پشاور: خیبر پختونخواہ کے ینگ ڈاکٹرز پر پولیس گردی نامنظور!

تحریر:  انفارمیشن بیورو

پشاور میں احتجاجی ینگ ڈاکٹرز پرخیبرپختونخواہ حکومت کی پولیس گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں،  ان کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے تمام مطالبات فی الفور منظور کئے جائیں،  حکومتی ہٹ دھرمی کھلم کھلا غنڈہ گردی ہے۔  پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی صدر نذرمینگل،  سینئر نائب صدر غفران احد،  سیکرٹری جنرل قمرالزماں خاں،  جوائنٹ سیکریٹری چنگیز ملک ،  فنانس سیکریٹری ماجد میمن اورصدر پشاور سنگین باچا  سمیت تمام مرکزی قیادت نے ینگ ڈاکٹر پر پولیس کے بہیمانہ تشد د اور گرفتاریوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا ہے کہ یہ ایک فاشسٹ حکومت ہے۔  جس میں صرف اپنے حقوق مانگنے کی پاداش میں سخت سزائیں دی جا رہی ہے۔  عمران خان اور اسکی حکومت اپنے آپ کو جمہوری کہتی ہے لیکن اس نے اپنے طرز عمل سے ثابت کر دیا کہ یہ ایک بد ترین آمریت ہے۔

خیبر پختونخواہ حکومت ’ہیلتھ ریفارمز ‘ کا بڑا چرچا کر رہی ہے،  اس کے مطابق صوبے کے تما م بڑے ہسپتالوں کو اپنی مالی معاملا ت میں خود کفیل کرنے کے لئے بورڈ آف گورنرز کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا جو کہ درحقیقت نجکاری کی ہی ایک بد ترین شکل ہے۔  جس کی وجہ سے یہاں کام کرنے والے افراد کے ساتھ ’مہنگے علاج ‘ کے باعث عوام مزید ذلیل و خوا ر ہونگے۔  صوبے میں عوام کے لئے موجود صحت کی ناکافی سہولیات مزید ناپید ہونے کی طرف جائیں گی۔  ہسپتالوں میں لازمی سروسز ایکٹ کا نفاذ ملازمین کے جمہوری حق پر ڈاکہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔  صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا بیان کہ ’ ڈاکٹرز کے لئے یہ سزا بھی کم ہے‘ ان کے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔  

ہم سمجھتے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات جائز ہیں اور ان کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔  ہمارا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ تمام پابند سلاسل ڈاکٹرز کو فوری طور پر رہا کرتے ہوئے ان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں۔ عمران خان کے کزن نوشیروان برکی کی  ناجائز حکومتی پشت پناہی بند کی جائے اور ینگ ڈاکٹرزکے مطالبات فوری طور پر منظور کئے جائیں۔

ڈان نیوز کی ینگ ڈاکٹرز پر تشدد کی ویڈیو

مزید پڑھیں:

پشاور: ینگ ڈاکٹرز کے احتجاج پر بدترین ریاستی جبر اور گرفتاریاں

پشاور: خیبر پختونخواہ کے ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*