سرگودھا: پتھر کرشنگ مزدوروں کا استحصال

رپورٹ: PTUDC  سرگودھا

سرگودھا کے کڑانہ ہلز کی 35 مربع کلو میٹر رقبہ پر پھیلی بلند و بالا پہاڑیوں پر پتھر کرشنگ کا کام عرصہ دراز سے جاری ہے جہاں سے ملک کے مختلف علاقوں میں پتھر کی سپلائی کا کام ہوتا ہے۔  لیکن یہاں کام کرنے والے محنت کشوں کا بدترین استحصال جاری ہے۔  حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمدتاحال چیلنج بنا ہوا ہے اوربظاہرحکومت کی جانب سے متعدد لیز منسوخ کرنے اور دیگرنام نہاد تادیبی کارروائیوں کے بعد بھی مزدورں کا استحصال ختم نہیں ہو سکا ۔  یہاں کام کرنے والےمزدور دن رات قلیل اجرتوں پر کا م کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں زیادہ تر کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کم از کم اجرت بھی نہیں دی جا تی۔ غربت اور افلاس کے ہاتھو ں تنگ مزدور 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں لیکن ان کو معاوضہ کی بروقت ادائیگی بھی نہیں کی جاتی نیز اجرتوں کے کئی معاملات التواء کا شکار ہیں۔ مزدوروں سے کام چار سیکڑے کا لیا جاتا ہے جبکہ ادائیگی دو سیکڑ ے کے حساب سے کی جاتی ہے ۔

 کم معاوضوں پر پچیس ہزار سے زائد مزدوروں کو حکومتی گائیڈ لائن کے مطابق حفاظتی آلات کی دستیابی اور حادثا ت کی صورت میں ہنگامی طبی امداد بھی محض کاغذو ں تک محدود ہے۔  ان مزدوروں کو انتہائی ناقص قسم کے ہیلمٹ، رسے، دستانے اور بوٹ وغیرہ دیئے گئے ہیں جبکہ مناسب تربیت اور خطرناک آتش گیر مادہ کے ذریعے پہاڑوں کو بلاسٹ کرنے کے دوران احتیاطی تدابیر کے حوالے سے گائیڈ لائن نظر انداز کی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حادثات یہاں معمول ہیں، کام کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مسلسل گر د و آلود میں کام کرنے سے کئی ایک مزدور بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں جن کے علاج معالجہ کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔  بے بس اور غریب مزدوروں کیلئے جنوبی ہسپتال میں نیورو سرجن، آرتھو پیڈک سرجن، آپریشن تھیٹر اور الٹرا ساؤنڈ جیسی سہولیات موجود نہیں ۔   حکومت کی طرف سے کام کے دوران ہلاکت کی صورت میں تین لاکھ قلیل معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن جو کہ صرف اعلان تک ہی محدود ہے۔

پاکستان ٹریڈ یونین کمپیئن(PTUDC) مزدوروں پر جاری ظلم و استحصال کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ مزدوروں کے خون سے منافع کمانے والے سرمایہ داراوں کی حکومتی پشت پنائی بند کی جائے اور ان کے  خلاف سخت کاروائی کی جائے۔