کراچی: پاکستان اسٹیل ملز کے فولادی محنت کشوں کی بغاوت

رپورٹ: PTUDC کراچی

کل مورخہ یکم دسمبر کو آل ایمپلائز ایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل ملز کی کال پر محنت کشوں نے جبری برطرفیوں اور نجکاری پالیسی کے خلاف مین ریلوے ٹریک کو بند کر کے16گھنٹے سے زائد دھرنا دیا۔ اس دوران اندرون ملک سے کراچی کی ٹرینوں کی آمد ورفت معطل رہی۔ اس منظم اور جاندار دھرنے نے حکومت وقت کو واضح پیغام بھجوایا کہ اسٹیل ملز کے محنت کش اپنے روزگار اور ادارے کے تحفظ کے لئے آخری حد تک جائیں گے اور ان ظالمانہ پالیسیوں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ دھرنے کے دوران حکومت کے خلا ف سخت نعرہ بازی کی جاتی رہی، سخت سردی اور ریاستی تشدد کے خوف کی پروا نہ کرتے ہوئے محنت کشوں نے رات گئے تک دھرنے کو جاری رکھا۔ رات کو وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے سعید غنی نے اسٹیل ملز کے ملازمین کو صوبائی حکومت سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون اور جبری برطرفیوں کے فیصلے کو واپس کروانے کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی، جس کے بعد محنت کشوں نے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے مورخہ 28نومبر کو اسٹیل ملز کے محنت کشوں کی جانب سے نیشنل ہائی وے کو بند کیا گیا اور شدید احتجاج کیا گیا۔

دوسری جانب کل کابینہ کے اجلاس میں اسٹیل ملز کی نجکاری اور محنت کشوں کو ’گولڈن شیک ہینڈ‘ دینے کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ ہی انتظامیہ اسٹیل ملز کی جانب سے تمام 9000 سے زائد محنت کشوں کو بھی جبری برطرف کرنے کے لئے لیبر کورٹ میں کیس دائر کر دیا گیا۔ میڈیا میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے لے کر وفاقی وزیر حماد اظہر اسٹیل ملز کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔ حماد اظہر کو پہلے اسٹیل ملز کے درست اعدادوشمار پڑھ لینے چاہیے، جیسا کچھ دن پہلے اس نے کہا کہ ’بند اسٹیل ملز کے محنت کشوں کو ماہانہ 75 کروڑ روپے‘ تنخواہوں کی مد میں ادا کئے جا رہے ہیں‘، درحقیقت ماہانہ تنخواہیں 30کروڑ کے قریب ہیں۔ پھر حماد اظہر نے کہا کہ ہر برطرف محنت کش کو 23لاکھ روپے فی کس دینے یا گولڈن شیک ہینڈ دینے کی بات کی جو کہ محض جھوٹ کا پلندہ ہے۔ حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق اسٹیل ملز پر230ارب روپے ہے، لیکن اگر ملز کے حجم اور پاکستان معیشت میں اس کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ معمولی رقم اسٹیل ملز اپنے ذرائع سے پورا کر سکتی ہے۔ انتظامیہ اسٹیل ملز کی جانب سے محنت کشوں کو جبری برطرفیوں کے لیٹرز بھجوائے گئے، ان میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ’اسٹیل ملز انتظامیہ ہر برطرف محنت کش کو نومبر کی تنخواہ اور بقایا جات (اگر ہوئے تو) ادا کرے گی‘۔ حکمران پہلے دن سے ہی عوامی اداروں اور ان کے محنت کشوں کی کردار کشی کر رہیں ہیں۔ کبھی محنت کشوں کو نااہل کہا جاتا ہے تو کبھی انہیں گھر بیٹھ کر تنخواہ لینے کی بات کی جاتی ہے۔ اسٹیل ملز کے محنت کشوں کی جدوجہد کا پہلا مطالبہ ہی ملز کی بحالی رہا ہے، تاہم حکومت مسلسل ’ملز کی بحالی‘ نہیں کرنا چاہ رہی بلکہ نجکاری پالیسی کے ذریعے قیمتی اثاثوں کو سرمایہ داروں کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ میڈیا میں اداروں کے خساروں کا چرچا کیا جاتا ہے تاہم حکمرانوں کی جانب سے سرمایہ داروں کی دی جانے والی مراعات پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ کچھ سال پہلے سپریم کورٹ میں پیش حکومتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پچھلے30 سالوں میں سرمایہ دارں اور بڑی کمپنیوں کے 400ارب سے زائد قرضوں کو معاف کیا گیا۔ تحریک انصاف کی نودولتیو ں کی حکومت نے اس لوٹ مار کو دام بخشا ہے، کرپشن کے خاتمے کے نعرہ پر اقتدار میں آنے والوں نے اگست 2019ء میں چند صنعت کاروں کے گیس انفراسٹرکچر ڈیلویلپمنٹ سیس GIDC کے 208 ارب سے زائد قابل ادا واجبات معاف کئے۔اسی طر ح تمام بڑے صنعتی اداروں کو اگلے تین سال تک بجلی کے بلوں میں 25فیصد ڈسکاؤنٹ سے اربوں روپے کا ریلیف دیا گیا یہی نہیں کورونا وبا میں اربوں روپے کے ریلیف پیکج، کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے پر کشش پیکج اور ٹیکسز میں ریلیف دینا شامل ہیں۔ ان میں اگر پچھلے سالوں میں ٹیکس چوری، ہیرا پھیری، انڈر انواسنگ اور دیگر چوری کے حربوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر سرمایہ داروں کو کھربوں روپے کے پیکجز دیے گئے تاہم جب عوامی اداروں کی بحالی اور محنت کشوں کی مراعات کی بات ہو تو بتایا جا تا ہے کہ ’خزانہ خالی ہے۔‘ یہ سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت ہے جو کہ محض ایک طاقتور اقلیت کے لئے منافعوں کے انبار لگا تا ہے جبکہ کروڑوں محنت کشوں اور عوام سے ان کا جینے کا حق بھی چھین لینا چاہتا ہے۔

