لیورنور کی بندرگاہ فلسطینی آبادی کے قتل عام کا حامی نہیں، اطالوی محنت کشوں کا اسرائیل کی اسلحہ کھیپ کولوڈ کرنے سے انکار

رپورٹ: انٹرنیشنل ڈیسک

فلسطین پراسرائیلی جارحیت کے خلاف پوری دنیا کے محنت کشوں اورعام انسانوں کی جانب سے شدید غم وغصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر پوری دنیا کی جانب سے بڑی تعداد میں اسرائیل کی مذمتی اور فلسطین سے ہمدردی کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور آج دنیا کے کئی ممالک میں احتجاجات بھی منظم کئے گئے۔ دوسری جانب ہمیں مسلم ممالک سمیت دنیا بھر کے حکمرانوں، اقوام متحدہ اور دیگر سامراجی اداروں کی جانب سے اسرائیل ریاست کی بالواسطہ یا بلا واسطہ حمایت نظرآرہی ہے۔ فلسطین کی آزادی کی تحریک کسی خاص عقیدے، نسل، رنگ یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ دنیا بھر میں تمام مظالم کا آئینہ بن چکی ہے۔ یہ لڑائی قومی نہیں بلکہ طبقاتی بنیادوں پر ہی جیتی جا سکتی ہے جس میں پوری دنیا کے محنت کشوں کا ساتھ نہایت ضروری ہے۔ محنت کشوں کی عالمی جڑت کا عملی مظاہرہ اطالوی محنت کشوں کی جانب سے نظر آیا۔

کل جمعہ مورخہ 14مئی کو بندرگار کے محنت کشوں کی یونین L’Unione Sindacale di Base کو اٹلی کی لیورنور بندرگاہ پر ’ایشیاٹک آئی لینڈ‘ نامی مال بردار جہاز پہنچنے کی اطلاع کو ملی۔ آزاد کلیکٹو آف پورٹ ورکرز آفجینوا اور ویپن واچ ایسو سی ایشن کی رپورٹس سے یونین کو معلوم ہوا کہ اس جہاز میں اسرائیل کی بندرگار اشدود کی طرف جانے والے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سے لدے کنٹینر موجود ہیں۔ ظاہری طور پر اس اسلحے کا استعمال فلسطینی آبادی کو مارنے کے لئے استعمال کیا جانا تھا جس کی بدولت مزید متعدد بچوں اور سینکڑوں فلسطینیوں کی شہادت کا خطرہ ہے۔ اس خوفناک صورتحال کی وجہ سے بندرگاہ کے محنت کشوں کی جانب سے جہاز کو لنگر انداز ہونے اور مال کو لوڈ سے انکار کر دیا۔ یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’موجود حالات میں ہم محنت کش مشکل معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر یہ واضح ہے کہ ہم محنت کش اس قتل عام کا حصہ نہیں بنیں گے، ہم پورٹ ورکرز کے ذریعہ اس سلسلے میں مزید معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی کل کے روز ہی ہمیں ایک اطلاع موصول ہوئی کہ مولو اٹلیہ میں درجنوں فوجی بکتر بند گاڑیاں روانہ ہونے کے لئے تیار ہیں۔ جنگ کے ساتھ اسلحہ بردار جہاز محنت کشوں اور آبادی کی حفاظت کے لئے بھی مسئلہ ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے پورٹ اتھارٹی کو فوری طور پر کاروائی کرنے کے لئے رپورٹس ارسال کیں ہیں۔‘

L’Unione Sindacale di Base کی جانب سے آج لیورنو کے چوک اور پورے اٹلی میں غزہ پر بمباری اور فلسطینی زمینیوں پراسرائیل کے غیر قانونی قبضوں کو روکنے کے مطالبات کے گرد مظاہرے بھی منظم کئے گئے۔ یونین نے دیگر محنت کشوں میں فلسطین کے سلسلے میں آگاہی مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے اور اس سلسلے میں یونین نے واضح کیا کہ اس موقع پر ہم غیرجانبدار رہ کر آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے اور اس سے بھی بد تر عام شہریوں کی مسلسل قتل و غارت گری کرنے کی مدد فراہم نہیں کی جا سکتی۔

یاد رہے کہ 2019ء میں بھی اطالوی محنت کشوں کی جانب سے یمن پر سعودی جارحیت کے خلا ف احتجاج کرتے ہوئے سعودی عرب کے اسلحہ بردار جہاز کو بھی روک دیا گیا تھا۔

اطالوی محنت کشوں کے اظہار یکجہتی کے اس عمل کو اگر عالمی طور پر منظم کرکے پوری دنیا کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ اسرائیلی ریاست اور امریکی سامراج کے فلسطین پر جاری حملوں کو نہ صر ف روکا جا سکتا ہے، بلکہ فلسطین کے مسئلے کو مستقل بنیادوں کو حل کرنے کے لئے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