کرونا وائرس کی وبا: انقلابی طلبہ محاذ اور پی ٹی یو ڈی سی کا مشترکہ اعلامیہ

مرکزی انفارمیشن بیورو

پاکستان سمیت دنیا بھر کے حالات نے کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں بالکل نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس وبا نے ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی سرمایہ داری کی تاریخی نا اہلی کو جس انداز سے واضح کیا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی ہے۔ کوئی ایک بھی سرمایہ دارانہ ملک ایسا نہیں ہے جہاں کا نظامِ صحت اس وبا کے نتیجے میں شدید بیمار ہونے والے 5 فیصد مریضوں کا بوجھ اٹھانے کے بھی قابل ہو۔ اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے کے آخر میں امریکہ اور یورپ کے ممالک میں بھی بستروں، ماسکوں، ادویات، وینٹی لیٹروں اور دوسرے طبی و حفاظتی سامان کی شدید قلت جنم لے رہی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی، قدرتی وسائل اور افرادی قوت کی بہتات کے باوجود اس نظام نے انسانیت کو کیسی بے بسی، کرب اور تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ اس وبا کا دورانیہ کافی طوالت اختیار کر سکتا ہے۔ جس کا دوسرا مطلب ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال آنے والے کئی مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اگرچہ کرونا وائرس کے نتیجے میں اموات کی شرح ایک فیصد یا اس سے بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو پاکستان جیسے زیادہ آبادی والے ممالک میں لاکھوں لوگوں کی موت واقع ہو سکتی ہے جن میں زیادہ تعداد معمر افراد کی ہو گی۔ وبا کئی لہروں کی صورت میں بار بار آ سکتی ہے۔ ایک لہر کے آ کر چلے جانے کی صورت میں صورتحال میں وقتی بہتری کے بعد پہلے سے زیادہ وسیع اور مہلک لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن کرونا وائرس سے متاثر ہو جانے کا مطلب موت نہیں ہے۔ اس صورت میں اپنا حوصلہ و ہمت برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ 80 فیصد صورتوں میں کسی خصوصی علاج کی ضرورت نہیں پڑے گی جبکہ 15 فیصد صورتوں میں معمولی علاج سے مریض صحت یاب ہو سکتا ہے۔ لمبے عرصے میں کرہ ارض کے کم از کم 70 فیصد انسان اس وائرس سے متاثر ہوں گے جس کے نتیجے میں قوی امکانات ہیں کہ کسی ویکسین کی عدم موجودگی میں بھی انسانیت میں اس وائرس کے خلاف قدرتی قوت مدافعت (Immunity) پیدا ہو جائے گی۔ لیکن اجتماعی امیونٹی کی بھاری قیمت بے شمار اموات کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ ریاستیں فی الوقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور لاک ڈاؤن جیسے طریقوں سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح کو کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کیا جا سکے۔ یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ہے کہ موسم کی تبدیلی وبا کے کنٹرول میں خاطر خواہ نتائج مرتب کر پائے۔ کئی طرح کے امکانات موجود ہیں جن کے لئے عوام کو تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ فی الوقت لاک آؤ ٹ جیسے اقدامات سے ریاستیں کوشش کر رہی ہیں کہ ہیلتھ کیئر کے پہلے سے بحران زدہ اور اکثر صورتوں میں ناکافی و تباہ حال نظاموں پہ بوجھ کو کم سے کم کیا جا سکے اور تیاریوں کا موقع بھی مل سکے۔ یعنی اچانک مریضوں کی بوچھاڑ نہ ہو بلکہ مریض بتدریج انداز سے آئیں۔ مزید برآں اس دوران کوئی علاج/ ویکسین دریافت ہو سکے جس کے ذریعے وبا کے تسلسل کو توڑ دیا جائے یا ہر ممکنہ حد تک بے ضرر بنا دیا جائے۔

پاکستان میں تادمِ تحریر 800 سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ اگرچہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ بحیثیت مجموعی ملک میں ایک نیم لاک ڈاؤن کی کیفیت ہے جوکہ وبا کے تیز پھیلاؤ کی و جہ سے ملک کے کچھ حصوں میں مکمل اور اعلانیہ لاک ڈاؤن میں تبدیل ہو رہی ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے فوج کو اس لاک ڈاؤن کے لئے طلب کیا جا رہا ہے جس کی منظوری وفاقی حکومت نے دے دی ہے۔ لیکن معاشی نقصان اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بھوکوں مرنے والے انسانوں کی بڑی تعداد کے ردِ عمل کے خوف جیسے عوامل کے نتیجے میں ریاستی پالیسی سازوں کے لئے یہ فیصلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ بالخصوص وفاقی حکومت کی جانب سے ایک واردات یہ بھی کی جا رہی ہے کہ اعلان کیے بغیر لاک ڈاؤن کر دیا جائے تاکہ محنت کش طبقے کے غریب ترین حصوں (جن میں زیادہ تر دہاڑی دار مزدور شامل ہیں) کو سرکار کی طرف سے کچھ نہ دینا پڑے۔ دوسری طرف سرمایہ داروں کو ٹیکس معافی یا دوسرے طریقوں سے نوازنے کے لئے سینکڑوں ارب روپے کے پیکیج دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ کیفیت ایک بار پھر سرمایہ دارانہ ریاستوں کے طبقاتی کردار اور تعصب کو واضح کرتی ہے۔ ہم ان حالات میں لاک ڈاؤن کی یکسر مخالفت نہیں کر سکتے لیکن ہماری حمایت ہمارے مطالبات کے ساتھ مشروط ہے۔ ان مطالبات کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

