حیدرآباد: ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹرسز کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ

رپورٹ: اویناش

جولائی2019ء بروز اتوار کو ’آئی بی اے‘ ٹیسٹ پاس ہیڈ ماسٹرز اور ہیڈ مسٹرسز کو نوکریوں سے جبری فارغ کرنے اور مستقل نہ کرنے کے سندھ حکومت کے احکاما ت کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اس سلسلے میں اولڈ کیمپس سے پریس کلب تک ایک ریلی حیدرآباد میں بھی نکالی گئی۔ جس میں بڑی تعداد میں متاثرین سمیت اساتذہ، گزیٹڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC کے ساتھیوں نے شرکت کی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔ پریس بیان جاری کرتے ہوئے متاثرہ مظاہرین نے کہا کہ 2015ء میں انہیں اُس وقت کے سیکر ٹری ایجوکیشن کی جانب سے تمام تر تصدیق اور جانچ پڑتال کے بعد آفر آرڈرز جاری کئے گئے تھے۔ لیکن چند روز قبل انہیں کانٹریکٹ میں ایک سال توسیع کے احکامات کے ساتھ مدت پوری ہونے پر نوکریوں سے فارغ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر سطح پر تعلیم کے معیار میں بہتری کی گئی ہے اور سندھ کے ایجوکیشن منسٹر سید سردار شاہ اور سیکر ٹری تعلیم نے انہیں مستقل کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا مگر اب اچانک ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے انہیں ایک سال بعد فارغ کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ جوکہ ان کے لئے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بنے گا اور بچوں کی تعلیم کے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے گھرانے شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ عمل پیپلز پارٹی کے روٹی، کپڑا اور مکان کے منشور کی سخت خلاف ورزی ہے اور اس قسم کے ہتھکنڈوں سے وہ 957 خاندانوں کے معاشی قتل عام کا باعث بنے گی۔ یہ دراصل حکومت سندھ کی بدترین نااہلی ثابت ہوگی جسے کسی بھی طور پر قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر مستقل کیا جائے ورنہ احتجاج جاری رکھا جائے گا اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ مظاہرین سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC سندھ کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ نثار احمد چانڈیو نے بھی خطاب کیا اور مظاہرین کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان متاثرین کے مطالبات کو فوری طور پر پورا نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*