محنت کش طبقے کی بقا کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، رضا خان سواتی

اہتمام:PTUDC حیدرآباد

نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کو قائم ہوئے 18 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی دیگر اداروں کی طرح اس ادارے کے محنت کشوں کا بھی نہ صرف تیز ترین استحصال جاری ہے بلکہ اس ادارے کے محنت کش بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور کالے قوانین کی زد میں ہیں، جن کا موجودہ دور اور نادرا جیسے منافع بخش ادارے میں ہونا کسی المیے سے کم نہیں۔ نادرا کے محنت کشوں کے حقوق کے لئے کی گئی جدوجہد میں رضاخان سواتی ایک ایسا باب ہیں جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ جہاں وہ نادرا کے محنت کشوں کے لئے سرگرم ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے پلیٹ فارم سے سٹیل ملز سمیت مختلف اداروں کے محنت کشوں کے لئے بھی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے سابقہ صدر رضا خان سواتی کوایک بار پھر محنت کشوں اور نادرا ملازمین کے حقوق کی مسلسل جدوجہد کی پاداش میں ادارے سے جبری برطرف کردیا گیا ہے۔ یہ ٖفیصلہ ایک سال کی طویل انکوائری کے بعد اچانک 16 جولائی کو انتظامیہ کی جانب سے ایسے حالات میں جاری کیا گیا جب کورونا وبا کی وجہ سے ملک کے اکثریتی محنت کش بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔

اس سلسلے میں نادرا کے محنت کشوں کی آواز دیگر اداروں کے محنت کشوں تک پہنچانے کے لئے PTUDC نے نادرا ایمپلائز یونین سندھ کے صدر رضا خان سواتی سے 2018ء میں انٹرویو کیا جسے ہم اپنے قارئین کے لئے دوبارہ شائع کررہے ہیں۔

نادرا کے قیام کو کتنا عرصہ گزر چکا ہے اور پرانے رجسٹریشن کے ادارے سے یہ ادارہ کس طرح مختلف ہے اور محنت کشوں کی حالات زار میں کیا فرق پڑا ؟

نادرا 8 مارچ 1999ء کو قائم ہوا اس سے قبل رجسٹریشن کا ادارہ ہوا کرتا تھا جو کہ مینوئل کارڈز جاری کیا کرتا تھا اس ادارے کے قیام کی وجہ مختلف کام تھے۔ رجسٹریشن کے ادارے میں محنت کشوں کو بڑے پیمانے پر مراعتیں دی گئیں جو کہ بھٹو کے دور 1972 سے جاری تھیں اُس وقت ادارے میں صرف ایک ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہوا کرتا تھا لیکن جہاں ایک طرف نادرا کے وجود میں آنے کے بعد ادارے میں محنت کشوں کی تعداد کو یا تو کم کیا گیا یا پھر نئی بھرتیوں کو مستقل ملازمت کے بجائے بطورکا نٹریکٹ ملازم رکھا گیا۔ پردوسری جانب جس ادارے میں ایک ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تھا وہاں اعلیٰ آفیسر چیئرمین کو رکھتے ہوئے 7 ریجنز کے الگ الگ ڈی جیز بنا دیئے گئے۔ جنہیں بے شمار مراعتوں سے نوازا گیا اور کسی ادارے میں اتنے ڈی جیز دیکھنے کو نہیں ملتے ۔ ان ڈی جیز میں زیادہ تر افراد آرمی سے لئے گئے یہاں تک کہ نادرا کے پہلے چیئرمین بریگیڈیئر سلیم موئن کو تعینات کیا گیا، اس وقت نادرا میں کل 29 ڈی جیز موجود ہیں جن میں 19 ملٹری سے ریٹائرڈ ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک حکم نامہ کے مطابق کسی بھی ملازم کو ریٹائر ہونے کے بعد BPS یا گریجویٹی نہیں دی جاسکتی۔ لیکن ڈی جی صاحبان کو دوبارہ سرکاری مراعاتیں دیں گئیں۔ افسران کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ محنت کشوں کی زندگیاں اجیرن ہوتی گئیں، نادرا بننے کے بعد شروعات کے دو سال 2000 سے 2002ء تک ڈیٹا اکھٹا کرنے کا کام جعفربرادرز نامی ایک کمپنی سے کروایا جاتا رہا۔ لیکن اس کے بعد نادرا کا اپنا ڈیٹا بیس تشکیل دیا گیا۔ جس کے بعد یہ ادارہ بڑے پیمانے پر منافع بخش ثابت ہوا اور ملکی معیشت کے لئے سہارہ بنا، سرکاری اعداوشمار کے مطابق اس وقت یہ ادارہ 4 کھرب سے زائد آمدن رکھنے والا ادارہ ہے لیکن بدقسمتی سے آج 16 سال گزر جانے کے بعد بھی یہ ادارہ اپنا آڈٹ تک نہیں کروا سکا جوکہ اس کی سب سے بڑی نالائقی میں شمار ہوتا ہے۔