٭ تمام نجی ہسپتالوں کو قومی تحویل میں لیتے ہوئے کرونا وائرس سے نبٹنے کا ملک گیر ہنگامی منصوبہ تیار کیا جائے۔ ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بوقت ضرورت فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور بے شمار شاخیں رکھنے والے بڑے میڈیکل سٹوروں کو بھی قومی تحویل میں لیا جائے۔

٭ ڈاکٹروں، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو وائرس سے بچاؤ کا مکمل سامان فوری فراہم کیا جائے۔ عدم دستیابی کی صورت میں یہ سامان ہنگامی بنیادوں پر درآمد کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو سرکاری سطح پر ملک میں تیار کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ اس سلسلے میں جن صنعتوں کے استعمال کی ضرورت پڑے انہیں ریاست کے قبضے اور انتظام میں لیا جائے۔

٭ ملک میں وینٹی لیٹرز کی شدید قلت ہے۔ کم از کم ایک لاکھ وینٹی لیٹر فوری درآمد کیے جائیں جو اِس وبا سے ہٹ کے بھی بعد ازاں زیرِ استعمال لائے جائیں۔

٭ یقینی بنایا جائے کہ کرونا ٹیسٹ کی کِٹس کی کسی صورت قلت پیدا نہ ہو۔ فوری ضرورت سے کہیں زیادہ تعداد میں یہ کِٹس درآمد کی جائیں۔

٭ ہرشہرمیں کرونا انفیکشن کے ٹیسٹ، قرنطینہ اور علاج کی سہولیات بالکل مفت فراہم کی جائیں۔

٭ قرنطینہ اور فیلڈ ہسپتالوں کے قیام کے لئے سرکاری عمارات کے ساتھ ساتھ بڑی نجی عمارات (شادی ہال اور ہوٹلوں کے کانفرنس ہال وغیرہ) کو بھی بوقت ضرورت بلا معاوضہ استعمال میں لایا جائے۔

٭ عالمی منڈی سے ضروری طبی و حفاظتی سامان کی خریداری کے لئے درکار زرِ مبادلہ کے حصول کے لئے سامراجی قرضہ جات کی ادائیگی سے انکار کیا جائے اور فوری ضرورت کی اشیا کے علاوہ تمام لگثری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے۔

٭ لاک ڈاؤن کی صورت میں دہاڑی پہ کام کرنے والے محنت کشوں تک راشن کی فراہمی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ جب تک صورتحال معمول پہ واپس نہیں آ جاتی بجلی، گیس اور پانی کے بِل معاف کیے جائیں اور گھروں کا کرایہ سرکاری خزانے سے ادا کیا جائے۔

٭ ان حالات میں یقینی بنایا جائے کہ کوئی ادارہ/ فیکٹری محنت کشوں کو فارغ نہ کرے یا ان کی تنخواہیں نہ روکے۔ اس سلسلے میں مالکان کو سخت وارننگ جاری کی جائے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں مالکان کی تمام جائیداد کی بحق سرکار ضبطی عمل میں لائی جائے۔

٭ ملک کے بیشتر ہسپتالوں میں پہلے سے سٹاف کی شدید قلت ہے جسے دور کرنے کے لئے فوراً بھرتیاں شروع کی جائیں۔

٭ ان اقدامات کے لئے درکار پیسے/ سرمائے کے حصول کے لئے ضرورت پڑنے پر نجی بینکوں کو قومی تحویل میں لیا جائے۔

٭ کرونا کی وبا کے خلاف لڑائی کو کسی صورت منڈی کی قوتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے بلکہ ٹھوس مرکزی منصوبہ بندی اور نیشنلائزیشن کے طریقہ ہائے کار استعمال کیے جائیں۔

٭ سرمایہ داروں کو بیل آؤٹ دینے کی بجائے ان کے منافعوں پرٹیکس لگا کر فنڈز کو عوامی بہبود پر خرچ کیا جا ئے۔

پاکستان جیسے غریب ممالک میں لاک ڈاؤن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وسیع بیروزگاری اور معاشی تنگدستی کے پیش نظر احتجاجوں کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صورتحال ایک مکمل انتشار اور امن و امان کے انہدام کی طرف بھی جا سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری پھر اس نظام اور اس کے اداروں پر عائد ہو گی۔ لیکن موجودہ حالات میں اپنی اور اپنے محنت کش ساتھیوں کی جان کی حفاظت بھی ایک انتہائی اہم انقلابی ذمہ داری ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ ہر طرح کے ہجوم سے دور رہا جائے۔ غیر ضروری میل جول سے پرہیز کیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ وقت گھروں میں گزارا جائے۔ (بالخصوص باہر سے آنے کے بعد) ہاتھ بیس سیکنڈ تک صابن سے بار بار دھوئے جائیں۔ مناسب غذا کا استعمال جاری رکھا جائے تاکہ جسم کی قوت مدافعت برقرار رہ سکے۔ تمباکو نوشی کو کم سے کم کیا جائے۔

اپنے حوصلے بلند رکھیں‘ اپنی ہمت جواں رکھیں۔ اس سماج کا ہر بحران اپنے سوشلسٹ نصب العین پر ہمارے یقین میں اضافہ کرتا ہے۔ سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد ہر طرح کے حالات میں جاری ہے اور جاری رہے گی۔ ہم ہوں گے کامیاب!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*