لاہور: ریلوے کے محنت کشوں کے سامنے حکومت جھکنے پر مجبور، پہیہ جام ہڑتال موخر

رپورٹ: PTUDC لاہور

ریل مزدور اتحاد کے پلیٹ فارم سے ریلوے کے محنت کش آئی ایم ایف کے ایما پر تیار وفاقی بجٹ میں محنت کشوں کو نظر انداز کرنے اور اپنے تین نکاتی مطالبات کے لئے جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں۔ وفاقی بجٹ پیش ہونے کے فوراً بعد سے ہی روزانہ کی بنیاد پر ریلوے کے مختلف شعبوں میں روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کئے جا رہے تھے۔ اس سلسلے میں 14جولائی کو لاہور ہیڈ کواٹر میں ریل مزدور اتحاد کے زیراہتمام ہزاروں ریل مزدوروں نے شاندار احتجاج کیا۔ اسی دن قائدین کی جانب سے 5 اگست کو ملک گیر ریل کے پہیہ جام کی کال دی گئی۔ جس کے لئے بھرپور تیاریوں کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC جو کہ ریلوے کے احتجاج کے پہلے دن سے ہی ان کے ساتھ کھڑی ہے، اسی دوران PTUDC نے ریل کے پہیہ جام کی کال کو دیگر اداروں اور یونینز کی جدوجہد کے ساتھ جوڑتے ہوئے ملک گیر مہم کا آغاز کیا۔ انہی کوششوں کی وجہ سے لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، ملتان اور دیگر شہروں میں PTUDCاور ریل مزدور اتحاد کی مشترکہ کاوشوں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے گئے جس میں ملک بھر کی 50 سے زائد بڑی یونینز نے اس جدوجہد میں شامل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے آل پاکستان ایمپلائز لیبر تحریک کے پلیٹ فارم کو تشکیل دیا۔ اس پلیٹ فارم سے ایپکا پاکستان کے مرکزی صدر حاجی ارشاد چوہدری نے 5اگست کو ملک بھر کے دفاتر کی تالا بندیوں کا اعلان کیا، سول ایوی ایشن ایمپلائز یونٹی کے صدر شیخ خالد، پیپلز یونٹی پی آئی کے صدر رمضان لغاری اور دیگر یونینز کے قائدین نے بھی 5اگست کو ایئرپورٹس بند کرنے اور احتجاجات کا اعلان کیا۔ اسی ضمر میں ہر بدھ کے روزایپکا پاکستان کے پلیٹ فارمز سے جاری مظاہروں میں ریلوے کے ساتھ بھر پور یک جہتی کا اظہار کیا گیا اور ریل مزدور اتحا د کے قائدین بھی ان مظاہروں میں شریک ہوتے رہے۔

اس جدوجہد اور پریشر کے باعث کل مورخہ 29جولائی کو وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے اپنی بیماری کے باوجود ریل مزدور اتحاد کے قائدین کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مذاکرات کے لئے دعوت دی۔ ریل مزدور اتحاد کے وفد محمد سرفراز خان، چوہدری عنایت علی گجر، میاں محمود ننگیانہ، میاں خالد محمود، راجہ رضوان ستی، رانا معصوم اورعلی مردان نے شیخ رشید سے ملاقات کی اور مذاکرات کے بعد ان کے مطالبات منظور کرتے ہوئے فوری طور پر احکامات جاری کر دیے۔ ریلوے محنت کشوں کے مطالبات میں ٹیکنیکل الاؤنس میں 25فیصد اضافہ کی فوری منظوری کے ساتھ سکیل اپگریڈیشن اور وزیر اعظم پیکج کے تحت بھرتی ہونے والے ملازمین کی ریگولرائزیشن کے حوالے سے آرڈز کی منظوری کے لئے وزیر اعظم آفس مراسلہ جاری کر دیا۔ ریل مزدور اتحاد کے صدر محمود ننگیانہ، قائد تحریک سرفراز خان اور دیگر رہنماؤں نے لاہور واپسی پر ریلوے اسٹیشن پر ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہڑتال کی کال واپس نہیں لی بلکہ صرف اس کو موخر کیا ہے، مزدور اتحاد کی وجہ سے برسوں سے التوا کا شکار ہمارے مطالبات کو حکومت نے تسلیم کر لیا ہے۔ تاہم یہ جدوجہد کا صرف ایک پڑاؤ ہے، ادارے کی نجکاری اور جبری بر طرفیوں کے خلاف ہماری جدوجہد ہر محاذ پر جاری رہے گی۔

PTUDC کی جانب  سے ہم ریلوے کے محنت کشوں اوران کے قائدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، ریلوے کے محنت کشوں کی جدوجہد نے ثابت کیا کہ حالات جیسے بھی ہوں لیکن جدوجہد سے ظالم حکمرانوں سے اپنا حق چھینا جا سکتا ہے۔ ریلوے کے محنت کشوں نے ثابت کیا کہ لڑا جا سکتا ہے اور جیتا جا سکتا ہے۔ ہم محنت کشوں کی زندگیوں میں آنے والی بہتری کو خوش آمدید کہتے ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں جس قدر حملے ہو رہے ہیں اس صورتحال میں متحد ہو کر جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ لہٰذا اپنے اتحاد کو مضبوط بناتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمہ تک جدوجہد جاری رہے۔
تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*