کراچی: ادارے اور ملازمین کے تحفظ کے لئے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے، آل ایمپلائز ایکشن کمیٹی پاکستان اسٹیل ملز

رپورٹ: PTUDC اسٹیل ملز کراچی

تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے عوامی اداروں کی نجکاری کی بجائے انہیں بہتر بنانے کے بلند و بانگ دعوے سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت عالمی سود خوروں کے آگے گھٹنے ٹیک کر نجکاری کے عمل کو تیز کرنے اور تمام ریاستی اداروں کی بندر بانت اور ٹھکانے لگانے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہے۔ اس میں سب سے پہلے پاکستان اسٹیل جیسے بڑے ادارے کے  8600 ملازمین کی جبری برطرفی کے اقدام نے حکومت کے عزائم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ یہاں یہ بھی واضع کرنا ضروری ہے کہ حکومت وقت کے درآمد شدہ مشیروں کے مطابق اسٹیل ملز میں اس وقت ملازمین کی تعداد زیادہ ہے جو کہ سراسر غلط بیانی ہے۔ کیونکہ روس نے صر ف کو ر ڈیپارٹمنٹ کے لئے 15000 ملازمین کی سفارش کی تھی جبکہ مالی سال 2008ء میں اسٹیل ملز تقریباً 18000 ملازمین کے ساتھ منافع میں تھی مگر حکومت اپنی ناکامی اور نااہلی کا ملبہ ملازمین پر ڈال رہی ہے جو کہ سراسر زیاتی اور بد یانتی پر مبنی عمل ہے۔ ان خیالات کا اظہارکل مورخہ 15 ستمبر کو ملیر پریس کلب میں اسٹیل ملز کی متحرک یونینز پرمبنی آل ایمپلائزایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل ملز کے رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی سٹیل ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے تمام ملازمین یکمشت نکالنے کے منصوبے کو بھی یکسر مسترد کر دیا ہے۔ کورونا وبا میں کمی کے باعث جہاں پورے ملک میں سکول تک کھول رہے ہیں مگر اسٹیل ملز بد ستور ملازمین کے لئے بند ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے مورخہ 13اگست کو سرکلر کے ذریعے اخراجات کا رونا روتے ہوئے ملازمین کو مزید ایک ماہ کے لئے گھر بیٹھنے کا کہا گیا ہے دوسری طرف اپنی سیکیورٹی اور ڈی ایس جی ادارے میں موجود ہونے کے باوجود اسٹیل ملز کی انتظامیہ کروڑوں روپے پرائیویٹ سیکیورٹی سے کنٹرکٹ منصوبہ بنا رہی ہے۔ وزیر صنعت حماد اظہر کا بیان کہ اسٹیل ملز کے نئے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کا مقصد پیداواری سرگرمیو ں کی بجائے ادارے میں یونینز کے مسائل سے نمٹنا ہے اور اس کی تصدیق خود سی ای اونے ٹریڈ یونینز رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کہی جب سی ای او نے خود کہاکہ ہم ادارہ چلانے نہیں آئے۔

انہوں نے حکومت وقت کو واضح پیغام دیا کہ حکومت یونینز پر مزید قدغنیں لگا کر ادارے کی نجکاری کرنا چاہتی ہے مگر ہم اس عمل کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ ملازمین کو جو ن کو بعد اب تک حکومت وقت تنخواہیں دینے سے گریزاں نظر آرہی ہے، ملازمین میں بڑھتی ہوئی پریشانیوں کے باعث آل ایمپلائز ایکشن کمیٹی آف پاکستان اسٹیل ملز کے پلیٹ فارم سے ہم حکومت کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم نے ادارے اور ملازمین کے تحفظ کے لئے بھر پور مزاحمت اور قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ احتجاجی پروگرام جس میں ریلیاں، مظاہرے، دھرنے شامل ہیں، کو حتمی شکل دی جار ہی ہے۔ اس کے علاوہ کراچی اور پاکستان بھر میں موجود فیڈریشنز اورٹریڈ یونینز کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کے لئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جانب مارچ بھی کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*