پاکستان میں مزدور تحریک کے بانی بابائے محنت کش، مرزا ابراہیم کو سرخ سلام

تحریر: PTUDC

برصغیربالخصوص پاکستان میں ٹریڈ یونین اور مزدور تحریک کے بانی بابائے محنت کش مرزا ابراہیم کو ہم سے بچھڑے ہوئے آج 21سال ہو چکے ہیں۔ 11 اگست 1999ء کوبرطانوی سامراج، ایوب خان اور ضیاالحق جیسے ظالموں کے سامنے ڈٹ جانے والے مرزا ابراہیم 94 سال کی عمرمیں زندگی کی بازی ہار گئے۔ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ انہوں نے قید و بند اور لاہور قلعے کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے گزارا۔ وہ ساری زندگی کارل مارکس کے سائنسی نظریے ’سوشلزم‘ پر کار بند رہے اور مزدور تحریک کو منظم کرتے رہے۔

مرزا محمد ابراہیم 1905ء میں پنجاب کے ضلع جہلم کے گاؤں کالا گوجراں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔غربت کی وجہ سے و ہ سکول میں رسمی تعلیم حاصل نہ کر سکے لیکن چھوٹی عمر سے ہی انہوں نے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ 16 سال کی عمر میں برصغیر پاک و ہند میں جاری تحریک خلافت میں فعال کردار ادا کرنے پرانہیں پہلی دفعہ گرفتار کیا گیا۔ 1924ء میں وہ راولپنڈی منتقل ہوئے، جہاں بھٹہ مزدور کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ انہوں نے مختصرعرصے کے لئے ایک برطانوی گھرانے میں باغبان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ آخر کار 1926ء میں انہیں جہلم میں ریلوے ورکشاپ میں ملازمت مل گئی اور یہی کام ان کی زندگی بھر کی شناخت بن گیا۔ 1930 میں ان کا تبادلہ لاہور کر دیا گیا جہاں ان کا رابطہ وہ ٹریڈ یونین تحریک اور بائیں بازو کے رہنماؤں سے ہوا۔ ریلوے میں این ڈبلیو آر یونین مضبوط تھی جس کے صدر ایک انگریز جے بی ملر تھے جبکہ جنرل سیکرٹری ایم اے خان تھے۔ مرزا صاحب مغلپورہ کے صدر مقرر ہوئے۔ مغربی بنگال کے طویل عرصے سے کمیونسٹ وزیر اعلی جیوتی باسو بھی اس وقت مرزا ابراہیم کی قیادت میں ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں سرگرم عمل تھے۔ 1935ء میں باقاعدہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیبرونگ کے انچارج بن گئے۔ اسی زمانے میں ”ریلوے مین فیڈریشن“ کی بنیاد پڑی جس کے مرکزی سینئر نائب صدر مرزا ابراہیم مقرر ہوئے جبکہ صدر وی وی گری منتخب ہوئے جو بعد میں بھارت میں صدر بھی رہے۔ تقسیم سے ایک سال قبل یکم مئی 1946ء کو ہندوستان بھر میں ریلوے کے مزدوروں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور چھانٹیوں کے خلاف مکمل ہڑتال کردی جس کی قیادت مرزا محمد ابراہیم کررہے تھے۔ اس ہڑتال کی بدولت ایک لاکھ مزدوربیروزگار ہونے سے بچ گئے اور پے کمیشن نے 9 کروڑ روپیہ مزدوروں کی تنخواہوں کی مد میں دیا۔ تقسیم کے فوری بعد اپنی انقلابی سرگرمیوں کی وجہ سے مرزا ابراہیم کو ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا اور وہ پاکستان کے پہلے سیاسی قیدی بنے۔ وہ 17 مرتبہ جیل گئے، 6 مرتبہ لاہور قلعہ میں نظر بند رہے۔ پاکستان میں پہلی ٹریڈ یونین فیڈریشن یعنی پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی تو اس کے پہلے صدر مرزا ابراہیم مقرر ہوئے جبکہ نائب صدر فیض احمد فیض‘ آفس سیکرٹری ایرک اسپرین‘ جوائنٹ سیکرٹری فضل الٰہی قربان اور سندھ کے صدر سوبھوگیان چندانی مقرر ہوئے۔ یہ بھی کوئی حادثہ نہیں کہ ہندوستان کے رجعتی بٹوارے کے بعد پاکستان میں زیادہ تر ریل مزدور مضبو ط اور لڑاکا یونینزمیں منظم تھے۔ یکم فروری1967ء کی ریلوے ہڑتال ملک کی تاریخ کی بڑی ہڑتالوں میں شامل ہے جس میں پاکستان ویسٹرن ریلوے مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ زیادہ تر گاڑیاں کینسل کر دی گئیں، جو راستے میں تھی وہیں رک گئیں۔ ان دنوں ریلوے میں ’ریلوے مزدور یونین‘ کی قیادت ایم اے رحیم اور’ریلوے یونائیٹڈ یونین (سی بی اے)‘ کی قیادت عمر دین کے پاس تھی مگر ان دونوں یونینز کی قیادت نے ہڑتال کی مخالفت کی جبکہ بائیں بازو کی واحد مرزا ابراہیم کی ریلوے ورکرز یونین تھی جس نے ہڑتال کی حمایت کی۔ ریلوے کی یہ ہڑتال 13روز تک جاری رہی اور پرانے ٹریڈ یونین لیڈران نے اس وقت بیان دیے کہ’ہم نے برصغیر کی تاریخ میں ریلوے کی ایسی ہڑتال نہ کبھی دیکھی نہ سنی‘۔ حکومت نے اس وقت مرزا ابراہیم کو گرفتار کر لیا اورریلوے مزدوروں پر جبر و استبدادشروع کر دیا گیا۔ لیکن پھر بھی ریلوے کی یہ تحریک کامیاب رہی جس نے ایوب خان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اسی طرح ضیاالحق دور میں بھی مرزا ابراہیم کی قیادت میں ریلوے ورکرز یونین آمریت کے خلاف جدوجہد کرتی رہی۔ آمریت کے خلاف بائیں بازو کے اتحاد ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ کی ریلوے کے محنت کشوں نے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ 26 اکتوبر 1983 ء کو ریلوے ورکرز یونین نے لاہور مغل پورہ ورکشاپس سے جلوس نکالا اور مارشل لا کے خلاف نعرے لگائے۔ جلوس میں تقریبا دس ہزار محنت کشوں نے حصہ لیا۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اورمحنت کشوں کے رہنما بشیر ظفر زخمی ہوگئے۔ پولیس نے مظاہرین کو ریلوے کے احاطے تک محدود رکھنے کی کوشش کی۔ کارکن جارحانہ ہوگئے اور بسیں، کاریں اور پیٹرول اسٹیشن جلا دیئے۔ انہوں نے جنرل ضیا کے پورٹریٹ بھی نذر آتش کر دیے۔ تمام تر مشکلات اور ریاستی جبر کے باوجود ریلوے محنت کشوں کی جدوجہد جاری رہی اور 1985ء میں پہلی مرتبہ ٹیکنیکل الاؤنس سمیت دیگر مطالبات منظور کروانے میں کامیاب ہوئے۔

