حق بات پہ کوڑے اور زنداں: اسلام آباد میں فارن میڈیکل گریجویٹس اور مظفرآباد میں اساتذہ پر ریاستی تشدد نامنظور

رپورٹ: مرکزی انفارمیشن بیورو

تبدیلی کے نام پر نوجوانوں کو استعمال کرکے اقتدارمیں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت دراصل اب مکمل طور پر فاشسٹ طرز حکمرانی کو اختیار کر چکی ہے۔ ایک جانب عوام پر سخت معاشی حملے کئے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ظلم کے خلاف ابھرنے والی آوازوں کو کچلنے کے لئے اب احتجاجات اور مظاہروں پر بھی پابندیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نااہل حکمرانوں کے ٹولے اب عوام کو اپنے آئینی حق سے بھی محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کا عملی اظہار ایک بار پھر آج مظفرآباد اور اسلام آباد میں ہوا۔

مظفرآباد میں اپنے دیرینہ مطالبہ سکیل اپ گریڈیشن کے لئے مظاہرہ کرنے والے اساتذہ پرآزاد کشمیر پولیس کی جانب سے بدترین  لاٹھی چارج کیا گیا اوران کے احتجاج کو بزور طاقت کچلنے کے لئے قوم کے معماروں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ آزاد کشمیرمیں اساتذہ برادری ملک کے دیگرحصوں کے برابر پے سکیل کا مطالبہ 2009ء سے کر رہی ہے۔ اساتذہ ازادکشمیر کے اس جائز حق کو 10 سال سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر کے سکول اساتذہ نے اس نا انصافی پر بارہا آواز اٹھائی اور ارباب اختیار کے ساتھ میٹنگز میں اساتذہ کے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا، وعدے بھی ہوئے جو ہنوز تشنہ تکمیل ہیں۔ اس ناروا سلوک کے خلاف اساتذہ نے آزاد کشمیر میں سکیل اپ گریڈیشن کے لیے حکومت وقت کو دسمبر2020ء دیا اور مطالبات پورے نا ہونے کی صورت میں آزاد کشمیر بھر کے اساتذہ 6 جنوری 2021 کو مظفرآباد میں احتجاج اور مالیات کے آفس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا۔

اس طرح تحریک انصاف کی موجودہ نام نہاد تبدیلی سرکار جس نے اقتدار میں آنے کے لئے نوجوانوں کو استعمال کیا آج وہی نوجوان موجودہ حکومت کی بے درپے ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ پی ایم ڈی سی کو غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے تحلیل کرکے نجی مافیا کے منافعوں کو یقینی بنانے کے لئے پاکستان میڈیکل کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا فقط مقصد میڈیکل ایجوکیشن اور طبی شعبے کو تجارتی بنیادوں پر منافع خوری کے لئے استعمال کرنا ہے۔ پی ایم سی کے نئے استوار شدہ میڈیکل انٹری ٹیسٹ MDCAT خلاف پری میڈیکل طلبہ  پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں۔ اب بیرون ملک یونیورسٹیوں سے گریجویٹ میڈیکل طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ پی ایم سی نے ان کی ڈگریاں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے، متعدد یونیوسٹیوں کو بلیک لسٹ قرار دے دیا یے۔ حالانکہ یہ طلبا جب بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے گئے تھے توانہیں پی ایم ڈی سی کے رولز کے مطابق بھیجوایا گیا اور ساری یونیورسٹیز باقاعدہ ڈبلیو ایچ او سے تصدیق شدہ ہیں۔

اسلام آباد کی سڑکوں پر سراپا احتجاج  ہزاروں کی تعداد میں فارن گریجویٹس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ یہ آر ایم پی کے حصول کے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس ضمر میں پی ایم سی کی جانب سے ہر بار غلط بیانی کی جاتی رہی اور فارن گریجویٹس کا ون پوائنٹ ایجنڈے کی منظوری تک احتجاج کا سلسلہ جاریرکھنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم طلبہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان کے احتجاج کو بزور طاقت کچلنے کے لئے پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور ڈاکٹر ذیشان نور ملک سرپرست اعلیٰ FMGs سمیت دیگر طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

ہم حکومت وقت کے فاشٹ ہتھکنڈوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں،ایسے وقت میں جب بلوچستان میں ہزاروں افراد، ہزارہ برادری کے قتل عام کے خلاف دھرنا دیے ہوئے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان خود ملاقات کے لئے آئے اور حکومت ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے پرامن احتجاجات کو کچلنے میں مصروف عمل ہے۔ پرامن مظاہرین پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ قوم کے معماروں اور مستقبل پر ظلم و تشدد کی جو مثال قائم کی جا رہی وہ تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔ اساتذہ اورمیڈیکل طلبہ کی پریشانیوں کا ازالہ کرنے کی بجائے ظلم و تشدد کرنا قابل افسوس ہے۔ مظاہرین سے اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے، حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پولیس افسران اور تشدد کا حکم دینے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے اوران کے تمام مطالبات پورے کئے جائیں۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پی ایم سی کو فی الفور تحلیل کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو بحال کیا جائے۔