بنگلہ دیش: سانحہ تازرین فیشنز کے پانچ سال

رپورٹ: مزدورنامہ

24 نومبربنگلہ دیش کی تازرین فیشنزTazreen Fashions Ltd گارمنٹس فیکٹری میں 125 سے زائد محنت کشوں کی ہلاکت کا ہے اور آج ان کی پانچویں برسی منائی جارہی ہے۔ 2012ءمیں اسی دن بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ سے کچھ دور اشولیا انڈسٹریل ایریا میں موجود تازرین فیشنز کی بارہ منزلہ فیکٹری میں ناقص حفاظتی انتظامات اور انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے لگنے والی آگ کے واقعہ نے بنگلہ دیش میں موجود استحصال کو بے نقاب کرتے ہوئے دنیا کے سامنے یہاں کے مزدوروں کی حالت زار کو واضح کیا۔ اس واقعہ میں 125 سے زائد مزدور جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 200بتائی گئی۔ یہ فیکٹری Li & Fung’s بچولیا کمپنی کے ذریعے امریکی مشہور برانڈز مثلاً Faded Glory, ENYCE وغیرہ کے لئے گارمنٹس تیا ر کرتی ہے۔ اس فیکٹری کے اہم گاہکوں میں امریکی ریٹیل چین وال مارٹ بھی شامل ہے لیکن واقعہ کے فوراً بعد وال مارٹ نے میڈیا کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ”ان کے ایک سپلائر نے ہمار ی اجازت کے بغیر اس فیکٹری سے کام لیا جو کہ ہماری پالیسیوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے اور ہم نے اس سپلائر سے مکمل طور پر اپنے تمام تعلقات توڑ دئے ہیں“۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آگ پر قابو پانے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا اور کئی محنت کش اس آگ میں زندہ جل گئے۔ محنت کش اس آگ سے بچنے کے لئے چھت کی طرف بھاگے اور جان بچانے کیلئے چھت سے چھلانگیں لگائیں مگریہ کوششیں رائیگاں گئیں۔ آگ لگنے کے وقت 1000 کے لگ بھگ محنت کش شفٹ میں کام کر رہے تھے۔ اس آگ سے بچ جانے والے مزدوروں کے مطابق آگ لگنے کے بعد منیجرزکی طرف سے محنت کشوں کو فیکٹری چھوڑنے کی اجازت نہیں دی گئی اورجیسے ہی دھواں بڑھا تو محنت کشوں کے احتجاج پر اس کو محض آگ سے بچنے کے لئے حفاظتی ڈرل کہہ کر مزید کام کرنے پر دھمکایا گیا۔ آگ لگنے کے دوران ہنگامی اخراج کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں اور یہ کام کرنے کی جگہ جلتی ہوئی بھٹی بن گئی جہاں کئی مزدور زندہ جھلس گئے۔ وال مارٹ اور دوسری ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے تازرین فیشنز کی انتظامیہ پرواقعہ کی ذمہ داری ڈالی گئی حالانکہ یہ فیکٹری تمام نام نہاد عالمی سٹینڈرڈز کے آڈٹس پر پورا اترتی تھی۔

بنگلہ دیش میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایسے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ اس سے پہلے 2010ءمیں Tommy Hilfiger کے لئے مال تیار کرنے والی فیکٹری کے اندر آگ لگنے کے واقعہ میں 29 محنت کش ہلاک ہو چکے ہیں۔ 2006ءسے 2012ءتک تقریباً 600 مزدور فیکٹریوں میں ناقص حفاظتی اقدامات اور کام کرنے کے بد تر حالا ت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ درحقیقت یہ اس واقعے کی اصل وجہ بنگلہ دیش کا تاخیر زدہ اور مسخ شدہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس کا ادراک محنت کش طبقہ اپنے لاشعور میں کب کا کر چکا ہے۔ اس کا اظہار اگلے ہی روز ہوا جب ڈھاکہ کی سڑکوں پر ہزاروں محنت کشوں نے مظاہرہ کیا۔ ان مظاہروں میں محنت کشوں نے سڑکیں بند کر کے شمالی ڈھاکہ میں واقع اہم صنعتی مرکز اشولیہ کو مفلوج کر دیاجس کی وجہ سے کئی فیکٹریا ں سارا دن بند رہیں۔ محنت کشوں نے فیکٹری انتظامیہ اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کرتے ہوئے ذمہ داران کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا۔ ا س دوران فیکٹریوں پر پتھراؤ کیا گیا، ساتھ ہی کئی گاڑیوں کو جلا دیا گیا۔ اس مظاہرے کے نتیجہ میں اس علاقہ کی اہم ہائی وے بھی گھنٹوں بند رہی۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے محنت کشوں کے ساتھ ’ہمدردی‘ کا اظہار کرتے ہوئے ان کو مظاہروں سے باز رہنے کی تلقین کی اور تحریک کو زائل کرنے کیلئے منگل کو ’سوگ کا قومی دن‘ منانے کا اعلان کیا جس میں تمام فیکٹریاں بند رہیں گی۔ اس کے ساتھ شیخ حسینہ نے سرمایہ دارانہ نظام کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اس واقعہ کو کسی سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”فیکٹری کی آتش زدگی دانستہ طور پر منصوبہ بندی سے لگائی گئی ہے اور اس میں شامل تمام ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔“حکومت کی طرف سے جھوٹے دلاسے دینے کے علاوہ محنت کشوں کی حالت زار میں بہتری کے لئے کوئی خاص قدم اٹھانے کا اعلان نہیں کیا۔ 

