سرمایہ داروں کی لوٹ مار کو قانونی تحفظ دینے والے عوام دشمن ’پی ایم سی آرڈیننس‘ کو مستر د کرتے ہیں، پی ٹی یو ڈی سی

رپورٹ: PTUDC لاہور

کل مورخہ 16 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں میڈیکل ایجوکیشن کا سیاہ ترین دن تھا،  پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ’پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس‘ کو منظوری دے دی گئی اور اس آرڈیننس کے نفاذ سے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو غیرمعمولی اختیار تفویض ہوگئے جس کے تحت وہ اپنی مرضی سے فیس کا تعین کرسکیں گے۔حکومت کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں انتخابات کروانے کی بجائے اسے ختم کردیا گیا اوراپنے من پسند لوگوں کو شعبہ میڈیکل پر تھوپنے کی تیاری کر لی۔ اب نجی میڈیکل کالجز الحاق ہونے والی جامعات کی ہدایت پر اساتذہ کی بھرتی بھی کرسکیں گے اور یہ آرڈیننس سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف سراپا احتجاج ڈاکٹروں سے سختی سے نمٹنے کی اجازت دیتا ہے۔ یاد رہے کہ 2019 میں وزارت برائے قومی صحت (این ایچ ایس) نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مدد سے پاکستان میڈیکل کونسل کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا اور کونسل کے رجسٹرار سمیت 220 ملازمین کو برطرف کردیا گیا۔ آرڈیننس کی شق 19 کے مطابق میڈیکل یا ڈینٹل کالج میں داخلے کے لیے تمام امیدوار کو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی سی اے ٹی) پاس کرنا ہوگا جو ملک بھر میں ایک ٹیسٹ ہوگا۔

صدر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب  ڈاکٹر سلمان حسیب چوہدری اور چیئرمین ڈاکٹر خضرحیات کے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جوائنٹ سیشن میں حکومت نے سفید کورٹ کے تقدس پر شب خون مارا ہے، دنیا بھر کی لائسنسنگ اتھارٹیز منتخب شدہ افراد پر مشتمل ہوتی ہیں تاہم یہاں من پسند بندوں کو نوازا جا رہا ہے، پاکستان بھر کے منتخب نمائندوں نے آج اپنا حق ادا نہیں کیا۔ ہم حکومت کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC اور انقلابی طلبہ محاذ RSF حکومت کی اس عوام دشمن قدم کی بھرپور مذمت کرتی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ آگے ہی پاکستانی عوام مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں اور عوامی کی اکثریت تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔ ایسے وقت میں صحت کے شعبے کی نجکاری اور میڈیکل ایجوکیشن کوبھی نجی شعبے کے حوالے کیا جانا دراصل عوام کا سماجی قتل عام کرنے کے مترادف ہے۔ کورونا وبا نے پاکستان کے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو عیاں کیا ہے مگر پھر بھی حکومت MTIایکٹ اور PMCایکٹ کے ذریعے بچی کچی صحت کی سہولیات کو بھی عوام سے چھین لینا چاہتی ہے۔ ہم میڈیکل شعبے کے تمام ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں اورہم حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ملک بھر کے محنت کش ان اقدامات کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم حکومت وقت کو ان عوام دشمن اقدامات کو واپس لینے کے لئے ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں ورنہ آل پاکستان ایمپلائز‘ پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کے پلیٹ فارم پر متحد 61 سے زائد ملک بھر کی ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں 14 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گیں۔ مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور تمام صورتحال کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہو گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*