اسلام آباد: یو سی جی پراجیکٹ تھرپارکر کے محنت کشوں کا دھرنے کا اعلان

تحریر: محمد عمر محی الاسلام ،  صدر پیام ورکرز یونین

بھوک  ننگ افلاس غربت لاچارگی بیماری تعلیم کا فقدان بچوں کی اموات قحط پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور ان گنت معاشی اور معاشرتی مسائل میں گھرا تھر پارکر پاکستان کا پسماندہ ترین علاقہ ہونے کا بدنما داغ چہرے پہ سجائے صدیوں سے اپنی پسماندگی اور محرومی کے ازالے کیلئے کسی مسیحا کی راہ تک رہا ہے۔مگر حیرت انگیز طور پہ اسی قحط زدہ صدیوں سے پیاسی سرزمین میں 9600 مربع کلو میٹر کے ایک بڑے علاقے میں زیرزمین صرف پانچ سو سے چھ سو فٹ گہرائی میں ایشیا کا سب سے بڑا اور دنیا کا تیسرا بڑا کوئلے کا عظیم ذخیرہ تھرپارکر کی محرومیوں کے ازالے کیلئے نعمت خداوندی کے طور پہ سینکڑوں سالوں سے موجود ہے ۔کوئلے کے اس عظیم ذخیرے کی مقدار کا اندازہ تقریباً 180 ارب ٹن لگایا گیا ہے ۔ یہ تمام ناقابل یقین  انکشافات 1980 ءکی دہائی میں سامنے آئے اور تمام پاکستانی قوم کے چہروں پہ خوشی و شادمانی کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ مگر بدقسمتی اور نااہلی کا ناسور جہاں ہماری پوری قوم کو ہر حوالے سے تباہ کرتا رہا وہیں قدرت کی جانب سے عطا کردہ اس انمول خزانے کے ثمرات کے حصول سے بھی دانستہ پہلو تہی برتی جاتی رہی اور چالیس سال گزر جانے کے باوجود تھرپارکر کا یہ بیش قیمت زیرزمین  کوئلہ سرزمین تھر پہ بسنے والے مجبور و بے کس افراد کے چہروں پہ خوشیاں بکھیرنے سے قاصر ہے۔

مگر بلآخر غفلت اور لاپرواہی نے بیداری کی انگڑائی لی اور تیس سال سے تھر کے اس کوئلے کو انسانی ترقی و خوشحالی کیلئے بروئے کار لانے کیلئے قائم کردہ مختلف ٹیموں کی عدم دلچسپی اور وقت کے ضیاع کے بعد ملک کے نامور ایٹمی سائنسدان محترم جناب ڈاکٹر ثمر مبارک مند صاحب نے اس مسئلہ پہ خلوص دل کے ساتھ توجہ دی اور اس سلسلے میں  2011 میں باقاعدہ ایک پراجیکٹ کی بنیاد رکھی جسے آج یو سی جی پراجیکٹ تھر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی پانچ سو افراد پہ مشتمل ٹیم کے ہمراہ پاکستان میں تھر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زیر زمین کوئلے کو گیس میں تبدیل کرکے اس گیس سے کامیابی سے بجلی پیدا کرنے کا عملی تجربہ کیا اور 28 مئی 2015 میں تھر کے کوئلے سے تاریخی طور پر پہلی مرتبہ بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوا۔ اس طرح تھر کے عوام میں بالخصوص اور پورے پاکستان کے عوام میں بالعموم خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ترقی وخوشحالی کے حسین خوابوں کے تانے بانے پھر سے بنے  جانے لگے مگر جس طرح کوئی بھی کامیابی اور ترقی و خوشحالی کی طرف اٹھنے والا قدم پاکستانی قوم کو راس آنے سے پہلے ہی روکے جانے کی تاریخ موجود ہے، بالکل اسی  طرح ڈاکٹر ثمر مبارک مند صاحب کی تھرکول پراجیکٹ کیلئے کی گئی کوششوں کو ثمربار ہونے سے پہلے ہی مفقود کرنے کی سازش تیار کی گئی اور یو سی جی تھرکول پراجیکٹ کیلئے وعدہ کردہ بجٹ کو شروع میں وقت پہ ادا نہ کیا گیا اور بعد ازاں بجٹ کی ادائیگی مسلسل روکی جاتی رہی اور جو پراجیکٹ دس ارب روپ کا منظور شدہ تھااور اس کی تکمیل دو سالوں میں ہونا تھی اس پراجیکٹ کو سات سالوں میں صرف تین ارب روپ دئیے گئے اور بالآخر 2016 کے بعد سے مکمل طور پہ اس پراجیکٹ کا بجٹ دیدہ و دانستہ روک دیا گیا اور تاحال اس پراجیکٹ کا بجٹ روکا گیا ہوا ہے۔

اس پراجیکٹ پہ کام کرنے والے پانچ سو ملازمین گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں اور وہ پانچ سو لوگ جو تھر کی محرومیوں کے ازالے کیلئے کام کررہے تھے اب ان کا اپنا مستقبل ایک سوالیہ نشان کی صورت ان کی محنت ،ان کی لگن اور ان کے خلوص کا منہ چڑا رہا ہے ۔  دو ہفتوں سے تھرپارکر کی سڑکوں پہ تھرکول پراجیکٹ کے ملازمین اپنے لایعنی  مستقبل اور گزشتہ  تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔حکومت سندھ سات سال تک ان مظلوم اور مجبور ملازمین سے پراجیکٹ پہ خدمات لیتی رہی اور اب سات سال بعد ان کو نوکریوں سے بے دخل کیا جارہا ہے اور ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر حکومت سندھ اپنا پراجیکٹ ہونے کے باوجود تھرکول پراجیکٹ کی ملکیت سے مکمل طور پر انکاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے بہت سے لیڈران سے اس ضمن میں پراجیکٹ ملازمین کے وفود نے متعدد مرتبہ ملاقاتیں بھی کی ہیں مگر شراب سے شہد اور زیتون کا تیل بنانے کا ہنر جاننے والی پیپلز پارٹی کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی مثبت قدم اٹھنا محال نظر آ رہا ہے ۔ پانچ سو ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورت پیدا ہو چکی ہے مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کچھ بھی کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو توانائی پراجیکٹس اور تباہ حال ملازمین  سے زیادہ اپنی شراب سے شہد اور زیتون کا تیل بنانے کی صنعت زیادہ عزیز ہے ۔ اس سلسلے میں یونین نے محنت کشوں کی مشاورت کے بعد مورخہ 24 ستمبربروزسوموار کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کیا اس دھرنے میں پراجیکٹ کے محنت کش بڑی تعداد میں ہزاروں میل کا سفر کرتے ہوئے پہنچیں گے۔ تمام ٹریڈ یونینز، ترقی پسند قوتوں اور محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پر زور اپیل کی جاتی ہے۔

One Comment

  1. Abdul Karim Sahar says:

    Right…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*