اسلام آباد: خیبر پختونخواہ کے آئی ٹی ٹیچرز کی حالت زار

رپورٹ: آئی ٹی ٹیچرز یونین

پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں صوبے بھر کے 1170 ہائی و ہائر سیکنڈری سکولوں میں آئی ٹی کی تعلیم کے فروغ کے لیے آئی ٹی لیبز قائم کی گئیں جس میں پہلے مرحلے کے تحت 2014 میں آئی ٹی پراجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے کے میں 170 سکولوں میں آئی ٹی اساتذہ و لیب انچارجز کو این ٹی ایس کے ذریعے خالص میرٹ پرایک سال کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیے گئے۔  وقت گزرنے کے ساتھ ان کے کنٹریکٹ میں توسیع کی گئی۔ اسی طرح جب 30 جون 2017 کو ان کا کنٹریکٹ اختتام کو پہنچا تو مذکورہ اساتذہ نے آئی ٹی پراجیکٹ کو دیگر این ٹی ایس اساتذہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی ایکٹ میں شامل کرنے اور تعلیمی ایکٹ کے پاس ہونے تک کنٹریکٹ میں مزید توسیع کا مطالبہ لے کر تحریک کا آغاز کیا تو حکومت نے ان کے ان جائز مطالبات کو تسلیم کر کے آئی ٹی پراجیکٹ کے تمام تینوں فیزز( 2014 ،2016 اور 2017 )کے ایک ہزار نو سو آئی ٹی اساتذہ کوتعلیمی ایکٹ میں شامل کر کے اپنا وعدہ پورا کر دیا ۔ لیکن بد قسمتی سے 2014 کے آئی ٹی اساتذہ کو کنٹریکٹ میں توسیع نا مل سکی اور اس دوران تعلیمی ایکٹ صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد گورنر کے پی کے نے 4 جنوری کو مذکورہ تعلیمی ایکٹ کی باقاعدہ منظوردے دی۔ پھر محکمہ تعلیم نے 16 فروری کو تمام این ٹی ایس اساتذہ کا باقاعدہ جنرل نوٹیفکیشن کر دیا لیکن بعد ازاں محکمہ تعلیم نے 2014 کے آئی ٹی اساتذہ کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے سےصاف انکار کرتے ہوئے وضاحت کی کہ چوں کہ مذکورہ اساتذہ کا کنٹریکٹ تعلیمی ایکٹ سے پہلےہی ختم ہو چکا تھا اس لیے ان کو مستقل نہیں کیا جا سکتا۔

پھر 2014 ء کے متاثرہ آئی ٹی اساتذہ اپریل کے آخر میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان کے پاس فریاد لے کر بنی گالا کا دروازہ کھٹکھٹایا تو جناب عمران خان نے متاثرین سے یہ وعدہ کیا کہ کنٹریکٹ میں توسیع فوری طور پر کی جائے گی، جب کہ متاثرہ اساتذہ کو نئی حکومت میں مستقل کیا جائے گا۔ متاثرین کی عمران خان صاحب سے اس مسئلے کے سلسلے میں تین ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ عمران خان صاحب نے مسلے کی حل کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اس سلسلے میں مئی کے آخر میں گزشتہ حکومت کے کابینہ کے آخری اجلاس میں متاثرہ اساتذہ کے کنٹریکٹ میں فوری توسیع کی منظوری دی گئی۔ مگر افسوس کہ بیوروکرسی نے مختلف حیلے بہانوں سے صوبائی کابینہ کے فیصلے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ یوں کنٹریکٹ میں توسیع نہ ہونے کی اس محکمہ جاتی غلطی کا ملبہ مذکورہ متاثرہ اساتذہ پرآ گرہ اور یوں متاثرہ اساتذہ کو قربانی کا بکرا بنا کر اس سرا سر ظلم و زیادتی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

دریں اثنا متاثرہ اساتذہ گزشتہ چودہ ماہ سے تنخواہ سے محروم ہونے کےسبب انتہائی کسمپرسی کی حالت میں انتہائی مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے پاس اپنے بیوی بچوں کے بیماری کے اخراجات و دیگر گھریلو معاشی ضروریات تو درکنار ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے اور سکول میں انے جانے کے کرایوں کے پیسے بھی نہیں بچے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر متاثرہ اساتذہ اپنے دوست احباب سے قرض لے کر سنگین ترین معاشی حالات سے نبردآزما ہیں۔ ان تمام پریشانیوں کا براہ راست اثر ان اساتذہ کے 50000 شاگردوں کی پڑھائی پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے تمام متاثرین ارباب اختیار سے ایک بار پھر یہ درد مندانہ سوال کرتے ہیں کہ آخر ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ کیوں کہ دیگر این ٹی ایس اساتذہ کے ساتھ ہم بھی خالص میریٹ پر بھرتی ہوئے تھے۔ مگر پھر بھی یہ صوبے بھر کے ہزاروں طلباء کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ساتھ ساتھ سکولوں میں اپنی ڈیوٹی بھی انجام دے رہے ہیں اور اس دوران ہزاروں طلباء کو چودہ ماہ سے بغیر تنخواہ کے اپنے وسائل کے بل بوتے پر کمپیوٹر کی تعلیم سے روشناس کر رہے ہیں۔ تمام متاثرین نے باہمی صلاح و مشورہ کے بعد اسلام آباد پریس کلب پر احتجاج اور دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں تمام ترقی پسند قوتوں سے اظہار یکجہتی کی اپیل کی جاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*