کراچی: سندھ کے احتجاجی ہیڈ ماسٹرز پر پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، پی ٹی یو ڈی سی

رپورٹ: PTUDC سندھ

کراچی میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز مستقل روزگار کے مطالبہ پر  گزشتہ 24 روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ آئی بی اے ہیڈ ماسٹرز کی پیر کے روز کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے مارچ کرنے کی کوشش کے باوجود حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مارچ کرنے والے آئی بی اے ہیڈ ماسٹرزپر تشدد کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے 2017ء میں آئی بی اے کے انٹری ٹیسٹ کے ذریعے ان 937 ہیڈ ماسٹرز کو دو سال کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا۔ نتائج کی کارکردگی دیکھ کر حکومت نے تین بار کنٹریکٹ میں توسیع کی۔ اب اتنے سالوں کی ملازمت کے بعد جب انہیں مستقل کرنے کا وقت آیا تو سندھ حکومت نے ان کی مستقلی کو سندھ پبلک سروسز کمیشن کے نئے امتحانات سے مشروط کر دیا۔ جب کہ سندھ سروسز کمیشن کے قاعدے نمبر 4 کے تحت یہ ادارہ بھرتی کے لئے تازہ امیدواروں (Fresh candidates) سے امتحان لیتا ہے۔ اس قانون کے باوجود سندھ حکومت ان ہیڈ ماسٹرز کو زبردستی کمیشن میں  بھیج رہی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مستقل کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ دوبارہ ٹیسٹ کا بول کر من پسند لوگوں کو بھرتی کروانا چاہتے ہیں۔ یہاں خواتین سڑکوں پر رات گزار رہی ہیں کیا ان حکمران کو احساس نہیں؟‘

 سندھ حکومت ان ھیڈ ماسٹرز کو ریگولر کرنے کے بجائے ان پر واٹر کینن، لاٹھی چارج کے ذریعے تشدد اور گرفتاریاں کر رہی ہے۔ ہم سندھ حکومت کی پولیس گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تمام اساتذہ کے مطالبے تسلیم کرتے ہوئے ان کو فوری طور پر ریگولر کیا جائے۔