سٹیل ملز جبری برطرفیاں: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی!

رپورٹ: اکبر میمن، رہنما PTUDC و ٹریڈ یونین الائنس سٹیل ملز

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین سے متعلق کیس کی سماعت دوران ریمارکس دیے کہ ایسا نہ ہوسٹیل مل انتظامیہ کو برطرف کیے گئے ملازم ہی دوبارہ رکھنے پڑیں، سٹیل ملز انتظامیہ زیادہ ہوشیاری دکھائے گی تو یہ انہی کے گلے پڑے گی۔ چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ حکومت جو کرنے جا رہی ہے اس سے تباہی پھیلے گی۔ عدالت آپ کو سہارا نہیں دے سکتی، آپ کو اندازہ ہی نہیں وہ کیا کر رہی ہے۔ یہ ریمارکس بظاہر تو سٹیل ملز ملازمین کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں تاہم پیچیدہ قانونی زبان استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملہ اپنے سے اتار کر حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ ریمارکس بھی ملازمین کی جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہوئے ہیں جہاں سٹیل ملز کے ملازمین اپنے فولادی عزم کے ساتھ ادارے کے تحفظ کے لئے سرگرم عمل ہیں وہی پر پورے پاکستان کے محنت کش تنظیموں کی حمایت اور یکجہتی کے ساتھ ان کی جدوجہد مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مارچ 2020ء میں چیف جسٹس گلزار احمد نے ہی زردارعباسی پروموشن کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھاکہ حکومت کی عجیب صورتحال ہے’ملزمین‘ ایک طرف ادارے کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ حکومت ادارے کو چلانے میں خود قدم اٹھا سکتی ہے اور یہ اسے کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے حکومت کو ادارے کے ملازمین کو فارغ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل ملز بہت سارے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ لگتا ہے پاکستان کا سارا بجٹ اس میں چلا جائے گا، حکومت پاکستان سٹیل کے ملازمین کو فارغ کرے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور اسٹیل ملز کے محنت کشوں سپریم کورٹ نے کل 16جولائی کو پاکستان اسٹیل کے ملازمین کو نکالنے کے حکومتی فیصلے پر ریمارکس دیتے ہوئے اپنے گلے سے گھنٹی نکال تو لی لیکن پاکستان اسٹیل اور دیگر اداروں سے ملازمین کو نکالنے کے حکومتی فیصلے کو مکمل طور پر رد نہیں کیا اور نہ ہی یہ کر سکتی ہے۔ پی ٹی سی ایل یا کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، وہاں بھی عدالت کی جانب سے ایسے ریمارکس دیے گئے جس کی وجہ سے حکومت کو حملوں کے لئے قوانین کو تبدیل کرنا پڑا۔ یہ امکان سٹیل ملز کے حوالے سے رد نہیں کیا جا سکتا کہ نجکاری کے لئے حکومت قانون میں ترمیم کرے اور ایسا ضابطہ تیار کرے کہ ملازمین برطرف ہونے کے بعد عدالت سے رجوع بھی نہ کر سکیں۔ آئی ایم ایف کے دباؤ میں روزانہ حکومت نئے حملے کر رہی ہے، ابھی کچھ دن پہلے ہی تمام سرکاری ملازمین کے سروس رولز کے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے تحت ان مستقل ملازمتوں کی بجائے کنٹریکٹ پر ملازمتیں دی جائیں گی اور تمام پنشن جیسی مراعات کا خاتمہ کر دیا گیا۔ بجلی ترسیل کے شعبے سے منسلک حکومتی کمپنی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈیسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سمیت تمام سرکاری اداروں میں ملازمین کی ترقی کے لئے بھی نیا معیار مقرر کر دیا گیا جس کے مطابق صرف سینئر ہونے کی بنیاد پر ترقی نہیں ملے گی اس کے ساتھ سالانہ انکریمنٹ کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سالانہ انکریمنٹ سب کو نہیں ملے گی بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر ملے گی۔ ملازمین کی اپ گریڈیشن بھی نہیں ہو گی اس سلسلے میں پالیسی تیار کر لی گئی۔ این ٹی ڈی سی میں تو باقاعدہ طور پر چند روز تک ملازمین کو نئے کنٹریکٹ کی آفر کر دی جائے گی۔ نیا کنٹریکٹ نہ لینے والوں کو پہلے مرحلے میں سرپلس پول میں بھیجنے کا امکان ہے۔

سٹیل ملز کے محنت کشوں سے جبری برطرفیوں کی تلوار ہٹی نہیں بلکہ کسی اور شکل میں وار کیا جائے گا، لیکن ملازمین نے یہ دیکھ لیا کہ ان کی جدوجہد کی بدولت چیف جسٹس اپنے ریمارکس میں تبدیلی پر مجبور ہوا۔ یہ آپکی جدوجہد ہی ہے جس کی وجہ سے اونچے ایوانوں میں ہنگامہ برپا ہو اہے۔ آئی ایم ایف و دیگر مالیاتی اداروں کے بدمست ہاتھیوں اور ان کے د لال حکمران کسی ہتھکنڈے کے ذریعے پبلک سیکٹر کے اداروں سے محنت کشوں کو نکالنے اور نجکاری کے ایجنڈے کو مکمل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ اس لئے سٹیل ملز سمیت ملک بھرکی تمام ٹریڈ یونینز، مزدور تنظیموں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے گروہی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، آئیں مل کر اس ظالمانہ نظام کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کریں۔ موجودہ عہد میں ملکی سطح پرعوامی اور نجی اداروں کے محنت کشوں کا اتحاد ناگزیر ضرورت بن چکا ہے اس کے سوا کوئی راستہ اورحل نہیں ہے۔

ابھی چراغِ سرِرہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*