سٹیل ملز اور پی آئی اے کے محنت کشوں، وی ایس ایس سکیم کے دھوکے میں نہ آنا، پی ٹی سی ایل پنشنرز

تحریر: محمد توقیر، آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ٹرسٹ

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے اجلاس میں پی آئی اے کے سی ای او نے ہزاروں پی آئی اے ملازمین کو وی ایس ایس (رضا کارانہ علیحدگی سکیم) کے نام پر فارغ کرنے کی نوید سنائی ہے۔ اس سے قبل پاکستان سٹیل ملز کے لگ بھگ دس ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا گیا بعد میں  سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یہ فیصلہ تو واپس لیا گیا، تاہم اب حکومت کی جانب سے 49 فیصد ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دیئے جانے کا تازہ اعلان سامنے آیا ہے۔

وی ایس ایس کے نام پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (PTCL) نے 2008 میں تقریباً پینتیس ہزار ملازمین کو فارغ کیا تھا. اس دوران ملازمین کو Redundant, Not Needed اور Surplus کے القابات دے کر دھونس اور ڈرا دھمکا کر ادارے سے نکال دیا گیا کر دیا گیا تھا۔ ان برطرف ملازمین میں نصف سے زائد ملازمین کو پنشن دئیے بغیر فارغ کر دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 2005 میں نجکاری کے وقت پی ٹی سی ایل ملک میں سب سے زیادہ منافع کمانے والا ادارہ تھا اور اس کی ورک فورس پینسٹھ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ 2008 میں ایک آمر کی آشیرباد سے بزور بندوق بیک جنبشِ قلم پینتیس ہزار سے زائد ملازمین کا معاشی قتل کیا گیا۔ کئی ہزار افراد دو برس کے دوران ہی اس دنیا سے بھی فارغ ہو گئے۔ اپنی جوانی کے سنہرے شب و روز ادارے کی خدمت میں نچھاور کرنے والے معاشی تنگدستی کے ہاتھوں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر کچھ بھی کرنے سے عاجز ہو گئے۔

پنشن پانے والے چند ہزار ملازمین بھی دو برس تک تو حکومتی اعلانات کے مطابق حسبِ روایت پنشن وصول کرتے رہے لیکن بعد ازاں غیر ملکی خریدار کمپنی کی ایما پر ان کی پنشن میں ناروا کٹوتیاں شروع  کردی گئیں اور باوجود تمام تر قانونی تحفظ کے تاحال جاری ہیں. شئیر پرچیز ایگریمنٹ جو حکومت پاکستان اور غیر ملکی خریدار کمپنی کے مابین طے پایا تھا، میں بھی ان ملازمین و پنشنرز کے حقوق کی ضمانت دی گئی تھی۔ کمپنی کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ریاست پاکستان کمپنی کے ملازمین و پنشنرز کے حقوق، مراعات کی ادائیگی کی ذمہ دار ٹھہرائی گئی تھی لیکن نہ ہی کمپنی اور نہ ریاست پاکستان اس معاہدے پر پورا اترے۔ ریاست خود ایک غیر ملکی کمپنی کی خوشنودی کی خاطر ان پنشنرز کے خلاف عدالت میں فریق بن گئی۔

لگ بھگ چالیس ہزار پنشنرز خاندان گذشتہ دس سال سے حکومت اور کمپنی کی معاشی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ طویل عدالتی چارہ جوئی کے بعد ان پنشنرز کے حق میں فیصلے بھی صادر ہوئے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان پنشنرز کے حق میں فیصلہ جاری کر رکھا ہے، لیکن حکومت اور غیر ملکی کمپنی کی ملی بھگت ان کے جائز اور قانونی حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ ہے۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے وقت نجکاری کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے موجودہ مشیرِ خزانہ کے وعدے اور دعوے قطعی جھوٹ ثابت ہوئے اور چالیس ہزار پنشنرز جبکہ چھ ہزار حاضر سروس ملازمین اسی آئی ایم ایف کے ایجنٹ وزیر کی اشیر باد سے کمپنی کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

آل پاکستان پی ٹی سی ایل پنشنرز ٹرسٹ (رجسٹرڈ) اس حوالے سے اپنے دیگر اداروں کے ساتھیوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہے کہ بلند بانگ دعووں کے کسی دھوکے میں قطعاً نہ آئیں اور اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر کریں۔ کسی ایسی سکیم کا حصہ نہ بنیں جو بعد میں آپ کو معاشی تباہی کی طرف دھکیل دے، بلکہ صرف اور صرف جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ ہم پی آئی اے اور دیگر تمام ملازمین کے شانہ بشانہ اس جدوجہد میں شریک ہونگے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*