پاکستان اسٹیل ملزملازمین کے معاشی قتل عام کے خلاف ملک بھر کے محنت کشوں کو میدان عمل میں اترنا ہو گا، پی ٹی یو ڈی سی سندھ

رپورٹ: PTUDC دادو

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC سندھ کی جانب سے مورخہ 4 دسمبر کو PTUDC سندھ کے صوبائی صدر انور پنہور، ضلع دادو کے صدر محمد موریل پنہور، جنرل سیکرٹری ضمیر کوریجو، راجہ رفیق پنہور اور اعجاز بگھیو نے پريس کلب دادو میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل ملز کراچی کے برطرف ملازمین کی بحالی کی جدوجہد میں ملک کے تمام محنت کشوں کو لازمی شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اسٹیل ملز کی نجکاری اور ملازمین کی جبری برطرفیاں کسی کے بھی مفاد نہیں ہے، اس سے ایک طرف محنت کشوں میں بے چینی بڑھے گی، تو دوسری طرف ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکمرانوں میں تھوڑی بھی سچائی ہوتی تو اس ملک کے اپنے وسائل سے ہی چلا کر ملک کو صنعتی طور مستحکم بناتے۔ اسٹیل ملز کے لیے باہر سے آسٹریا اور ہنگری سے جو خام لوہا منگوایا جاتا ہے اس سے خالص لوہا بنانے کی شرح 52 فیصد ہے، جب کہ اپنے ملک کے اندر سندھ کے صحرائے تھر میں ملنے والے خام لوہے کی خالص بننے کی شرح 58 سے 64 تک فیصد ہے۔ بلوچستان کے کوہلو اور دالبدین سے ملنے والے خام لوہے کی خالص بننے کی شرح 52 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بڑے صنعتی اثاثے کو جان بوجھ کر تباہ و برباد کر دیا گیا ہے اور اس سے ملکی معیشت کا سالانہ 4 ارب ڈالرنقصان ہورہا ہے، کیونکہ اب حکمرانوں کو سالانہ 75 سے 80 لاکھ ٹن لوہا باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔

حکمرانوں نے اس وقت 4544 ملازمین کی برطرفی کے احکامات جاری کئے ہیں اور مزید 4000 ملازمین کے برطرفی کے آرڈر تیار پڑے ہیں اور کسی وقت بھی وہ جاری کیے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ حکمرانوں نے نجکاری کے ذریعے اس اسٹیل ملز کو بیچنا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام محنت کشوں اور باشعور افراد سے اپیل کی جاتی ہے کہ اسٹیل ملزملازمین کا ساتھ دیا جائے تاکہ اس اثاثے کے ساتھ ملازمین کے روزگار کا تحفظ کیا جا سکے۔