پاکستان اسٹیل ملز کا سانحہ: قصور وار کون؟

منجانب: PTUDC مرکزی انفارمیشن بیورو

آئی ایم ایف کے دباؤ میں موجودہ حکومت نے پاکستان کے عوامی اداروں کی لوٹ مار سیل شروع کی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں حکمران طبقے کی جانب سے عوامی اداروں اور یہاں کام کرنے والے محنت کشوں کے خلاف مسلسل غلیظ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اپنی محنت کے بل بوتے پر جن محنت کشوں نے ان اداروں کو ترقی دی، آج حکمران اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لئے سارا ملبہ ان محنت کشوں پر ڈال رہے ہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز ملک میں صنعتوں کی ماں کا درجہ رکھتی ہے، کئی صنعتوں کو قائم رکھنے اور ترقی کے لئے یہ اہم ترین ادارہ ہے۔ اسٹیل ملز کی نجکاری کو روکنے کے لئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے ’اسٹیل ملز بچاؤ تحریک‘ کا آغاز کیا جا چکا ہے، اس سلسلے میں حکمرانوں کے پراپیگنڈا کے برعکس اسٹیل ملز کے اصل حقائق کو عوام تک پہنچانے کے کے لئے تحریر شائع کی جا رہی ہے۔

سوویت یونین کی جانب سے مملکت خداداد پاکستان کو تحفے میں ملی ہوئی، پاکستان اسٹیل ملز کراچی کا افتتاح 30 جون 1973ء کو اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا تھا۔ عالمی امریکی سامراج کے ساتھ پاکستان میں اس کی اتحادی بنیاد پرست قوتیں کی جانب سے سخت مخالفت کرنے کے باوجود اسٹیل ملز کی بنیاد رکھی گئی۔ اس اسٹیل ملزکو قائم کرنے کا بنیادی مقصد ایک زرعی ملک کو صنعتی طور پر طاقتور بنانا تھا۔ یہ اسٹیل ملز 19 ہزار 500 ایکڑ پر قائم کی گئی تھی۔ جس کی زمین سندھ کے مختلف دیہاتوں اور برادریوں مثلا جوکھیو، گبول اور کلمتی کے لوگوں سے خریدی گئی تھی۔ جبکہ کچھ لوگوں نے عطیہ کے طور پر یہ بھی زمین مفت فراہم کی تھی۔ سات سالوں کی مسلسل محنت اور 25 ارب کی سرمایہ کاری کے بعد 1984ء سے اس ادارے نے اپنی پیداوار دینا شروع کی۔ اسٹیل ملز پر آنے والی لاگت کی رقم ملک میں موجود قومی بینکوں بطور قرض حاصل کی گئی تھی۔اس ادارے نے 1984ء سے اپنی پیداوار 11 لاکھ ٹن فولاد پیدا کرنے سے شروع کی اورپانچ سالوں کے اندر ہی پیداوار کو تین گنا بڑھانے یعنی 33 لاکھ ٹن فولاد تیار کرنے کی پیداواری صلاحیت حاصل کی گئی۔ اس سلسلے میں پلانٹ کی پیداوارکو مزید بڑھانے کے لئے مزید بلاسٹ فرنس اور دیگر ضروری مشینری بھی نصب گئی۔ اسی کے ساتھ یہاں 165 میگاواٹ بجلی پیداکرنے کا تھرمل پاور پلانٹ بھی نصب کیا گیا تھا۔ جیسے ہی یہ پلانٹ چلایا جاتا تو اس سے خارج ہونے والی ہیوی گیسز جوکہ کوک اوون اور سٹیل بنانے کے پیداواری مراحل میں پیداہوتی ہے، انہیں پاور پلانٹ میں منتقل کرکے سستی بجلی پیدا جاتی۔ جب ادارے میں 100 فیصد پیداواری عمل جاری تھا تو چار ہزار گھروں پر مشتمل رہائشی کالونی’اسٹیل ٹاؤن‘اور تین ہزار سے زائد گھروں پر مشتمل ’گلشن حدید فیز 1‘سمیت ڈاؤن اسٹریم انڈسٹریز کی بجلی کی ضروریات ان پاور پلانٹس کے ذریعے پوری کی جاتیں تھی۔ اس کے علاوہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) کو گزشتہ کئی سالوں تک بجلی فروخت بھی کی جاتی رہی۔ اسی طرح یہاں کام کرنے والے آکسیجن گیس کا پلانٹ جوکہ تقریبا 15 سے 20 ہزار کیوبک فٹ آکسیجن پیدا کرتا تھا۔ اس کے ذریعے فرنس پلانٹ کی ضرورتیں پوری کرنے کے بعد ہزاروں کیوبک گیس کی بچت کی جاتی جیسے بعد میں آکسیجن سلنڈرز کی شکل میں کراچی کے تمام سرکاری اہسپتالوں کو مفت فراہم کردیا جاتا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہاں واحد (Liquid Gas) بھی تیار کی جاتی تھی۔ اس اسٹیل ملز میں 110 ملین گیلن پانی ذخیرہ کرنے والا فلٹر پلانٹ بھی موجود ہے۔ جوکہ پچاس کلومیٹر کی پائپ لائن کے ذریعے کینجھر جھیل سے پانی حاصل کرتا ہے۔ اس کا فلٹر کیا گیا پانی پلانٹ کے ساتھ رہائشی کالونی اور پرائیویٹ ڈاؤن اسٹریم انڈسٹریز کو بھی فراہم کیا جاتا تھا۔ اسٹیل ملز کی چار ہزار ایکڑ زمین کو مکمل انفراسٹریکچر کے ساتھ نیشنل انڈسٹریل پارک کے حوالے کیا گیا، جہاں دیگر نجی شعبوں کی اسٹیل فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ کار مینوفیکچرنگ کے ادارے ’پاک سوزوکی‘اور ’یاماہا موٹرز‘ودیگر ادارے قائم ہیں۔ اسی کے ساتھ یہاں ایک بہت بڑا ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی ہے، جس میں 850 بڑی گاڑیوں سمیت 200 کے قریب ہیووی لوڈنگ والے ڈمپر اور ڈوزر شامل ہیں۔ان گاڑیوں کی مرمت کرنے کے لیے ورکشاپس بھی موجود ہیں جہاں ماہر مکینک اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ایک ریلوے ڈیپارٹمنٹ بھی ہے جس میں 15 ریلوے انجن موجود ہیں۔

