پاکستان سٹیل ملزکے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ملک گیر مظاہرے

رپورٹ: PTUDC

پاکستان سٹیل ملز کے محنت کشوں کی جبری برطرفیوں اور نجکاری کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا مہم کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے دیگر ترقی پسند تنظیموں کے اشتراک سے ملک گیر احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے چند دنوں میں ہونے والے مظاہروں کی تفصیلات ذیل میں شائع کی جا رہیں ہیں۔

اسلام آباد
 PTUDC کی جانب سے مورخہ 6 جون اسلام آباد پریس کلب کے سامنے پاکستان سٹیل ملز کی ممکنہ نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیاگیا۔ جس میں پیپلز یونٹیPIA، ریلوے لیبر یونین، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ورکرز یونین CBA، انقلابی طلبہ محاذ RSF، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن JKNSF، عوامی ورکرز پارٹی، سول سوسائٹی اور محنت کشوں نے شرکت کی۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف حکومت اپنے کئے گئے وعدوں سے مکمل طور پر منحرف ہو چکی ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پرمزدور دشمن اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ کورونا وبا کی آڑ میں پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کے معاشی قتل کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اس عمل کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ مقررین میں RSF کے مرکزی آرگنائزراویس قرنی، PTUDC کے مرکزی رہنما چنگیز ملک اور دیگر شامل تھے۔

لاہور
مورخہ 6 جون کو حقوق خلق موومنٹ HKM اور PTUDC کے زیراہتمام پریس کلب لاہور کے سامنے اسٹیل ملز کے محنت کشوں سے یک جہتی کے لئے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں محنت کش خواتین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے آغاز میں برمیش اور بلوچستان میں انصاف کے متلاشی افراد کے لئے ایک منٹ خاموشی اختیار کی گئی۔ عوامی شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی، طاہرہ جالب نے ملک کے چھوٹے صوبوں کی عوام کے لئے ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات پیدا کرنے کے لئے اپنے والد کی نظم ’جاگ میرے پنجاب‘ ترنم میں پڑھی جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔


مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اشرافیہ کی لاپرواہی، اقربا پروری اور بدعنوانی نے عوامی اداروں کو عوامی مفاد کی بجائے انہیں نجی منافعوں کے لئے برباد کیا ہے۔ حکومت نے ان اشرافیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے اس کا الزام محنت کشوں پر ڈالنے اور انہیں برطرف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورعوامی ادارے کو نجی مافیا کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ آج ہمیں محنت کشوں کی طاقت کی تعمیر نو اور ملک کے حکمران طبقہ کے لامحدود اختیارات کی جانچ کے لئے محنت کشوں کی ملک گیر مہم کی ضرورت ہے۔ مقررین میں HKM سے عمار علی جان، زاہد علی، راشد بٹ اور PTUDC سےعمر شاہد شامل تھے۔

حیدرآباد
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کی جانب سے مورخہ 5 جون کو پاکستان اسٹیل مل سے 9350 ملازمین کو جبری برطرف کرنے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں PTUDC سمیت ایپکا، نادرا ایمپلائز یونین، ٹریٹ کارپوریشن ایمپلائز یونین، ریلوے محنت کش یونین، بیروزگار نوجوان تحریک، انقلابی طلبہ محاو دیگر اداروں سے ٹریڈ یونین رہنماؤں سمیت نوجوانوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت PTUDC کے صوبائی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ نثار احمد چانڈیو نے کی۔


مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے نثار احمد چانڈیو کا کہنا تھا کہ سٹیل مل سے 9350 ملازمین کی جبری برطرفیاں ایک بہت سنگین مسئلہ ہے اور یہ حکومت کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد ہزاروں محنت کش بیروزگار ہوجائیں گے اور ان کے گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے۔ انہوں نے حکومت کے حالیہ فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کو فوری طور پر ملازمتوں پر بحال کیا جائے، سٹیل ملز ادارہ کو چلایا جائے اور نجکاری پالیسی منسوخ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ PTUDC پورے پاکستان میں محنت کشوں کے شانہ با شانہ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کی جدوجہد کو دیگر ادارں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر جاری رکھے گی۔ مظاہرے سے میرل بھرگڑی، رضاخان سواتی، ایسر داس،عزیز کھوسو، نیاز خاصخیلی، منیر جوکھیو، جے پرکاش و دیگر نے بھی خطاب کیا اور محنت کشوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کا معاشی قتل عام بند کیا جائے اور سٹیل مل کے متعلق لیا گیا حالیہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

خیرپورمیرس
PTUDC اور یونائیٹڈ لیبر فیڈریشن کی جانب خیرپور میرس پریس کلب کے سامنے اسٹیل مل کے محنت کشوں کو برطرف کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں مظاہرین نے سٹیل ملز کے محنت کشوں کے حق اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ ان کاکہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران محنت کشوں سے روزگار چھیننا دراصل ان کا سماجی قتل عام ہے جس کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

ٹنڈوالہ یار
ٹنڈوالہ یار میں PTUDC کے زیراہتمام مورخہ 7 جون کو سٹیل ملز کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظاہرہ کیا گیا جس میں گورنمنٹ سکول ٹیچرز ایسوسی ایشن، بیروزگارنوجوان تحریک، محنت کشوں اور نوجوانوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ مظاہرے سے PTUDC کے میر پور خاص آرگنائزر پر توشم، محمد حسین اور ڈاکٹر عبد غفار نے خطاب کرتے ہوئے محنت کشوں کی برطرفی اور سٹیل ملز کی نجکاری کے حکومتی منصوبے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے روزگار کو تحفظ دیا جائے اور نجکاری پالیسی کو منسوخ کیا جائے۔

میرپور بٹھورو

سٹیل ملز کے محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے PTUDC کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا جس سے جبار زنئور، کامریڈ سکندر اور غنی نے خطاب کیا۔

بھان سیدآباد
پاکستان سٹیل ملز کراچی کے 9350 ملازمین کی جبری برطرفی کے خلاف مورخہ 4 جون کو پریس کلب بھان سیدآباد میں PTUDC اوربیروزگارنوجوان تحریک BNT کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس سے PTUDC کے صوبائی صدر انور پنہور، BNT کے شاہ محمد پنہورر، اقبال میمن، سجاد گچل، سجاد شاہانی اور علی شیر بروہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے طرف سے گولڈ شیک ہینڈ کے نام سے لولی پاپ دیا گیا ہے، کیونکہ 18 ارب روپے تو گریجویٹی اور پروویڈنٹ فنڈ کے لیے بھی ناکافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 5 سال سے محنت کشوں کوپینشن نہیں مل رہی۔ حکومت اصل میں سٹیل مل نجی سرمایہ داروں کو بیچنا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محنت کشوں کے برطرفی کے احکامات واپس کر کے مل کو بحال کر کے چلایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*