آئی ایم ایف کے ایما پر تما م محنت کشوں اور ملازمین پر سخت حملے کئے جا رہے ہیں، اس تاریکی میں محنت کشوں کی جدوجہد بھی جاری ہے۔ تاہم اسٹیل ملز کے محنت کشوں کی حالیہ جدوجہد نے اس مزدور تحریک کو نئی اٹھان دی۔ محنت کشوں نے بڑی قیادتوں اور حکومت کے پر فریب دھوکوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے جدوجہد کی راہ اختیا رکی۔ کچھ دنوں میں جاری تحریک میں واضح نظر آرہا ہے کہ محنت کش اپنی قیادتوں سے آگے کھڑے ہیں، وہ مزید ان کی دھوکوں اور عدالتوں کے چکر میں نہیں آرہے۔ کئی مقامات پرایسا بھی ہوا کہ قیادت کو محنت کشوں کے پیچھے چلنا پڑا اور یہی محنت کشوں کی طاقت ہے جس نے ایوانوں میں ہلچل پیدا کی۔اس تحریک نے پورے ملک کے محنت کشوں کو نئی شکتی اور حوصلہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ صرف اور صرف جدوجہد ہی ہے جس کے ذریعے اس ظالمانہ حکومت کو شکست دی جا سکتی ہے۔

لیکن اس عظیم جدوجہد کی کچھ حدیں بھی ہیں، اسٹیل ملز کے محنت کش اپنے آخری دم تک لڑنے کو تیار ہے لیکن اس لڑائی کو حتمی فتح میں صرف اور صرف ملک بھر کے محنت کشو ں کا اتحاد ہی بدل سکتا ہے۔ اس کا اظہار ہمیں نظر بھی آرہا ہے، اسٹیل ملز کے دھرنے کے دوران ہی مختلف ٹریڈ یونین رہنما جیسے محمد اسلم خان رہبر تحریک آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک، رمضان لغاری پیپلز یونٹی آف پی آئی اے، راجہ آصف صدر ایمپلائز یونٹی سول ایوی ایشن اتھارٹی، افضل خٹک مرکزی صدر آل پاکستان پراگریسیو لیبر یونین سٹیٹ بنک آف پاکستان، محمود ننگیانہ مرکزی صدر ریل مزدور اتحاد، راجہ عمران مرکزی نائب صدر ریلوے لیبر یونین، ریاض قادری صوبائی صدر آل پاکستان کلاس فور ملازمین ایسو سی ایشن، سید عارف شاہ چیئرمین آل پاکستان یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن سی بی اے یونین اور دیگر نے اپنے جاری ویڈیوبیان میں نہ صرف اسٹیل ملز کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا بلکہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ جدوجہد کے عزم کا عیادہ کیا، ساتھ ہی مختلف ٹریڈ یونینز کی جانب سے اظہار مذمت کے بیانات بھی سامنے آرہے ہیں۔

یہ واضح ہے کہ موجودہ سرما یہ دارانہ نظام، محنت کشوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری لانے سے قاصر ہے لہذا ادارہ جاتی لڑائی کو اس نظام کے خلاف ایک بغاوت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کیا جا سکے اور ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر ہو جہاں پر انسان قلت کا محتاج نہ رہے بلکہ اپنی تقدیروں کے فیصلے خود کرسکے۔