پاکستان اسٹیل مل کی طرف سے ملک سے باہر کچا لوہا درآمد کرنے کے لئے پورٹ قاسم سے جہازوں سے سیدھا ملز کے اندر لانے کے لئے ایک جیٹی بھی موجود ہے، جہاں بحری جہازوں سے خام مال بنا کسی ٹرانسپورٹ کے اپنے کنویئر بیلٹ کے ذریعے اتارا جاتا ہے۔ یہ بیلٹ سات کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ پلانٹ میں اسٹیل فولاد بننے کے بعد جو اسکریپ اور بائے پراڈکٹ بچتا، وہ ملک کی دیگر فیکٹریز کو بیچا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ایسے بائے پراڈکٹ اس اسٹیل ملز کے علاوہ ملک کی کسی دوسری جگہ موجود نہیں ہے۔اسٹیل ملز کا اپنا ایک میٹالرجیکل ٹریننگ سینٹر (MTC) بھی ہے جہاں تربیت کے ذریعے لاکھوں ہنرمند تیار کئے گئے ہیں۔ جوآج دنیا کے مختلف ملکوں کے اندر اسٹیل کے کارخانوں کے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ملک کا ایسا سب سے بڑا صنعتی منصوبہ ہے، جس سے فولاد کے علاو ہ دیگر مختلف صنعتیں بھی منسلک ہیں۔ ان تمام تر وسائل کے ہونے کے باوجود بھی اس ادارے کو ترقی دینے کے بجائے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے تباہ و برباد کرنے کے جتن شروع کئے جا چکے ہیں۔ اسٹیل ملز کراچی 1984 سے پیداوار شروع کرنے سے لے کر 2007ء تک ملکی بنکوں سے لیا گیا، قرض ’25 ارب روپے‘واپس کرنے کے ساتھ ساتھ 114 ارب روپے ٹیکسوں کی صورت میں بھی وفاقی حکومت کو بھی ادا کرچکی ہے۔ 2006ء میں فوجی آمر مشرف کی طرف سے نجکاری کی پالیسی کے تحت اس اسٹیل ملز کو ردی کے برابر انتہائی سستے داموں یعنی 21 ارب اور 65 کروڑ میں فروخت کئے جانی کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ اس کی 19 ہزار500 ایکڑ کی قیمتی زمین جس کی اُس وقت کی مارکیٹ ویلیو 250 ارب روپے تھی اور گیارہ ارب روپے کی نئی تیار شدہ مصنوعات (Inventory) بھی موجود تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اسٹیل مل اُس وقت چار ارب روپے سالانہ منافع کمارہی تھی او ر ٹیکسزالگ سے جمع کروا رہی تھی۔ اس وقت اسٹیل ملز کے فولادی محنت کشوں کی جدوجہد کی وجہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان اسٹیل ملز نے مداخلت کر کے اسٹیل ملز کی نجکاری کو کالعدم قرار دیا۔

