پاکستان سٹیل ملز کے بعد ریلوے میں بھی ملازمین کی جبری برطرفیوں کا حکم

رپورٹ: PTUDC لاہور

پاکستان سٹیل ملز کے بعد اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان ریلوے میں بدانتظامی کے خلاف کیس میں ریلوے میں مکمل اوور ہالنگ اور ملازمین کے چھانٹیوں کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں نااہل افراد بھرے پڑے ہیں، ملازمین خود اپنے محکمے کے ساتھ وفادار نہیں، ریلوے آئے روز حادثات کا شکار ہوتی ہے جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوتا ہے، ان حادثات کی نہ کوئی رپورٹ ہے اور نہ عملدرآمد، لہذا ریلوے فوری طورپراپنا اصلاحاتی عمل شروع کرے اور غیر ضروری و نااہل ملازمین کی چھانٹی کرے۔ ریلوے ملازمین خود اپنے محکمے کے ساتھ وفادار نہیں۔ اسی روز پاکستان ریلوے ری سٹرکچرنگ اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ریلوے میں ری سٹرکچرنگ پروگرام  اور15 ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔

اس سے پہلے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے بھی ایسے احکامات جاری کئے گئے۔ تاہم ایک لمبے عرصے سے حکمرانوں کی جانب سے دانستہ طور پرعوامی اداروں کو برباد کرکے انہیں ٹکڑوں میں سرمایہ داروں کے حوالے کرنے کا عمل جاری ہے۔ ملک کے بڑے اداروں کی زمینوں، انفراسٹرکچر پر سرمایہ دار گدھوں کی طرح نظریں گاڑے بیٹھے ہیں۔ آج کی سرمایہ داری میں نجی شعبے میں ان دیو ہیکل ادارو ں کی بحالی ناممکن ہے اس کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تکنیک چاہیے جو کہ یہاں ناممکن ہے۔ ان اداروں سے متوقع شرح منافع بھی مشکل ہے جس کی وجہ سے ان اداروں کی زمینوں کو غیر پیداواری سرگرمیوں مثلاً شاپنگ پلازوں، ہوٹلز جیسے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ ملک کی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ عمل ہے اور عوام کو ضروری سہولیات کی فراہمی بھی سستے داموں نہیں ہو سکے گی۔

دوسری جانب ان اداروں کی انتظامیہ کو کرپٹ اور ناتجربہ کار افسرشاہی، فوج جرنیلوں اور وزیروں کے حوالے کرنے سے ان اداروں کو عوامی فلاح و بہبود کی بجائے ذاتی منافعوں کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان ریلوے  میں بیوروکریسی اور حکمران جنہوں نے گزشتہ سالوں میں سستے داموں ناقص تیل خرید کرریلوے انجنوں کو برباد کیا اور اربوں روپے اپنی جیبوں میں ڈال لیے، انجنوں کو ٹھیک کرنے یا پھر پاکستان کے اندر نئے انجن تیار کرنے کی بجائے بیرون ملک سے مہنگے داموں ریلو ے کے انجن درآمد کرنے کئے جاتے رہے ہیں۔ حکمرانوں اور بیوروکریسی کی لوٹ مار کی وجہ سے ریلوے کا مجموعی خسارہ اربوں تک جاچکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1974 ء میں ریلوے کا ایک جنرل مینجر اور 20 گریڈ کی ایک ہی پوسٹ تھی جبکہ گریڈ 17، 18 اور 19 کے 700 آفیسر تھے۔ ادارہ منافع میں جارہا تھا۔ آج ا سکے 3 جنرل مینجر 20 گریڈ کے پانچ آفیسر جبکہ گریڈ 17، 18 اور 19 کے افسروں کی تعداد 2300 سے تجاوز کر چکی ہے مگر ادارے کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ محکمے کی ایک لاکھ کنال اراضی پربیوروکریسی کی ملی بھگت سے قبضہ گروپوں نے قبضے جما رکھے ہیں۔

حقائق سے واضح ہے کہ یہ محنت کش ہی ہیں جنہوں نے اپنے خون اور پسینے سے یہ ادارے تعمیر کئے۔ آج حکمرانوں کی نااہلی اور دانستہ کرپشن کی وجہ سے ان اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگر ایکشن لینا ہے تو ان حکمرانوں کے خلاف لیا جائے جنہوں نے ان اداروں کو تاراج کیا۔ آج سٹیل ملز کے محنت کش ادارے کی بحالی کے لئے سر گرم عمل ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عوامی اداروں کے محنت کش متحد ہو کر اس ظالمانہ نجکاری پالیسی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

محنت کشوں کی جبری برطرفیاں نامنظور !

نجکاری پالیسی نامنظور !

مزید پڑھیں:

پاکستان ریلوے کی نجکاری کی سازش

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*