اکنامک زونز: محنت کے بدترین استحصالی مراکز ؟

رپورٹ: مزدورنامہ

لاطینی امریکہ سے لے کر چین تک سرمایہ داری کے وظیفہ خور معیشت دان ’آزاد منڈی‘ میں سپیشل اکنامک زونز کے فضائل کو گنواتے نہیں تھکتے، خاص طورپر90ء کی دہائی کے بعد چین کی جانب سے سپیشل اکنامک زونز کو دنیا بھر کے لئے رول ماڈل قراد دیا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے بھی ایسے زونز کے قیام کو ’ترقی‘ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے تمام نام نہاد تیسری دنیا کے ممالک کو اس ماڈل پر کام کرنے کے نسخے جاری کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس ماڈل کو ماضی میں ’ایکسپورٹ پراسسنگ زونز‘ کی شکل میں نافذ کیا گیا اوراب چین کی آمد کے ساتھ بڑے پیمانے پر سپیشل اکنامک زونز کے قیام کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں کراچی سے سیالکوٹ تک یہ زونز قائم کئے گئے ہیں، جن میں سرمایہ داروں کو کئی سہولیات اورمراعات سے نوازا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کراچی، سیندک، ڈاڈر، رسالپور، سیالکوٹ، طوارکی، گوجرانوالہ اور گوادر میں ایکسپورٹ پراسسنگ زونز قائم ہیں جہاں مختلف صنعتیں قائم کی گئیں ہیں مثال کے طور پر کراچی میں اعلیٰ معیار کی ملبوسات، کیمیکلز، کھلونے، پلاسٹک اور انجینئرنگ کا سامان، سیالکوٹ میں آلات جراحی، کھیلوں کا ساما ن اور چمڑے کی مصنوعات، رسالپور میں ٹریڈنگ ، ویئر ہاسنگ، فرنیچر اور انجینئرنگ کے کارخانے اور گوجرانوالہ میں لائٹ انجینئرنگ اور کنزیومر ڈیوایبل تیار ہوتے ہیں۔ وزارت صنعت کی سالانہ رپورٹ کے مطابق تقریباً ملک گیر یونٹس 301 ہیں جن میں 40ہزار تا 50ہزار محنت کش قائم کر رہے ہیں ان میں بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ ان زونز کو وزارت انڈسٹری کے تحت خود مختیار ادارہ ایکسپورٹ پراسسنگ زون اتھارٹی کنٹرول کرتی ہے۔ ان میں سرمایہ کاری کی کوئی حد نہیں، مشینری منگوانے پر بھی سرمائے کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہاں قائم ہونے والی صنعتوں کو ٹیکس میں بھی خاصی مراعات دی گئی ہیں، خام مال سمیت تمام input cost بشمول بجلی و گیس سیلز ٹیکس فری دستیاب ہیں۔ ہر طرح کی مشینری درآمد کرنے پر کوئی امپورٹ ڈیوٹی عائد نہیں کی جاتی اور حکومت پاکستان کے ایکسچینج کنٹرول ریگولیشنز کا نفاذ بھی نہیں ہوتا۔ آسان الفاظ میں یہاں کمایا گیا منافع کسی بھی بندش کے بغیر بیرون ملک آسانی سے ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف محنت کشوں پر کئی طرح کی قدعنیں عائد کی گئیں ہیں جن میں یہاں پر نام نہاد production based labour laws کا نفاذ کیا گیا ہے جن کے مطابق یہاں یونین سازی اور ہڑتال جیسے بنیادی حقوق غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں۔ اتھارٹی کے قوانین کے مطابق ان زونز میں پاکستان کے لیبر قوانین مثلاًصنعتی تعلقاتی آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوتا، اس لئے یہاں پر کسی قسم کے حقوق کا سوال کرنا بھی غیر قانونی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہاں پرکام کرنے والے محنت کش سرمایہ داروں کے رحم کرم پر ہیں وہ اجرت ، اوقات کار جیسے مسائل پر اپنی آواز بھی بلند نہیں کر سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ دار بھی بڑے پیمانے پر اپنی فیکٹریاں ان زونز میں منتقل کر رہے ہیں۔ ان زونز کا واحد مقصد سرمایہ کاروں کو لوٹ مار کے لئے ’قانونی‘ طور پر آزادی دینا مقصود ہے۔ سرمایہ داری کے سنجیدہ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان زونز نے کسی بھی ملک کی معیشیت یا عوام کی سماجی حالت کو بہتر نہیں بنایا بلکہ محنت کشوں کے استحصال میں بھر پور اضافہ کرنے میں مدد دی ہے۔

اب چین کی جانب سے گلگت تا گوادر تک اکنامک زونز بنانے کے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں، لیکن گزشتہ چند سالوں سے زیادہ تر سرمایہ کاری کی شکل پھر capital intensiveہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کو بروکار لاتے ہوئے محنت کشوں کی کم سے کم تعداد میں زیادہ سے زیادہ کام کروایا جا رہا ہے۔ اس کیفیت میں اکنامک زونز پھر محنت کشوں کے لئے کسی بہتری کی امید کی بجائے مزید مشکلات لے کر آئیں گے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC سمجھتی ہے کہ ایسی صورتحال میں محنت کشوں کی جانب سے مشترکہ جدوجہد ناگزیرہے جو کہ اس سرمائے کے نظام کو نست ونابود کرتے ہوئے مزدور ریاست کے قیام کی طرف اہم قدم ثابت ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*