کراچی: ظالمانہ حکومتی پالیسیاں مسترد، اسٹیل ملز کے محنت کشوں کا شاندار احتجاج

رپورٹ: PTUDC کراچی

وفاقی حکومت کی جانب سے  فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسٹیل مل کے ملازمین کو دو، اڑھائی سال کی تنخواہیں اکٹھی ادا کرنے کے بعد اسٹیل مل کی 1200ایکٹر اراضی الگ کی جائے اور ساتھ 19 ہزار ایکٹر اراضی حکومت کو منتقل کر نے کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کو لیز پر 1200ایکٹر اراضی پر مشتمل اسٹیل مل دی جائے۔ یعنی آسان الفاظ میں محنت کشوں کو جبری برطرف کرکے زمین  پرائیویٹ مافیا کو نوازی جائے۔ اس حکومتی ظالمانہ  فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے سٹیل ملز کے محنت کشوں جدوجہد کی راہ اختیار کی ہے۔ اس سلسلے میں آج پاکستان مارکیٹ سے ملیر پریس کلب تک عظیم الشان ریلی نکالی گئی، جس میں ملازمین سمیت ان کے اہل خانہ بھی شریک ہوئے۔ ریلی کے دوران شرکاء نے حکومت وقت کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ ریلی کی کال آل پاکستان اسٹیل ملز ایمپلائز ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی اور ریلی مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی ملیر پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی جہاں پر ایکشن کمیٹی کے قائدین نے ریلی سے خطاب کیا۔

جبری برطرفیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ، مورخہ 21 نومبر کو پاکستان اسٹیل ملز کی تمام ٹریڈ یونینز اور آفیسرز ایسوسی ایشنز کے 21 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں دھنی بخش سموں پیپلز، مرزا مقصود وائس آف پاکستان اسٹیل ملز، عاصم بھٹی پاسلو یونین، ممتاز بھٹو پیپلز ورکرز یونین، یاسین جامڑو انصاف لیبر یونین، نذیر جان ورکرز یونٹی، اکبر ناریجو پروگریسو یونین، مجید منصوری یونائیٹڈ، اصغر جنجوعہ ٹاپس، سلیم گل۔ انصاف ورکرز یونین، عبدالحق چنا فنکشنل لیگ، نوید آفتاب ٹریڈ یونین رہنما، اکبر میمن PTUDC، نیسم حیدر ایمپلائز لیگ، امجد زرداری یوتھ یونٹی، شوکت کورائی جئے سندھ، سرور نیازی، رضی احمد یونائٹڈ ورکرز اور راؤ خالد پیپلز آفیسرز نے شرکت کی۔

آج کے کامیاب احتجاج نے حکمرانوں کو واضح پیغام بھیجا کہ اسٹیل ملز کے محنت کش زندہ ہیں اور وہ حکومت وقت کے ظالمانہ فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ آج کا احتجاج اس تحریک کا نقطہ آغاز ہے، جو کہ مطالبات پورے ہونے تک جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں کل مورخہ 23 نومبر کو جناح گیٹ اسٹیل ملز بوقت 7:30 بجے دوبارہ شاندار احتجاج کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*