے ذریعہ تو انہیں بڑکیں مارنے والی سعادت اور کرسی نصیب ہوئی ہے۔۔

مگر پاکستان بھر میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے ذمہ داران ان مزدوروں کے حقوق کی آواز بلند کرنے کا پروگرام دے رہے ہیں۔ اگر شوگر ملز انتظامیہ نے مزدور قوانین کے مطابق حفاظتی انتظامات نہ کئے اور متاثریں کو معاوضوں کی ادائیگی نہ ہوئی تو ایک کا دکھ، سب کا دکھ۔، ایک کا زخم، سب کا زخم کے نعروں کے ساتھ مذہبی جنگ نہ ذاتی جنگ، طبقاتی جنگ طبقاتی جنگ۔۔۔۔ قومی جنگ نہ ذاتی جنگ، طبقاتی جنگ طبقاتی جنگ کے بینر تلے اپنے مزدور بھائیوں کی جنگ کا آغاز کریں گے۔ یہ جنگ اظہار اور آغاز ہوگا اس بڑی جنگ کے عزم کا جس کی حتمی فتح سوشلسٹ سماج کا قیام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*