نجکاری کے وار میں پسپائی اختیار کرنے کے بعد حکمرانوں نے اس منافع بخش ادارے کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور اسی کے ساتھ نجکاری کے ذریعے اس قیمتی ادارے کو بیچنے کی سازشیں جاری رہیں۔ 2011ء میں اس کے کُل اثاثوں کا تخمینہ 1200 ارب روپے لگایا گیا تھا جبکہ ادارے کے پروویڈنٹ فنڈ اور گریجویٹی کی مد میں 38 ارب روپے بھی موجود تھے مگر وہ اچانک غائب کردیئے گئے۔ ایک سال کے اندر ملازموں کی تنخواہوں کی ادائیگیوں اور ریٹائرڈ ملازموں کو بقایاجات کی ادائیگی اچانک رک گئی۔ آخر کار تمام تر سازشیں اُس وقت اپنے منتطقی انجام کو پہنچیں، جب 10 جون 2015 ء سے اسٹیل ملز کی پیداوار بنا کسی جواز کے بند کردی گئی۔ جس سے نہ صرف ادارے کے 13 ہزار مستقل ملزموں کی ملازمتیں داؤ پر لگ گئیں بلکہ اسٹیل ملز کے ادارے سے منسلک دیگر شعبوں کے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مزدوروں کے پیٹ پر بھی لات ماری گئی۔ یاد رکھا جائے کہ 1990ء اور 1991ء میں یہاں پیداوار کے عروج کے دنوں میں اسٹیل ملز میں 24 ہزار ملازم روزگار سے منسلک تھے، پھر آہستہ آہستہ مختلف سازشوں کے تحت محنت کشوں کو نوکریوں سے فارغ کرنا شروع کردیا گیا۔

یہاں یہ غور طلب ہے کہ جب اسٹیل ملز کی پیداوار اپنے عروج کی طرف بڑھنے لگی تو ادارے کے 1988ء میں سول چیئرمین کوہٹا کر میجر جنرل شجاعت بخاری کو اسٹیل ملز کا نیا چیئر مین مقرر کیا گیا۔ جس کے بعد 1990ء میں اُس کی جگہ لیفٹننٹ جنرل صبیح الزمان،1997ء سے 1999ء تک میجر جنرل سکندر حیات،1999ء سے 2004ء تک لیفٹنٹ کرنل (ریٹائرڈ) محمد افضل، 2004ء سے 2006ء تک لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالقیوم،2006 سے 2008ء تک اور 2010ء سے 2014 ء تک میجر جنرل محمد جاوید کو چیئرمین مقرر کیا گیا۔ 2014 سے 2015 تک میجر جنرل ظہیر احسان اور اس وقت بریگیڈیئرریٹائرڈ سید شجاع چیئرمین مقرر ہیں جن کے احکامات سے ملازموں کی برطرفیوں کے آرڈرجاری ہورہے ہیں۔

