کوئٹہ: پیرامیڈیکس کا احتجاج اور دھرنا جاری

رپورٹ:  علی منگول

پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے  چارٹرآف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے ماہ اپریل  سے پورے بلوچستان کے کونے کونے سے پرامن پیدل لانگ مارچ کرتے ہوئے کوئٹہ کی جانب روانہ ہوئے۔ جنہیں کوئٹہ کے قریب مختلف مقامات مستونگ اور کُچلاک کے قریب ریاست نے لیویز، پولیس اورانسداد دہشت گردی فورس کے ذریعے روکنے کی کوشش کی اور پیرامیڈیکس پر لاٹھی چارج کیا۔ جس کے نتیجے میں 100 کے قریب پیرامیڈیکس سر، بازو، پیر ٹوٹے اور جسم کے دیگر حصوں میں بھی زخم آئے۔ مگر آخرکار پیرامیڈیکس کوئٹہ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں شیخ زید اسپتال کے قریب انہوں نے احتجاجی دھرنا کیمپ قائم کیا۔

 یوم مئی کے موقع پر بھی پیرامیڈیکس کو خوفزدہ حکمرانوں نے گرفتار کیا اور ٹرکوں میں ڈال انہیں دھرنے کے مقام پر واپس چھوڑ گئے، جہاں پیرامیڈیکس آج بھی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔  پیرامیڈیکس کے اس احتجاج نے محکمہ صحت کے شعبے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔  پورے بلوچستان میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام کام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے محکمہ صحت مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔  دریں اثناء حکومت مجبور ہوئی کہ وہ پیرامیڈیکس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئے اور مسائل پر بات کرے۔ لیکن مذاکرات کے دوران حکومتی ٹیم کی ہٹ دھرمی کی بدولت مذاکرات میں تعطل پیدا کرکے سرکاری ٹیم اپنے غیرملکی دوروں میں مشغول ہوگئے ہیں۔  اس احتجاج میں پیرامیڈیکس نے عالمی پولیو مہم میں بھی کام کرنے کا بائیکاٹ کیا جس نے ایک حکومت کو ایک اور دھچکا دیا اور فنڈ مہیا کرنے والے عالمی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا مگر حکومت نے محض دھوکہ دہی کی خاطر چند ایک مقامات پر غیر تربیت یافتہ افراد، لیویز اور دیگر لوگوں استعمال کرکے فنڈنگ کرنے والی ایجنسیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔  پیرامیڈیکس کے اس عمل کے جواب میں حکومتی ارکان بہت برہم نظر آئے اور مذکراتی ٹیم میں شامل صوبائی وزیر تعلیم رحیم زیارت وال نے کہا کہ اگر آپ لوگ پولیو مہم نہیں کرنا چاہتے ہو تو نہ کرو مگر خدا کے لیے یہ اخبارات میں پریس کانفرنس مت کرو کیوں کہ فنڈ دینے والی طاقتیں پھر صوبہ بلوچستان سے کسی کو ویزہ نہیں دیں گے کہ وہ بیرون ملک جاسکے۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان گندے حکمرانوں کو بچوں کو پولیو سے بچانے سے زیادہ اپنے بیرون ممالک کے ویزوں کی فکر ہے۔

حکومتی ڈھیٹ پن کے باوجود پیرامیڈیکس کا احتجاج اور دھرنا جاری ہے، انکے حوصلے بلند ہیں۔ پیرامیڈیکس وقفے وقفے سے کوئٹہ پریس کلب اور دیگر اضلاع کے پریس کلبوں کے سامنے مسلسل احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔  خواتین پیرامیڈیکس نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مورخہ 7 مئی سے اپنے احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا اور روزانہ صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک اس دھرنے میں موجود ہوتی ہیں۔ 10 مئی کو خواتین نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور  4 بجے تمام پیرامیڈیکل اسٹاف نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے سامنے نعرے بازی کی اور دھرنا دیا۔

 ان تمام حالات میں میڈیا کی کثیر تعداد نے پیرامیڈیکس سے تعاون نہیں کیا  جو قابل افسوس ہے۔  تاہم اب خواتین دھرنا کیمپ پریس کلب کے قریب ہونے کا فائدہ پیرامیڈیکس کو حاصل ہورہا ہے۔ پیرامیڈیکس کے نمائندے مسلسل ٹریڈ یونینز، طلباء تنظیموں، اراکین اسمبلی (حکومتی و حزب مخالف)، تاجر برادری اور عوامی حلقوں کی دیگر تنظیموں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جاسکے۔