نادرا بننے کے بعد پرانے رجسٹریشن ملازمین کا کیا کیا گیا اور سرکاری گریڈز اس وقت ادارے میں کس طرح دیئے جاتے ہیں؟

رجسٹریشن ادارے کے ملازم تمام ترسرکاری مراعت رکھا کرتے تھے لیکن نادرا کے بننے کے کچھ ہی عرصے بعد ان ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو کرپشن ، کمپیوٹر کی معلومات نہ ہونا یا دیگر الزامات کی زد میں ادارے سے نکال دیا گیا اور نئے ملازمین کو کانٹریکٹ اور ایڈہاک پر ادارے میں رکھا گیا۔ ادارے کے پرانے تمام ملازمین سرکاری پالیسی کے مطابق BPS کیڈر میں رکھے جاتے تھے جبکہ اس کے بعد NPS میں رکھے گئے، یہ ادارہ شاید اس وقت واحد ادارہ ہے جہاں 8 سے زائد کیڈرز موجود ہیں۔ ادارے میں ہونے والی سب سے بڑی ڈاؤن سائزنگ 2007ء میں دیکھی گئی جب 3000 سے زائد ملازمین کو برطرف کرتے ہوئے ان کے چولہے بجھا دئیے گئے۔ بچے ہوئے ملازمین کو” چائنا BPS “کا لولی پاپ دے دیا گیا جس میں نہ ہی Leave پالیسی واضح ہے اور نہ ہی یہ ادارہ اپنے APT رولز بنا سکا، کسی قسم کی کوئی گریجویٹی یا ریٹائرمینٹ پالیسی بھی ابھی تک واضح نہیں۔ ان تمام چیزوں کے واضح نہ ہونے کی وجہ سے کسی ناجائزی کے خلاف کوئی بھی ملازمین قانونی طور پر انہیں چیئلنج نہیں کرسکتا ۔ 2010ء کے بعد BPS ملازمین کو کوئی پروموشن نہیں دیا گیا جبکہ پرانے ملازمین کے لئے بھی پچھلے دس سالوں سے کوئی پروموشن بورڈ نہیں جوڑا جاسکا۔

کانٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کی حالت زار بیان کریں؟

نادرا میں افسران اور ملازمین کی تنخواہوں میں واضح فرق دیکھا جاسکتا ہے، جہاں ایک طرف ڈی جیز وغیرہ کی تنخواہوں کا تناسب 35 لاکھ تک لگایا جاسکتا ہے وہاں ایک عام ملازم کی تنخواہ سرکاری اعلان کردہ 13 ہزار روپیوں سے بھی کم ہے جو کہ اس وقت 12 ہزار یا اس سے کم ادا کی جارہی ہے ۔ ان تمام کانٹڑیکٹ ورکرز سے اس آسرے پر کام لیا جاتا ہے کہ انہیں جلد مستقل کیا جائے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے جنوری 2012 میں ملازمین کی جانب سے چلائی جانے والی ملک گیر تحریک کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے 28 فروری 2012 کے ایک سرکلر کے ذریعے 9500 ملازمین کو مستقل کیا گیا جبکہ باقی ملازمین کو یہ کہہ کر مستقل نہیں کیا گیا کہ ان کا ٹائم پورا نہیں ہوا ہے، وہ ملازم آج تک اسی طرح ادارے میں کام کرنے پر مجبور ہیں، حالات اس حد تک خراب ہیں کہ اگر کوئی ملازم بنا بتائے نماز پڑھنے بھی جاتا ہے تو انہیں شو کاز دے کر نکال دیا جاتا ہے ۔

