حیدرآباد: سندھ پبلک کمیشن پاس نرسز کا مستقل ملازمت کے لئے احتجاج

رپورٹ: PTUDC حیدرآباد

کورونا وائرس کے خلاف اگلے مورچوں پر لڑنے والےنرسز تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جس نے انہیں فاقوں پرمجبور کر دیا ہے۔ سندھ کے 2382 اسٹاف نرسز جو کہ سندھ پبلک سروس کمیشن پاس کرچکے ہیں، ان میں سے 1336 کو رینڈرڈ بیسز پر تین ماہ کے لئے اس وعدے کے ساتھ کرونا ایمرجنسی میں رکھا گیا کہ انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے گا۔ لیکن ایک اور کانٹریکٹ بھیج دیا گیا ہے۔ ان نرسز نے 24 اگست 2019 کو سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت اسٹاف نرس کا امتحان پاس کیا۔ کامیاب امیدواروں کوانٹرویو کے لئے مارچ 2020 کی تاریخ دی گئی لیکن کورونا وائرس کے باعث انٹرویو موخر کر دیئے گئے۔ ساتھ ہی 26 مارچ کو سندھ بھر میں 1336 نرسز کو 89 دنوں کے لئے بھرتی کیا گیا تھا۔ ان نرسز کی مدت ملازمت پیر 22 جون کو ختم ہوگئی لیکن اس سارے عرصہ کے دوران انہیں تنخواہیں نہیں ادا کی گئیں۔

اس سلسلے میں مورخہ 29 جون حیدرآباد پریس کلب کے سامنے نرسز فورم اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپیئن PTUDC کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں  PTUDC کی طرف کامریڈ اکرم اور کامریڈ ولہار اور کامریڈ سہیل نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ کورونا متاثرین کو خدمات دیتے ہوئے ان کے ساتھی اور خاندان کے افراد کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں وہ اپنی زندگی داؤ پر لگا چکے ہیں. لیکن ان کی نوکری مسقل نہ ہونے کی باعث وہ شدید شش و پنج کا شکار ہیں۔ اگر ان حالات میں ان کی موت واقع ہوجاتی ہے تو ان کے بچے دربدر ہوجائیں گے۔ مطالبہ کیا گیا کہ SPSC کمیشن پاس نرسز کو ریگولر کیا جائے اور انہیں تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*