راولپنڈی: عوامی اداروں کی نجکاری کے خلاف لیبر کانفرنس

رپورٹ: PTUDC راولپنڈی

مورخہ 13 دسمبر 2018 ء جناح ہال میونسپل کارپوریشن راولپنڈی میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC کے زیر اہتمام لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد حکومت وقت کی نجکاری پالیسی کے خلاف مزدوروں کو متحد کرنا اور مزدور قوانین کے اطلاق، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے خلاف منظم جدوجہد کے آغاز کی تیاری کرنا تھا۔ پروگرام کا آغاز دن 11بجے ہوا۔ پروگرام کی صدارت میونسپل لیبر یونین کے بانی رہنما غلام محمد ناز نے کی جبکہ مہمانان خاص میں محمد علی وزیرممبر قومی اسمبلی، رمضان لغاری صدر پیپلز یونٹی آف پی آئی اے (CBA ) اور سید عارف شاہ مرکزی چیئرمین یوٹیلٹی سٹورزورکز یونین (CBA ) تھے ۔

پروگرام کا آغاز کامریڈ آصف رشید آرگنائزر RSF نے اپنی تقریر سے کیا ۔ جس میں انہوں نے سرمایہ داری کے زوال اور مزدور تحریک کے ماضی، حال و مستقبل اور مزدور سیاست کی اہمیت پر بات کی۔ دیگرمقررین میں اعجاز احمد مرکزی صدر ریڈیو پاکستان ورکرز یونین، راجہ عمران رہنما ریل مزدور اتحاد، شاہد رضا پادری جنرل سیکرٹری WMC ورکر یونین، خالد کیانی ڈپٹی چیئر مین ڈیموکریٹک ورکر یونین سٹیٹ بینک، سراج گل خٹک صدر پیپلزلیبربیوروضلع اٹک، چوہدری مبشرصدرایپکا راولپنڈی، باوا امتیازجنرل سیکریٹری ورک من ایسوسی ایشن، ماجد یعقوب اعوان مرکزی صدر ایمپلائز یونین PTDC موٹلز، جاوید خان صدرمیونسپل لیبر یونین میونسپل کارپوریشن، شعیب خان نائب صدر پیپلز یونٹی PIA شامل تھے۔ جبکہ نظامت کے فرائض مرکزی جوائنٹ سیکریٹری PTUDC نے ادا کئے۔ مزدور رہنماؤں نے نجکاری جیسے مزدور دشمن عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہونے والی نجکاری نے لاکھوں مزدوروں کو بیروزگار کیا۔ مزدور آئندہ کسی ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے۔ ہم متحد ہیں اور یوٹیلٹی سٹورکارپوریشن کی کامیاب جدوجہد نے مزدوروں کا حوصلہ بڑھایا ہے۔ موجودہ حکومت نے مہنگائی کا جو عذاب مسلط کیا ہے اس سے مزدور کی مشکلات اور بڑھ گئی ہیں۔ مزدور کے پاس جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

ممبر نیشنل اسمبلی علی وزیر نے مزدوروں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پورے پاکستان کے مزدوروں کے ساتھ مل کر نہ صرف نجکاری بلکہ بیروزگاری اور مہنگائی کے خلاف محنت کش طبقے کو منظم کرکے اپنے حقوق حاصل کریں گے ۔ اس حکومت نے تو روٹی بھی مزدور کی پہنچ سے باہر کر دی ہے، 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ روزگار دینے کے دعویدار لوگوں کو بے گھر اور بے روزگار کر رہے ہیں۔ ہم مزدور یونین اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے نہ صرف اسمبلی میں بلکہ سڑکوں اور چوکوں میں اپنی جدوجہد منظم کریں گے۔ علی وزیر نے مزدور رہنماؤں سے اپیل کی کے آپ محنت کشوں کے وہ نمائندے ہیں جنہوں نے انقلاب کے لیے محنت کش طبقے کی قیادت کرنی ہے کیونکہ اس نظام میں مزدور کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا اور دیگر علاقوں میں آپریشنز کی وجہ سے جتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی تحریک کی مدد اور حمایت بھی ٹریڈ یونین کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم مل کر لڑائی لڑیں گے تو کامیابی ہماری منزل ہو گی۔ پیپلز یونٹی کے صدر رمضان لغاری نے کہا کہ جس طرح پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف پی آئی اے کے مزدور نے کامیاب جدوجہد کی اسی طرح ہر ادارے کے اندر مزدور یونینز کو منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ آج اگر بڑے قومی اداروں کی نجکاری مو خر کی گئی ہے تو کل ایک نیا حملہ ہو گا جس کو ہمیں مل کر پسپا کرنا ہو گا۔ پی آئی اے کے اندر آج یونین کے خلاف منظم سازشیں ہو رہی ہیں جس کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں دیگر اداروں کے محنت کشوں کی جڑت کی ضرورت ہو گی۔ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن ورکرز یونین کے چیئرمین عارف شاہ نے کہا کہ ہماری کامیابی میں جہاں یوٹیلٹی سٹورز کے مزدوروں کی جدوجہد تھی وہیں پی آئی اے اور PTUDC کے دوستوں کی جڑت اور جدوجہد نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ۔اگر مزدور کے درمیان یہ جڑت قائم رہی تو کوئی بھی طاقت مزدور کو شکست نہیں دے سکتی۔

