سیالکوٹ: سرجی کیئر فیکٹری میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جبری برطرفیوں کے خلاف محنت کش سراپا احتجاج

تحریر: کامریڈ رمضان جانی

ملک میں جاری لاک ڈاؤن کے اثرات سیالکوٹ کی صنعت پر بھی محسوس کئے جا سکے ہیں۔ سیالکوٹ کی دیگر فیکٹریوں کی طرح سرجی کئیر فیکڑی کے مزدور بھی تنخواہ نہ ملنے اور ملازمتوں سے نکالےجانے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ فیکٹری مالکان نے اپنے منافعے کم ہونے کی وجہ سے متعدد مزدوروں کو بلا اجرت جبری رخصت پر بھجوا دیا ہے۔ حکومت کے واضح احکامات کہ کسی مزدور کا کام سے نہیں نکالا جائے گا۔ لیکن مزدوروں کو کام پہ رکھنا تو دور کی بات، ان کوپچھلے دنوں کے کام کی اجرت تک نہیں دی جا رہی۔ ساتھ ہی اپنے ایکسپورٹ آرڈرز پورے کروانے کے لئے مزدوروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کرمختلف چھوٹے چھوٹے گروہوں میں کام بھی کروا رہے ہیں۔ لیکن اجرت کے مطالبہ پر مزودروں کو کام سے نکال دیا جاتا۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ریاست اپنے ہی احکامات پر عمل درآمد کروانے میں بے بس نظرآرہی ہے۔

محنت کشوں کے ہاتھ ہی اس سماج کو چلاتے ہیں، سرمایہ داروں کی تجوریوں کو بھرتے ہیں۔ لیکن آج مصیبت کی اس گھڑی میں ان کے گھروں کے چولہے بند ہیں۔ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مزدوروں کے اہل خانہ فاقوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس اب بیمار ماں باپ کے لئے دوائی خریدنے تک کی طاقت نہیں رہی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ لاک ڈاؤن میں سرجی کیئر سمیت تمام فیکٹریوں کے محنت کشوں کو روزگار کی ضمانت اور ان کے اجرتیں باقاعدگی سے ادا کی جائیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*