کامريڈ کھبڑ خان سيلرو کی تین نسلوں پر محیط جدوجہد کو سرخ سلام !

رپورٹ: سکندر سیلرو، شہدادکوٹ

ہاری جدوجہد کا درخشاں نام کامريڈ کھبڑ خان سيلرو تین نسلوں سے یعنی 70 سالوں سے مزدوروں، کسانوں کي نجات اور آزادی کی جدوجہد کرنے والا کسان رہنما چاچو کھبڑ خان سيلرواپنے ساتهيوں اور محنت کشوں ہميشہ کے لیے چهوڑ کر چلا گیا۔ کامريڈ کھبڑ خان سيلرو شهداد کوٹ کے گنے چنے چند مزدور کسان رہنماؤں ميں شامل تھے، جو کہ آخرتک سماجی تبديلی کے لیے لڑتے رہے۔

کامریڈ  کھبڑ خان نے مذہبی گهرانے میں جنم لیا، اس کے والد احمد خان مسجد کے پیش امام تهے۔ لیکن کامریڈ شروع سے ہی فکری، ذہنی طور پر باغی اور رائج سوچ سے منحرف تھے۔ بچپن ميں بکرياں چرواتے تھے،  آگے چل کر وہ مزدوروں اور کسانوں کے پروگراموں میں انقلابی گیت گا کر جوش و خروش پيدا کرتے رہے، کھبڑ خان کا گايا ہوا ايک گیت ’میڈا نام مزدور ہے‘ پورے ملک کے مزدوروں اور کسانوں میں مقبول ہے۔ کھبڑ خان نے سیاسی زندگی کا آغازکمیونسٹ پارٹي آف پاکستان کی سران ورکر یونین سے کیا۔ اس کے بعد کسانوں میں کام کرنے کے لیے کامريڈ حیدر بخش جتوئی کی سندھ ھاری کمیٹی میں شامل ہوئے۔

کسان جدوجہد کے دوران جب کسانوں نے سندھ اسمبلی کا گھیرا کیا، تو اس میں کامريڈ کھبڑ بھی شامل رہے تھے. ضيا مارشل کے دور میں جیلانی رائس مل لاڑکانہ کے بند کرنے کے خلاف جدوجہد کے دوران سات مہینے سینٹرل جیل سکھر میں قید رہے۔ کھبڑ خان جام ساقي کے ساتھی رہے، جام ساقی کی آزادی کے لیے جدوجہد میں شریک کار رہے تھے۔ 1990ء میں کمیونسٹ پارٹی کے ٹوٹنے کے بعد خاموش ہوگئے۔  2011ء ميں پاکستان کے اندر بالشویک انقلاب کے لیے انقلابی تنظیم طبقاتی جدوجہد ميں شامل ہوکر مزدور کسان جدوجہد ميں پهر سے مزدورں اور کسانوں کے لیے متحرک ہوگئے۔ آخری دم تک انقلابی ہاری جدوجہد میں شامل رہے۔

کامريڈ کھبڑ خان سيلرو کی تین نسلوں پر محیط جدوجہد کو سرخ سلام !