فیکٹری میں لگنے والی آگ برصغیر اور تیسری دنیا کے ممالک پر مسلط حکمران طبقے اور سرمایہ داروں کی لوٹ مار کی ہوس کو بے نقاب کرتی ہے کہ یہ کس قدربے شرمی سے انسانی جانوں کو شرح منافع کی خاطر قربان کر نے میں ایک پل بھی نہیں ہچکچاتے۔ دوسری طرف یہ محنت کشوں کے لئے اسباق بھی رکھتے ہیں۔ پانچ سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک کسی بھی شخص کو اس جرم میں کوئی سزا نہیں سنائی گئی اور حکومت کی طرف سے لواحقین کی امداد کے وعدے بھی کھوکھلے اور جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے اس کی چھان بین کروانے اورعدالت انکوائری کمیشن بنایا گیا لیکن تمام  انکوائریاں، چھان بین، کمیشنزاور سازشیں ایک دھوکہ فریب ثابت ہوئیں جس کے ذریعے ہر اہم مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر محض کاغذی کاروائی کر کے فائل بند کر دی جاتی ہے۔ ان بیان بازیوں اور جعلساز ہتھکنڈوں سے حکمران طبقہ ہمیشہ اصل صورتحال پر پردہ ڈال کر مصنوعی اور فروعی تضادات کو ابھارتا ہے۔ دوسری طرف میڈیاکو ان مصنوعی کاروائیوں کو عمومی شعور کو بھٹکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

2016ءمیں کچھ زخمیوں کو فی کس 2.5لاکھ ٹکہ(تقریباً 3.13لاکھ پاکستانی روپے) معاوضہ کی ادائیگی کی گئی ، لیکن زیادہ تر لواحقین کے مطابق ملنے والی یہ رقم پچھلے چارسال زندگی کا پہیہ رواں رکھنے کے لئے قرضوں کی ادائیگی میں چلے گئے۔ زیادہ ترلواحقین اور زخمیوں کے مطابق ان کو ابھی تک کسی قسم کی میڈیکل سپورٹ تک نہیں مل سکی، فیکٹری میں آگ لگنے کے کچھ بعد ہی مالکان نے ان کو تنخواہوں کے بقایا جات کی مد میں چند ٹکے ادا کر کے ان سے فیکٹری کے شناختی کارڈ واپس لے لئے تھے تب سے یہ ابھی تک معاوضے کے حصول کے لئے بھٹک رہے ہیں۔ مالکان کے اس رویے سے واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ داروں کی نظر میں ایک محنت کش کی زندگی کی قیمت چند کوڑیو ں سے زیادہ نہیں ہے جبکہ مزدوروں کی قوت محنت سے پیدا کردہ قدر زائد اور منافعوں سے ان انسان نما حیوانوں نے اپنی تجوریاں بھر رکھی ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں کے باعث اس واقعے کے ذمہ داران آزاد گھوم رہے ہیں، 2015ءمیں ڈھاکہ کی عدالت نے فیکٹری مالکان دلاور حسین اور محمودہ اختر پر فرد جرم عائد کی لیکن تب سے ابھی تک 19پیشیوں کے باوجود اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اس سانحہ کو گزرے ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں لیکن ڈھاکہ سے لے کر کراچی تک کئی فیکٹریوں میں ایسے خونی حادثات ہوئے، مزدورہلاک ہوئے اور انکے خاندان برباد ہوگئے، خبریں منظر عام پر آئیں اور پھر ردی کے ڈھیروں میں گم ہوگئیں۔ سرمایہ داروں، مل مالکان، آجروں اورحکمرانوں کی زندگیاں معمول کے مطابق پھلتی پھولتی رہیں۔ یہی سرمایہ داری نظام کا نظریہ، نقطہ نظر اور طریقہ کار ہے۔ ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک استحصال کے ایندھن سے چلنے والا سرمایہ داری نظام موجود رہے گا۔ ان کا بدلہ صرف سماج بدل کر ہی لیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*