لاہور: اساتذہ کا مستقلی کے لیے دھرنا نویں روز میں داخل

رپورٹ: PTUDC لاہور

اے ای اوز اور ایس ایس ای اساتذہ کا مستقلی کے لیے لاہور میں دیے جانے والا دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے اساتذہ کے مزید قافلے لاہور دھرنے میں شرکت کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ مظاہرین کے پنجاب صوبائی وزیر تعلیم مراد راس اور صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سے متعدد بار مذاکرت ہوئے تھے لیکن تاحال کسی بھی مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا۔ اساتذہ کے مطالبات میں سنیئر ایس ایس ٹی اساتذہ کو خالی ہائی سکول کی اسامیوں پر بطور ہیڈماسٹر، پی ایس ٹی اساتذہ کو گریڈ سولہ، ایس ایس ٹی ریگولر کو گریڈ سترہ دینے، ایس ایس ای او راے ای او ز کو مستقل کرنے جن پرائمری اساتذہ یکم جنوری دوہزار اٹھارہ کو نظر اندازکیا گیا ان کو اضافی انکریمنٹ دی جائے، صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں محکمانہ پروموشن کوٹہ کے مطابق کی جائے، گریڈ اٹھارہ اور انیس کی پروموشن کمیٹی کا صوبائی اجلاس طلب کیا جائے اور وفاقی حکومت کی طرف سے تنخواوں میں پچیس فی صد اعلان پر فوری طور پر عمل درامد کیا جانا شامل ہیں۔

وزیراعلی پنجاب کے آفس کے سامنے اساتذہ کا دھرنا جاری ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پورے کئے جانے کی بجائے ان کو خلاف پولیس گردی اور انتقامی کاروائیوں کی دھمکیاں دیں جا رہی ہے۔ اساتذہ سے اظہار یکجہتی کے لئے مختلف تنظیموں کے نمائندگان کی جانب سے شرکت جاری ہے۔ آج صدر پنجاب یونین آف جرنلسٹس قمرالزمان بھٹی اور جنرل سیکرٹری خواجہ آفتاب حسن، پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی رہنما عمر شاہد  نے آج دھرنے میں شرکت کی اور اساتذہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریگولر ہونا اساتذہ کا حق ہے۔ پنجاب حکومت ان کے مطالبے کو پورا کرے۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پی یوجے کے صدرقمر الزمان بھٹی کا کہنا تھا کہ اساتذہ اور دیگر طبقات کی طرح ملک بھر کے صحافیوں کو بھی اس دور حکومت میں لاتعداد مسائل کا سامنا ہے۔ آزادی صحافت جو کسی بھی صحافی کا بنیادی حق ہے، مگر آج یہ حق غیر اعلانیہ سنسر شپ کے باعث چھین لیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف صحافیوں کی معاشی آزادی بھی داو پر لگی ہوئی ہے۔ بر وقت تنخواہیں نہ ملنا اور تنخواہوں میں کٹوتیاں سمیت ویج ایوارڈ پر عمل نہ ہونے سمیت صحافیوں کو ٹھکیداری نظام کے تحت ریگولر نوکری کے حق سے محروم کردیا گیا ہے۔ پی یوجے کے صدر نے واضح کیا کہ محنت کش طبقے اور اساتذہ سمیت ڈاکٹرز، کلرک، ریلوے مزدور، واپڈا اور دیگر کے حقوق کی جدوجہد میں پی ایف یوجے اور پی یوجے ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے تمام اساتذہ کو ریگولر کرنے کا مطالبہ کیا۔