ریلوے انتظامیہ کا ہزاروں ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ

رپورٹ: PTUDC لاہور

سپریم کورٹ کی ہدایات پرریلوے انتطامیہ نے ملازمین میں کمی کا فیصلہ کر لیا، سیکرٹری ریلوے کی ہدایات پر تمام شعبہ جات میں موجود افسران و ملازمین کی اضافی تعداد کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، ملازمین کی ڈاؤن سائزنگ کے حوالے سے ایڈیشنل جنرل مینجرز نے ماتحت شعبہ جات کو مراسلہ جاری کر دیا۔ ایڈیشنل جنرل مینجر ریلوے نے مختلف شعبہ جات کی کمیٹیاں بنا دیں۔ وزارت ریلوے کی ہدایات پر ایڈیشنل جنرل مینجرز کی جانب سے ماتحت شعبہ جات کو مراسلہ جاری کر دیا۔ مراسلے کے متن کے مطابق کمیٹیوں کو تمام شعبہ جات میں موجود افسران و ملازمین کی تعداد کا جائزہ لینے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ کمیٹیاں مختلف شعبہ جات میں ملازمین کی تعداد اور موجودگی جائزہ لینے کے بعد سفاشات پیش کریں گی۔

مراسلہ کے مطابق ریلوے کے تمام شعبہ جات میں 15 فیصد تک ملازمین کی تعداد میں کمی کی جائے گی، پہلے مرحلے میں سول انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، سگنلنگ اینڈ ٹیلی کام، آئی ٹی اور الیکٹریکل برانچ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمیٹیاں 7روز کے اندر ملازمین کی تعداد کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ ایڈیشنل جنرل مینجر کو ارسال کریں گی۔ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں کل 76,000 ملازمین کام کر رہے ہیں اس حکم نامہ کے مطابق ابتدا میں 11,400 ملازمین کو برطرف کیا جائے گا۔

ریلوے میں بھی پاکستان سٹیل ملز کی طرز پر پہلے سپریم کورٹ کو استعمال کرتے ہوئے محنت کشوں کی برطرفیاں کیں جا رہی ہیں، یہ فیصلے دراصل عوامی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کے محنت کشوں نے جبری برطرفیوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے اسی طرح ریلوے کے ملازمین میں بھی اس فیصلے کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ریلوے لیبر یونین کے مرکزی صدر عنایت گجر نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ محنت کش جبری برطرفیوں اور ادارے کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں اور وہ اس فیصلے کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔

سٹیل ملز سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رکے گا نہیں، اس کے بعد دیگر عوامی اداروں مثلاًواپڈا، پوسٹ آفس میں بھی رائٹ سائزنگ کے نام پر ان کی نجکاری کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہم حکومت اور سپریم کورٹ کے مزدور دشمن فیصلوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عوامی اداروں کے تحفظ کے لئے محنت کشوں کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ تمام ٹریڈ یونین قیادت کو اب متحد ہو کر نجکاری کے خلاف گرینڈ الائنس بنا کر مشترکہ احتجاج کی کال دینا ہو گی۔ یہی محنت کشوں اور تمام اداروں کی بقا کا واحد راستہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*