لاہور: مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ریلوے کی 15 ٹریڈ یونینز متحد، آل پاکستان ریلوے ٹریڈ یونین الائنس کا قیام

رپورٹ: PTUDC لاہور

ریلوے کی 15 ٹریڈ یونین پر مشتمل ریل مزدور اتحاد اورریل مزدور محاذ نے ملازمین کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر جہدوجہد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس امر کا فیصلہ آج لاہور میں منعقدہ مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں شامل تمام یونین کے قائدین نے متفقہ طور پر مشترکہ جدوجہد کے لئے اتحاد کا نام آل پاکستان ریلوے ٹریڈ یونین الائنس تشکیل دیا۔  آل پاکستان ریلوے ٹریڈ یونین الائنس کا صدر میاں محمود علی ننگیانہ اور جنرل سیکٹری راؤ نسیم کو منتخب کیا ۔ اس کے علاوہ دس رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ اجلاس میں میاں محمود علی ننگیانہ، محمد سرفراز خان، میاں خالد محمود، چوھدری عنایت علی گجر، منظور رضی، راؤ نسیم، قاضی نعمت اللہ، رانا معصوم علی، جعفر خان، علی مردان خان، منیر احمد چٹھہ، انور گجر، ملک ظفر، محمد عاصم، محمد عمران، شفیق تنولی، ذوالفقارکمانڈو، رانا حشمت علی، اکبرعلی کھوکھر، حاجی امانت علی، شہزادہ جاوید، منصور سفری، صدیق بیگ سمیت لاہور میں موجود مرکزی رہنماؤں نے شرکت کی۔ الائنس کے مطالبات درج ذیل ہیں؛ 

1۔ ملازمین کی چھانٹی کا سلسلہ بند کیا جائے۔

2۔ ریلوے کی نجکاری کا منصوبہ ختم کیا جائے۔

3۔ ریلوے میں لاکھوں روپے پر H.R سمیت تمام آؤٹ سورس کی اسامیاں ختم کر کے ریلوے کو مزید خسارے سے بچایا جائے۔

آئی ایم ایف کی بدنام زمانہ ادارہ جاتی اصلاحاتی پالیسی کے تحت پاکستان ریلوے کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ جس کے تحت ریلوے ہولڈنگ کمپنی کو پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی طرز پر امبریلا آرگنائزیشن کے طور پر فریٹ ٹریفک مینجمنٹ کمپنی، پیسنجر ٹریفک مینجمنٹ کمپنی اور انفراسٹرکچر مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ ساتھ تشکیل دیا جائے گا۔ یعنی واپڈا کی طرح پاکستان ریلوے کی وحدت کو ختم کرتے ہوئے اسے مختلف کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی چینی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے حامل روابط کے لیے ایک مکمل طور پر علیحدہ ML-1 اتھارٹی بھی قائم کی جائے گی۔ نجی سرمایہ داروں کے لئے پاکستان ریلوے کو پرکشش بنانے کے لئے پہلے مرحلے میں 40 فیصد محنت کشوں کو جبری برطرف کرنے کی تیاریاں کیں جارہی ہے۔ حکومت نے 15 مسافروں اور دو مال بردار ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریلوے کی اراضی اور اسٹیشنوں کی ترقی اور انتظام کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے منصوبے جلد ہی شروع کیے جائیں گے۔ آسان الفاظ میں ریلوے کے قیمتی اثاثوں کو ٹکڑوں میں بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ واپڈا کی مثال یہاں دہرائی جا رہی ہے جہاں پہلے واپڈا کی وحدت کو تحلیل کرتے ہوئے اس کے مختلف شعبوں پر علیحدہ کمپنیاں بنائی گئیں اور ان کمپنیوں کے بورڈآف ڈائریکٹر میں سرمایہ داروں کو بٹھا کر اداروں کو برباد کیا گیا۔

اس کیفیت میں جدوجہد ناگزیر عمل بن چکا ہے، ریلوے کے بڑے اتحادوں کا باہم متحد ہو کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ یقین طور پر مزدور تحریک میں اہم پیش رفت ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC،  آل پاکستان ریلوے ٹریڈ یونین الائنس کے قیام پر تمام رہنماؤں کو مبارکباد پیش کرتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہی واحد راستہ ہے۔ PTUDC محنت کشوں کے ہراول دستے کے طور پر ریلوے کے محنت کشوں کو یقین دلاتی ہے کہ ہم ہر جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہونگے اور آئی ایم ایف کے نظام کے خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