جن ملازمین کو مستقل کیا گیا انہیں کون سی مراعاتیں دی گئیں؟

جس طرح میں نے اوپر بیان کیا کہ ملازمین کو صرف چائنا بی پی ایس کا لولی پاپ دیا گیا جوکہ میرے نزیک ان سے بہت بڑا کھلواڑ تھا، انہیں مستقل ملازمت دی گئی لیکن کسی قسم کی کوئی سروس بک اشو نہیں کی گئی اور نہ ہی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح تمام مراعاتیں دی گئیں، ٹیکنیکل اسٹاف جنہیں سرکاری گریڈز کے مطابق BPS 12 میں رکھا جانا چاہیے تھا انہیں BPS 7 اور 9 میں رکھا گیا جبکہ آفیسرز کو گریڈ 16 دیا گیا۔

نادرا میں یونین سازی کی کیا صورتحال ہے؟

نادرا میں یونینز موجود ہیں لیکن بہت زیادہ خوف و حراس کا ماحول بھی ساتھ ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ Essential Service Act 1952ء کسی بھی حوالے سے نادرا کے ملازمین پر لاگو نہیں کیا جانا چاہیے تھا لیکن الیکشن کے کام کے دوران یہ ایکٹ ادارے پر نافذ کردیا گیا، وقتی طور پر انہوں نے بے شک یہ کیا لیکن اس کے بعد اسے6 مہینے میں ہٹا دینا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور PIA، ملٹری و دیگر اداروں کی طرح اس ایکٹ کی وجہ سے ملازمین کو تمام تر جمہوری حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ اسی کے چلتے 2012ء کی تحریک کے دوران کئی ملازمین کو اپنی ہڑتال کرنے کے ”جرم“ میں ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا ۔ نادرا کے کسی ملازم کو اپنے مطالبات میڈیا پر لے جانے کی بھی اجازت نہیں ۔ نادرا انتظامیہ نے NIRC اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں یونین کو چیلنج بھی کیا ۔

حکومت نے کوئی چارٹر آف ڈیمانڈ منظور کیا ؟

6 مارچ 2015ء کو حکومت نے موجودہ چیئرمین عثمان یوسف موبین کے زریعے چاروں صوبوں سے یونین بیریئرز کو بلایا اور ان سے میٹنگ میں ایک مشترکہ چارٹر آف دیمانڈ منظور کیا گیا ، جس میں تمام ملازمین کو ایک سال کے اندر اندر سروس اسٹریکچر دیا جائے، میڈیکل کی سہولیات دی جائیں گی، ہاؤس ہائرنگ اور پرموشن بورڈ بنایا جائے گا، کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے گا شامل تھے ۔ لیکن ایک سال پورا ہونے بعد جب مطالبات میں سے کوئی ایک بھی منظور نہیں ہوا تو ہم نے احتجاج کا راستہ اپنایا جس کے دوران مجھ سمیت یونین کے 9 عہدیداران کو Essential Service Act کے تحت فارغ کردیا گیا ۔ جب یونین نے برطرف کرنے کی وجوہات جاننا چاہیں تو ادارے نے کہا کہ انہیں منسٹری نے فارغ کیا ہے اور دھمکی دی کہ اگر آئندہ کوئی یہ راستہ اپنائے گا تو وہ بھی اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

نادرا کی صورتحال کا تجزیہ کس طرح کریں گے اور محنت کشوں کے لئے کوئی پیغام؟

نادرا میں ایک وقت بادشاہت کا ماحول جاری ہے اور اسے ایک Banana State بنا دیا گیا ہے جہاں کوئی کسی کو اپنی مرضی کے تحت فارغ کرسکتا ہے جبکہ کوئی کسی سے پوچھنے والا بھی نہیں! ایک وقت نادرا میں 18 ہزار 600 ملازمین ہیں جن میں سے تقریبا 9 ہزار مستقل ہیں باقی تمام کانٹریکٹ ملازمین ہیں، ان تمام ملازمین کے روزگار کی کوئی ضمانت نہیں۔ سیاسی بھرتیوں کی وجہ نادرا سمیت ملک کے کئی ادارے برباد ہورہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نادرا کے پاس ایشیا کا بہترین ڈیٹا بیس موجود ہے، سب سے زیادہ اچھے IT سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس ادارے کے پاس ہیں لیکن مراعات نہ دینے کی وجہ سے وہ اس ادارے سے اب دور ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ایک منافع بخش ادارہ ہے اور اخراجات پورے کرسکتا ہے ، میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارے مطالبات فوری طور پر منظور کئے جائیں دیگر صورت میں ہمارے پاس سڑکوں پر نکل آنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا اور ہم اس لڑائی میں اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*