آج مرزا ابراہیم کی برسی ایسے وقت میں منائی جا رہی ہے جب پاکستان اپنے تاریخی معاشی اور سماجی بحران سے گزر رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کے ایماء پر محنت کشوں پر سخت حملے کر رہی ہے۔عوام کی بڑی اکثریت مہنگائی، لاعلاجی اور بیروزگاری جیسے عذابوں کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف کی ایما ء پربے رحمانہ نجکاری پالیسی اور رائٹ سائزنگ جیسے عوام دشمن منصوبوں کو لاگو کیا جا رہا ہے۔ ریلوے میں بھی چھانٹیوں اور نجکاری کی تلوارچلانے کی کوششیں تیز کیں جا رہی ہیں۔ لیکن آج ریل مزدور اتحاد کی شکل میں ریلوے کے محنت کش مرزا ابراہیم کی تعلیمات اور نظریات پر عمل پیرا ہیں اور مزدور اتحاد کے ذریعے ان حملوں کا بھرپور جواب دینا جانتے ہیں۔ مرزا ابراہیم نے اپنی ساری زندگی ملک میں سوشلسٹ انقلاب کے لئے وقف کر دی۔ ان کے طریقہ کار کا اہم جزو ریلوے کے محنت کشوں میں چھوٹی ’تربیتی نشتوں‘ کی شکل میں نظریات کی آبیاری تھا، آج کے دور میں اس کا دوبارہ آغاز نہایت ضروری امر بن چکا ہے۔ مرزا ابراہیم کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کا واحد طریقہ ملک میں ایک سوشلسٹ انقلاب برپا کرنا ہے اور وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں محنت کشوں کی ہر اٹھنے والی انقلابی تحریک کا آغاز پھر ریلوے سے ہوا۔ آج انسانیت کی بقا کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے جس کے لئے جدوجہد تیز سے تیز کی جانا ناگزیرعمل بن چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*