کراچی: سندھ اساتذہ کی کامیاب جدوجہد

رپورٹ: PTUDC کراچی

16 گریڈ کےHSTs کو 20 گریڈ کا ٹائم اسکیل دیا جائے گا، نوٹیفکیشن جاری

گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن ( گسٹا) کی جانب سے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حصول کے لئے رواں ماہ تحریک چلائی جس میں سندھ کے مختلف شہروں میں علامتی بھوک ہڑتالی کمپ اور تدریس کے عمل کا علامتی بائیکاٹ کیا گیا۔ 25 مارچ کو سندھ بھر سے اساتذہ نے کراچی پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا یہاں پر انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی اور دھرنا دیے رکھا۔ کراچی پریس کلب کے بابر تقریباً 2 ہزار احتجاجی اساتذہ جمع ہوئے اور گسٹا کے عہدیداران نے مطالبات تسلیم کیے جانے کے حق میں تقریریں کیں۔ مورخہ 28 مارچ کو اساتذہ نے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے لئے پیش قدمی شروع کی۔ مرد و خواتین اساتذہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ شروع کیا تو پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین اور پولیس کے درمیان معمولی جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد متعدد اساتذہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والی تمام شاہراؤں کو بلاک کردیا جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن بھی طلب کی گئی۔  پولیس نے متعدد اساتذہ کو گرفتار کرلیا پولیس کی جانب سے مظاہرین کو متنبہ کیا گیا کہ اگر احتجاج ختم نہیں کیا گیا تو مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔ گسٹا کے مطابق پولیس 200 اساتذہ کو حراست میں لیا اور پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے باعث 8 خواتین سمیت 150 اساتذہ زخمی ہوئے۔ پولیس کی جانب سے کئے جانے والے لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کراچی حیدرآباد اور سکھر سمیت سندھ بھر کے اساتذہ نے تدریسی عمل کا مکمل بائیکاٹ کر دیا تھا۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن

آج مورخہ 29 مارچ ، وزیر تعلیم سید سردارعلی شاہ سے  گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) سندھ کے وفد نے حاجی اشرف خاصخیلی کی سربراہی میں ان کے دفتر میں ملاقات کی اور سندھ بھر کے گسٹا اراکین کی جانب سے پریس کلب پر جاری احتجاج کے حوالے سے گسٹا وفد نے صوبائی وزیر کے سامنے اپنے مطالبات پیش کیے۔ ملاقات میں سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز بھی موجود تھے۔ وزیر تعلیم اور اساتذہ کے درمیاں مذاکرات تین گھنٹے تک جاری رہے، جس میں گسٹا وفد کی جانب سے پیش کیے 9 مطالبات میں سے ٹائم سکیل، تنخواہوں کے مطالبات تسلیم کر لئے جبکہ دیگر مطالبات کے لئے کمیٹی قائم کردی۔

گسٹا کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مکمل مطالبات اور اساتذہ کے حقوق کے تحفظ تک جدوجہد جاری رہے گی اگر حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹی تو ہم دوبارہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

گسٹا کی جانب سے پیش کیے مطالبات اور ان پر فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہیں:

1۔ 2014 سے نافذ ٹیچنگ کیڈر کا خاتمہ: محکمہ تعلیم کی جانب سے سیکریٹری تعلیم کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا)، گزیٹیڈ آفیسرز ایسوسی ایشن اور پ ٹ الف کے نمائندگان بھی شامل ہونگے۔ کمیٹی تمام تر معاملات پر موجودہ رکورٹمنٹ رولز میں ضروری ترامیم کی سفارش کرے گی۔

گریڈ 20 میں ایچ ایس ٹیز اور انکے مساوی عہدوں کے لیے گریڈ 20 کا ٹائم اسکیل فراہم کرنا

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سیکریٹری تعلیم کی بنائی گئی سمری منظور کرلی ہے اور محکمہ خزانہ نے فوری طور پر نوٹی فکیشن بھی جاری کیا جس کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ کے تمام ہائی اسکول ٹیچرز یا پھر ان کے مساوی ملازمین کو گریڈ 19 میں پانچ سالہ سروس پر گریڈ 20 کی تنخواہ و الاؤنس یکم جولائی 2019 سے دیا جائے گا۔

3۔ جے ایس ٹی اور دیگر مساوی آسامی کے لیے بی پی ایس 17 میں ٹائم اسکیل کی منظوری: متعلقہ معاملہ پر ایک علیحدہ سمری وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی۔

4۔ اقرا وسندھ یونیورسٹی، این ٹی ایس اور آئی بی اے ٹیسٹ پاس اساتذہ امیدواران کو مستقل کرنے اور انکی سروس کو پہلے دن سے شمار کیا جائے:  سیکریٹری تعلیم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی اس معاملہ پر مناسب ترامیم تجویز کرکے کابینہ میں منظوری کے لیے بھیجی گی جس کی بعد میں سندھ اسمبلی سے منظوری کرائی جائے گی۔

5۔ ایچ ایس ٹی اور ایس ایل ٹی کو ہیڈ ماسٹر جبکہ جے ایس ٹی کو ایچ ایس ٹی میں ترقی دلائی جائے: محکمہ جاتی ترقیاتی کمیٹی (ڈی پی سی) آئندہ 10 روز میں انکی ترقیاں شروع کردے گی۔

6۔ 2012 کے دیگر کیڈر کے ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہیں دلائی جائیں: محکمہ ان تمام اضلاع کے اساتذہ کی ضروری کاغذی کاروائی کی تصدیق کے بعد فوراْ انکی تنخواہیں جاری کرے گا۔

7۔ تمام سرکاری ملازمین کے لیے گروپ انشورنس دیئے جائیں: محکمہ خزانہ نے سندھ کے تمام سرکاری ملازمین کے گروپ انشورنس کے مسئلہ پر پہلے سے ہی کام کررہا ہے۔

8۔ صوبائی حکومت کے دیگر ڈپارٹمنٹ جیسا کہ گورنر ہاؤس، سی ایم ہاؤس، سندھ سیکریٹریٹ، سندھ اسمبلی، ہائی کورٹ سندھ کی طرز پر تمام سرکاری ملازمین کو یوٹیلٹی الاؤنس اور دیگر مراعات بھی دی جائیں: یہ معاملہ آئندہ ہونے والے اجلاس میں زیر بحث لایا جائے گا۔

9۔ ایچ ایس ٹی کو سبجیکٹ اسپیشلسٹ کیلیے پروموشن ریشو کا فکس کیا جائے: اس پر سیکریٹری تعلیم کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی مناسب سفارشات مرتب کرکے بھیجے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*