کامریڈ حیدر بخش جتوئی کو سرخ سلام

تحریر: رؤف لنڈ

عزم و ہمت، وقاروسرخروئی کی داستان ان تھک اور لا زوال جدوجہد کا استعارہ

کسی غریب، مظلوم، بے کس و بے بس کے حالات پہ کڑھنا ایک بات ہے اورغریبوں، مظلوموں، بے کسوں اور بے بسوں کے حالات بدل دینے کیلئے اپنے وسائل، اپنا وقت، اپنی توانائی، اپنی تعلیم اور طاقت وقف کردینا دوسری۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی (1901–1970) کے حصہ میں دوسری سعادت آئی زندگی کو سماج کے محروم طبقے کے حالات بدلنے کی جدوجہد کی سعادت۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی متحدہ ہندوستان میں اس وقت کے پڑھے لکھے تھے جب کسی کو اس کی علمی حیثیت کا طعنہ دینا مطلوب ہوتا تو کہا جاتا کہ’تم کون سا مڈل ( آٹھ جماعت ) پاس ہو ؟‘۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے بمبئی سے بی اے آنرز کیا ہوا تھا۔ اور تب انگریز سرکار کی ملازمت بھی اختیار کی۔ ڈپٹی کلکٹر کے عہدہ تک پہنچے کہ سامراجی غلامی کے کس بل کی سختی اور ذلت کو یوں محسوس کیا کہ صرف اپنی گردن سے نوکری کا طوق اتار ہی نہیں پھینکا، بلکہ ہر قسم کی نوکری، چاکری اور غلامی کے خاتمے کی جدوجہد کا عزم لے کر میدانِ عمل میں اتر کر اپنے وقت کے بڑے بڑے داخلی و خارجی سامراجی گماشتوں اور دلالوں کو بھر پور قوت سے للکارا۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے جہاں ( حیدر آباد سندھ میں) جنم لیا وہاں اس نے ابتر حالات میں کسانوں اور ہاریوں کو دیکھا۔ وہ ہاری جن کے معصوم بچوں پر ہی نہیں ان کے گھر کی عصمتوں پر بھی وہاں کے جاگیرداروں اور وڈیروں کا بلا روک ٹوک تصرف ہوتا تھا۔ انسانوں کی ایسی بے توقیری کو کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے اپنے علم، آدرش اور نظرئیے کی توہین سمجھا۔ اور کامریڈ نے کسانوں ہاریوں اور مزدوروں کے تیغِ جفا کے منتظر جھکے سروں کو اٹھانے اور قاتلوں کے ہاتھوں کو جھٹک دینے کی طاقت، احساس اور ہنر سے مسلح کرنے کیلئے بالادست طبقے کی ہر بےہودہ تفریق کو مسترد کر کے انہیں منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔

سندھ ہاری کمیٹی کو سرگرم کیا۔ اس کے صدر بنے تو سندھ کے چپے چپے میں کسانوں کے سجدہ ریزسرتمام سرداروں، وڈیروں، پیروں اور مخدوموں کے دیروں اور درگاہوں کے جبری تعظیم کے منکر ہونے لگے۔ سندھ کے کسانوں، ہاریوں اور کاشتکاروں کو جاگیروں کے مالک جب اور جس وقت چاہتے بے دخل کردیتے۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے ان کسانوں میں اپنے ہونے کی طاقت کا احساس یوں جگایا کہ 1950ء میں وزیراعلیٰ یوسف ہارون کی سندھ اسمبلی کا ہزاروں کسانوں اور ہاریوں کا ایسا گھیراؤ کیا کہ وہاں سے کسانوں اور ہاریوں کی مزارعت کے تحفظ کا قانون (سندھ ٹیننسی ایکٹ ) منظور کرا کر واپس آیا۔ ایوبی آمریت کے ہر جبری حکم کو جوتے کی نوک پہ رکھا۔ ون یونٹ کے خلاف مہم چلائی اور جی ایم سید کے ذریعہ سندھ اسمبلی سے ون یونٹ کے خلاف قرارداد منظور کرائی ۔ تقسیمِ بر صغیر سے پہلے انگریز سامراج اور تقسیم کے بعد سامراج کے گماشتہ پاکستانی حکمرانوں کے ہر عہد میں پابندِ سلاسل ہوئے مگر کبھی لمحہ بھر کو پائے استقامت میں کوئی لرزش آئی اور نہ کوئی لغزش۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے ہاریوں کے سیاسی مرکز کیلئے حیدرآباد میں اپنی جیب سے شاندار عمارت خرید کر ہاری منزل کے نام وقف اور منسوب کر دی۔ جہاں سندھ بھر سے نہیں برصغیر کے چپے چپے سے سیاسی ورکرز اور رہنما تربیت لینے لگے۔ اسی ہاری منزل میں چین کے وزیراعظم چو این لائی، بنگال کے شیخ مجیب، کیمونسٹ رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی، جی ایم سید، ذوالفقار علی بھٹو، فیض احمد فیض اور حبیب جالب نے خود آکر کامریڈ حیدر بخش جتوئی سے ملنے کو اپنی سعادت سمجھا۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی مزدوروں اور کسانوں کی رہنمائی اور تربیت کیلئے ہفت روزہ اخبار ’ہاری حقدار‘ نکالتے رہے۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے انقلابی شاعری بھی کی جسے آج بھی سندھی محنت کش مزدور کسان گانے اور پڑھنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور شکتی حاصل کرتے ہیں۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک غیر طبقاتی سماج کے خواب اور سوشلسٹ سماج کے نظریات کے یقین پر قائم رہے۔

کامریڈ حیدر بخش جتوئی کو سرخ سلام !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*