کوئٹہ: بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش

رپورٹ: PTUDC بلوچستان

بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کے ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کنٹریکٹ ملازمین کو پچھلے تین اور مستقل ملازمین کو پچھلے دو مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہی۔ ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کے عالم میں غریب ملازمین کے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔ ملازمین کے مطابق تنخواہوں کی اس بندش کی وجہ سے نان و نفقہ کی محتاجی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بچوں کے اسکولوں کی فیس بھی نہیں دے پارہے۔ جس کی وجہ سے ان کے بچوں کو سکولوں سے نکال دیا گیا ہے۔ حکومت بلوچستان فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا رہا ہے جبکہ در عین حال حکومت کیو ڈی اے (کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی) اور بی ڈی اے کو ضم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس انضمام کے دوران سینکڑوں ملازمین کی برطرفی کا بھی خدشہ ہے۔ دوسری طرف اس سال مئی میں بی ڈی اے کے محنت کشوں نے اپنی ملازمتوں کی مستقلی کے لیے تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔ حکومتی نمائندوں کی یقین دہانی پر یہ بھوک ہڑتال ختم ہوئی اور حکومت نے ملازمین کے مطالبات بھی تسلیم کرلیے تھے لیکن چار مہینے گزر جانے کے باوجود تسلیم شدہ مطالبات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ اس کے برعکس ہڑتالی ملازمین پر مقدمات درج کیے گئے۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC حکومت بلوچستان سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر بی ڈی اے ملازمین کی تنخواہیں جاری کیے جائیں اور اپنے وعدوں کے مطابق تمام عارضی ملازمین کے مستقلی کے احکامات جاری کیے جائیں۔ بصورت دیگر PTUDC تمام تر دیگر یونینز اور فیڈریشنز کے ساتھ مل کر حکومت وقت کے خلاف بھر پور تحریک چلائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*