آج 2020ء میں کورونا وبا کا بہانہ بنا کر 9 ہزار سے زائد ملازمین کوجبری بر طرف کرنے اور ادارے کی ایک بار پھر نجکاری کرنے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔ 27 نومبر کو اچانک غیر قانونی طور پر 4544 ملازمین کو ڈاک کے ذریعے اُن کی ملازمتوں سے برطرف کئے جانے کے لیٹرز ارسال کئے گئے۔ جبکہ باقی چار ہزار ملازمین کی برطرفیوں کے آرڈر بھی تیارکئے جاچکے ہیں جنہیں انتظامیہ اسٹیل ملز کی جانب سے لیبر کورٹ سندھ کی منظوری کے بعد کسی بھی وقت جاری کئے جاسکتے ہیں۔  یہاں چند مزید حقائق بیان کرنا بھی ضروری ہیں۔ سوویت یونین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دیگر کئی ممالک کو ایسی اسٹیل ملز فراہم کی گئیں جن میں بھارت کو دو اور ایران، ترکی اور مصر میں ایک اسٹیل ملز لگائی گئی۔ ان ممالک میں یہ اسٹیل ملز آج تک پیداوار فراہم کر رہی ہیں اور منصوبہ بندی کے تحت اُن کے پیداواری عمل میں توسیع بھی کی گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب ہمارے یہاں اسٹیل ملز ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ اس کو ناکام کرنے کی سازشیں شروع ہوگئیں۔ یہاں ایک اور بات پر توجہ کی دی جائے کہ اس اسٹیل ملز میں استعمال ہونے والا کچا لوہا (IRON ORE) آسٹریا اور ہنگری سے درآمد کیا جاتا ہے،جس کے خالص لوہے کی شرح 52 فیصد ہے۔ جبکہ تھر سندھ سے کچے لوہے کی پیوریفیکیشن کی شرح 58 سے 64 فیصد تک ہے۔ کوہلو اور دالبدین بلوچستان کی خالصیت کی شرح 52 فیصد ہے۔ یہ سب کچھ ہونے کے باجود ملکی وسائل کا استعمال نہیں کئے گئے۔ اگر یہ سب استعمال کئے جاتے تو اربوں ڈالر کے زرمبادلہ بچائے جاسکتے تھے۔ ان تمام حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بیان کیا جاسکتا ہے کہ آخر اسٹیل مل کے برباد ہونے میں کون ’حضرات‘ملوث تھے اورہیں!

آج اس ملز کی پیداوار کو بند کرنے کے بعد لوہے کی ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہر سال غیر ملکی کمپنیوں سے 75سے 80 لاکھ ٹن فولاد درآمد کیا جارہا ہے یعنی چار ارب ڈالر سالانہ اس کی درآمد پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ اگر حکمران اپنی انفرادی حوس کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں سوچتے تو یہ چار ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ بچاسکتے تھے۔ مگرپھر بھی حکمرانوں کی آنکھیں بند رہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس ادارے کو بیچنے سے ریاست ِپاکستان خود کنگال ہوجائے گی۔ اسی لئے اس ادارے کو چلانے کے سوا کوئی اورچارہ نہیں۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئینPTUDC پاکستان اسٹیل ملز کے 4544 ملازموں کی جبری برطرفیاں جوکہ ناجائز اور غیر قانونی ہیں کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ کہ اُن کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اسی کے ساتھ اسٹیل ملز کو کسی سرمایہ دارانہ رکاوٹ کی بجائے، ملک و قوم کے مفاد میں چلایا جائے۔

اس کھلے خط کے ذریعے ہم ملک کے تمام محنت کشوں، باشعور لوگوں، ادیبوں، شاعروں، وکیلوں، سیاسی گروہوں اور صحافیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے برطرف ہونے والے محنت کشوں کی بحالی کے لئے اور اپنے اثاثے ’پاکستان اسٹیل ملزکراچی‘کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں اور جدوجہد میں شریک ہوں۔