صدر محفل غلام محمد نازنے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور تمام ٹریڈ یونینز کی مشاورت سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی سطح پر تما م یونینز کی جڑت اور مشترکہ جدوجہد کے لیے مزدور کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ جس کا کو آرڈینیٹر کامریڈ چنگیز ملک کو بنایا گیا ۔ اس کمیٹی کا اگلا اجلاس ریڈیو پاکستان ورکرز یونین کے آفس میں ہو گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ آخر میں مندرجہ ذیل مطالبات پر مشتمل قرارداد پیش کی گئی جسے حاضرین کی متفقہ رائے سے منظور کیا گیا۔

قرارداد

٭ نجکاری پالیسی ترک کی جائے، وزارتِ نجکاری کو ختم کیا جائے۔ نجی ملکیت میں دیئے گئے کارخانوں اور اداروں کو واپس قومی ملکیت میں لیا جائے۔
٭ ٹھیکیداری سسٹم ختم کیا جائے۔ دیہاڑی داری، کنٹریکٹ اور عارضی ملازمتوں پر محنت کشوں کو فوری طور پر مسقل کیا جائے۔

٭ کم از کم اجرت ایک تولہ سونے کے برابر کرکے اسکو افراطِ زر کے ساتھ منسلک کیا جائے۔

٭ کام کے اوقات کار تبدیل کرکے 48گھنٹے فی ہفتہ کی بجائے 35گھنٹے فی ہفتہ کیا جائے۔ تمام مزدور دشمن قوانین کا خاتمہ کیا جائے ، ریلوے، ائیرویز سمیت مختلف شعبوں میں یونین سرگرمیوں پر پابندیاں ختم کی جائیں ۔
٭ یونین سازی کے عمل کو آسان اور قابلِ عمل بنایا جائے۔ محکمہ محنت ، سوشل سیکورٹی، ایمپلائیز اولڈایج بینی فٹ، این اائی آر سی سمیت دیگر اداروں کی جگہ متبادل ادارے لا کر انکو مزدور مفادات کے تحفظ کے تابع کیا جائے
٭ کثیر القوی فیکٹریوں سمیت تمام صنعتوں کو قومی تحویل میں لیکر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔
٭ کام کے ما حول میں جانی تحفظ کو اولین ترجیح دیکر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے۔ کسی فیکٹری/ ادارے میں حادثے کی صورت میں مالکان ، انتظامیہ پر فوجداری مقدمات درج کئے جائیں۔
٭ تمام مزدوروں کو رہائشی، سفری اور علاج معالجے کی سہولت مفت فراہم کی جائیں۔
٭ مالکان کا’’برطرفی‘‘ کا حق ختم کیا جائے۔ تنازعات کے حل کیلئے، مزدوروں، ٹریڈ یونین، فیڈریشن، عامی نمائندگان اور مالکان پر مبنی مصالحتی کونسلیں قائم کی جائیں۔ تحصیل کی سطح پر لیبر کورٹس بنائی جائیں، مقدمات نمٹانے کی حتمی مدت 3ماہ مقرر کی جائے۔ مقدمات کا دوطرفہ خرچہ مالکان کی ذمہ داری قرار دی جائے۔
٭ اٹھارویں ترمیم کے بعد مزدوروں کیلئے پیدا شدہ مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں۔
٭ جہیز فنڈ اور ڈیتھ گرانٹ کا اجرا کیا جائے ۔
٭ تعلیم اور صحت کی تجارت پر پابندی عائد کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی بجٹ کم از کم 30فیصد تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جائے۔
٭ سرکاری تعمیراتی اداروں کے پراجیکٹس کو ٹھیکیداری نظام کے تحت کرانے پر پابندی عائد کرکے ان محکموں کی مشینری اور ہزاروں محنت کشوں کے ذریعے تعمیراتی کام کروایا جائے۔
٭ محنت کش خواتین کو تمام شعبوں میں مساوی حقوق اور نمائندگی دی جائے نیز گھریلو اورصنعتی محنت میں تفریق کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
٭ طلبہ یونین بحال کی جائیں۔
٭ تعلیم پر سطح پر مفت فراہم کی جائے۔
٭ سہ فریقی کانفرنس کا انعقاد فوری طور پر کیا جائے۔
٭ بیسک ایجوکیشن کمیونٹی سکولز کے اساتذہ کو مستقل کیا جائے۔
٭ 850جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
٭ نجی ٹی وی چینلز میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں ہر وقت ادا کی جائیں اور بقایاجات کی فوری ادائیگی کی جائے۔

٭ کسی بھی ادارے کے محنت کشوں کی جدوجہد کو مشترکہ بُنیادوں پر منظم کرنا۔

پروگرام کے اختتام پر ریلی نکالی گئی جس میں نجکاری، بیروزگاری اور مہنگائی کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی گئی ۔ریلی کے شرکا نے پلے کارڈزاور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر مختلف مسائل کے حوالے سے نعرے درج تھے ریلی مونسپل کارپوریشن آفس سے گارڈن کالج تک نکالی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*