کراچی: مہنگائی، نجکاری، بیروزگاری اور یونین سازی پر قدغنوں کے خلاف طلبہ مزدور کانفرنس کا انعقاد

رپورٹ: PTUDC کراچی

کامریڈ علی یاور(1946-2019) کی انقلابی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، انقلابی طلبہ محاذ RSF اورجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن JKNF کے زیراہتمام مورخہ 9 جنوری 2020ء کو ورکر ہال صدر کراچی میں ’طلبہ مزدور کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں طلبہ، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت مرکزی صدر PTUDC نذر مینگل نے کی جبکہ میزبانی کے فرائض جنت حسین نے ادا کئے۔

حاتم آرگنائزرانقلابی طلبہ محاذ RSF، علی ثقلین رہنما سندھ سٹوڈنٹس کونسل، وقاص عالم رہنما طلبہ ایکشن کمیٹی، حارث قدیر رہنما JKNSF، منظور رضی مرکزی چیئرمین ریلوے ورکر ز یونین، شیخ مجید رہنما سکائی ویز یونین پی آئی اے، غلام محبوب جنرل سیکرٹری PCورکرز یونین، شیما کرمانی معروف آرٹسٹ اور سماجی کارکن، لیاقت علی ساہی صدر اسٹیٹ بنک ڈیموکریٹک ورکر یونین، ڈاکٹر توصیف احمد کالم نگار اور سماجی کارکن، اسماعیل جسکانی صوبائی صدر سندھ پیرامیڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن، انیس ہارون رہنما ویمن ایکشن فورم، حبیب الدین جنیدی صدر پیپلزلیبربیورو سندھ، غفران احد نائب صدر PTUDC، کامریڈ علی یاورکے دیرینہ ساتھی کلیم درانی، اویس قرنی مرکز ی آرگنائزر انقلابی طلبہ محاذ RSF، کرامت علی جنرل سیکرٹری نیشنل لیبر کونسل اور ناصر منصور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشنNTUF نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت مزدور تحریک اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے، حکمرانوں کی جانب سے شدید حملے کئے جا رہے ہیں۔ ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر کئی طرح کی قد عنیں عائد کی گئی ہیں لیکن محنت کش اپنے حالات زندگی کو بدلنے کے لئے سرگرم عمل ہیں مثال کے طور پر PCہوٹل کے محنت کش پچھلے 18سالوں سے اپنی جبری برطرفیوں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ تمام تر مصائب کے باوجود محنت کش اپنی جدوجہد میں ثابت قدم رہے ہیں۔ یہی صورتحال دیگر شعبوں کی ہے جہاں پر محنت کش مشکل ترین حالات میں بھی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان اور ہندوستان میں اٹھنے والی طلبہ تحریکیں ثابت کرتی ہیں کہ موجودہ عہد میں بھی لڑا جا سکتا ہے اور اپنا حق لیا بھی جا سکتا ہے۔ پاکستان میں حکمرانوں نے طلبہ یونین کی بحالی کا عندیہ دیا ہے تا ہم طلبہ کے مکمل حقوق کی فراہمی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی اور ٹریڈ یونینز طلبہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہندوستان میں مودی سرکار کی جانب سے CAAاور NRC جیسے متنازعہ شہریت کے قوانین لاگو کئے جا رہے ہیں جن کے خلاف جواہر لال یونیورسٹیJNU، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سمیت بھارت کے 22سے زائد تعلیمی اداروں میں طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ ان طلبہ کی جدوجہد کو کچلنے کے لئے مودی سرکار اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہوئے ان طلبہ کی تحریک کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔

کامریڈ علی یاور کی فائل فوٹو

کامریڈ علی یاور کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ کامریڈ علی یا ور اور ان جیسے انقلابیوں کو خراج عقیدت ان کے مجسمے اور یاد گار بنا کر، ان کی برسیاں منا کر یا موت کا ماتم کرکے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ صرف ان کی جدوجہد کا معترف ہوا جاسکتا ہے۔ وہ ایک زندہ لڑائی لڑتے ہوئے گمنامی میں مرے ہیں۔ استحصال کرنے والوں اور استحصال سہنے والوں کی یہ لڑائی جاری ہے۔ محنت کش طبقے کے ان جانثاروں کو ان کی زندگی کی بھر پور جدوجہد کا صلہ اس لڑائی کا حصہ بن کر ہی دیا جاسکتا ہے۔ تمام بحث کو سمیٹتے ہوئے نذر مینگل مرکزی صدر PTUDC نے کہا کہ پوری دنیا میں ابھرتی ہوئی تحریکیں ثابت کرتی ہیں سرمایہ دارانہ نظام مکمل طور پر متروک ہو چکا ہے۔ آج ہمارا اہم فریضہ سماج میں بکھری ہوئی مختلف تحریکوں کو اکٹھا کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کاآغاز بنتا ہے جس کے لئے ہم سرگرم عمل ہیں۔ کانفرنس کے دوران شہریار ذوق، شیما کرمانی اور رؤف لنڈ نے اپنے کلام کے ساتھ حاضرین کے جذبات کو خوب گرمایا۔

ٓآخر میں ہندوستان کے محنت کشوں اور طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے احتجاج بھی کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*