لاہور: اسٹیل ملز سے جبری برطرفیوں، پاکستان ریلوے کی تقسیم اور حقوق پر ڈاکے کے خلاف بھرپور جدوجہد کریں گے، ریل مزدور اتحاد

 رپورٹ: محمد عاصم، مرکزی انفارمیشن سیکرٹری، ریلوے لیبر یونین

ریلوے ورکر یونین سی بی اے ورکشاپس، ریلوے لیبر یونین (رجسڑڈ)، ڈپلومہ انجینر فیڈریشن اور سپروائزر ویلفیر ایسویسی ایشن پر مشتمل ریل مزدور اتحاد کے مرکزی قائدین کا ایک اجلاس صدر ریل مزدور اتحاد میاں محمود ننگیانہ منعقد ہوا۔ جس میں میاں خالد محمود، محمد سرفراز خان، چوھدری عنایت علی گجر، رانا معصوم علی، رانا غلام محمد، محمد شہزاد جاوید، محمد عاصم، اشرف کمبوہ، رؤف خان، محمد عمران، شفیق تنولی، رفاقت سمیت مرکزی اور ڈویثرنل قائدین نے شرکت کی۔

اجلاس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا کہ ریلوے میں سالانہ ترقیاں بند کیا جانا کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ 14 اکتوبر 2020 اسلام آباد دھرنے میں وعدہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواؤں اور پنشن میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ سکیلوں کی اپ گریڈیشن کی جائے۔ پرائم منسٹر اور ٹی ایل اے ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ شیخ رشید احمد کے وعدہ کے مطابق عرصہ 3 سال سے ریٹارئر ہونے والے اور فوت ہونے والے ملازمین کی گریجویٹی سمیت تمام بقایاجات فوری طور ادا کیا جائے۔ کمپنیاں بنا کر ملازمین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی ناپاک سازش ختم کی جائے۔ ورکشاپوں کے ملازمین کی ماہانہ تنخواہ بنکوں کی بجائے سابقہ پالیسی کے مطابق ورکشاپوں میں ہی ادا کی جائے۔ ریلوے میں خالی آسامیاں پر فوری طور پر پرموشن کی جائے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر سٹیل مل کے ملازمین کی جبری برطرفیوں کی شدید مذمت کی گئی اور سٹیل مل کے ملازمین کی جدوجہد کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔ مطالبات پر غور نہ کرنے پر مورخہ 7 دسمبر 2020 کو ریل مزدور اتحاد میں شامل تمام تنظموں کے عہداران اور کارکنان کا بھرپور اجلاس ہوگا۔ جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے اپنے ماضی کو دہراتے ہوئے ریل مزدور اتحاد جہدوجہد کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرے گا۔