سپین: ٹیکسی سیکٹر کے محنت کشوں کی ہڑتال

رپورٹ: حنظلہ بلال رند، بارسلونا 

ساحل سمندر پہ واقع سپین کے خوبصورت سیاحتی مرکز بارسلونا کی صورتحال یہ ہے کہ شہر کے عین درمیان سے گزرنے والی سڑک گران ویا پر ایک سرے پلاسہ اسپانیہ سے لے کر دوسرے سرے پلاسہ تیتوان تک کالی پیلی ٹیکسیاں کھڑی کی گئی ہیں تاہم بس، پولیس، ایمبولینس وغیرہ کے گزرنے کے لئے راستہ چھوڑا گیا ہے۔ انہیں یہاں ڈیرہ جمائے چار روزہو چکا ہے جبکہ ہڑتال چھٹے روز داخل ہو چکی ہے، ان ہڑتالوں کا سلسلہ 2013ء سے شروع ہوا اور ہر بار اعلیٰ احکام کے وعدے تاخیری حربوں کے علاوہ کچھ ثابت نہ ہوئے۔

بارسلونا ٹیکسی سیکٹر میں یورپ اور امریکہ کے مختلف شہروں میں چلنے والی ٹیکسی سے جو چیز منفرد ہے وہ اس کے قریب اسی فی صد عام آدمی کی سرمایہ کاری ہے اس میں ایک فرد ایک لائسنس والی صورتحال ہے ۔ قریب دس ہزار خاندانوں کا روزگار اس سے جڑا ہے جوکہ ریاست کو مختلف قسم کے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ شہر میں بسنے والے افراد کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد متعین کی گئی ہے جس کا مقصد شور، فضائی آلودگی اور بے جا رش جس کی وجہ سے ٹریفک حادثات بھی ہوتے ہیں سے بچا جا سکے، جہاں تک ٹیکسی کی بات ہے تو ہر100 افراد کے لئے ایک ٹیکسی اور ہر30 ٹیکسی لائسنس کے بعد ایک وی آئی پی لائسنس جاری کیا گیا تھا۔ اس وی آئی پی لائسنس کے لئے کچھ مخصوص گاڑیاں استعمال کی جا سکتی تھیں، جو عام سادہ گاڑیوں سے مہنگی اور آرام دہ ہوتی ہیں۔ اندرون خانہ سب سے پہلے گاڑیوں کی اس درجہ بندی کے قانون کو تبدیل کیا گیا اور وی آئی گاڑیوں کی جگہ عام سستی گاڑیوں کو بھی دوڑ میں شامل کیا گیا، پھر امریکن سرمایہ دار کمپنی اوبر وغیرہ نے مختلف لوگوں کو بھرتی کیا انہیں ایک موبائل دیا، جس میں گاڑی اور ٹیکس کی ذمہ داری ڈرائیورکی اپنی تھی اور ایک متوازی ٹیکسی شروع کر دی۔ ٹیکسی ڈرائیورز کے شور مچانے پر بعد میں نئی حکمت عملی اختیار کی گئی اس اوبر کو بند کر کے انہیں 23 یورو کے عوض وی آئی پی لائسنس جاری کر دیے گئے اور گاڑیاں مختلف رینٹ اے کار سے لے کر لوگ بھرتی کر لئے گئے۔اب صورتحال یہ ہے ٹیکسی سیکٹر بربادی کے لئے یہ لائسنس 52000 تک پہنچ گئے ہیں ٹیکسی ڈرائیورز کا یہ مطالبہ کہ آپ جو مرضی کریں اسے طے شدہ ضوابط کے مطابق ہونا چاہئے یعنی لائسنس جاری کرتے ہوئے 1/30 کو مدنظر رکھنا چاہئے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں گھناؤنی سیاست اور کچھ کی حیلے بہانے یہاں لے آئے ہیں کہ تین روز پہلے عدالت نے1/30 کے اس ضابطے کو کالعدم قرار دے کر سیکٹر کی بربادی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ جس کے نتیجے میں ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ تنظیموں نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اب تب تک دھرنا ہو گا جب تک حکام اپنی منافقت چھوڑ کر اس سیکٹر سے وابستہ دس ہزار خاندانوں کے مستقبل کے متعلق کوئی سنجیدہ بات نہیں کرتے، بلدیاتی حکومت اور وزراتِ مواصلات سے بات چیت کے دو دور ناکام ہو چکے ہیں تیسرا دور بروز سوموار ہوا۔ 

ہسپانوی باشندوں کے بعد سیکٹر سے وابستہ دوسری بڑی قومیت پاکستانی ہیں اس دھرنے کے عین مرکز میں گران ویا اور پاسیج دے گراسیہ پر پاکستانی کیمپ ہے جو پاک ٹیکسی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مختلف کمیونیکشن گروپس چلا رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہیں بلکہ ان کے حصول کے لئے ان جوش و جذبہ دیدنی ہے، مراکش، لاطینی امریکہ اور ہسپانوی تنظیموں کے نمائندگان ایک دوسرے کے کیمپس کا چکر لگاتے اور حوصلہ بڑھاتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ ہر روز مختلف شہروں سے مختلف رنگوں کی ٹیکسیاں حقوق کی اس جنگ میں اظہار یک جہتی کے وفود کی شکل میں یہاں پہنچ رہی ہیں۔ مختلف پاکستانی ٹی وی چینلز کے نمائندگان اپنے ٹی وی چینلز کو بھی رپورٹنگ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ قونصل جنرل آف پاکستان علی عمران چوہدری نے بھی اظہار یک جہتی کے لئے آج شام دھرنے میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC بارسلوناکے ترجمان حنظلہ بلال رند بارسلونا نے ٹیکسی سیکٹر دھرنے میں ٹیکسی ڈرائیورز کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے شرکت کی اورمظاہرین کو حمایت کا یقین دلایا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*