ملتان سے اسلام آباد پیدل مارچ کرنے والے طلبہ کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، محمد اسلم خان رہبر تحریک

رپورٹ: PTUDC

سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ملک بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹہ مختص ہوتا تھا۔ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں ا ور انفراسٹرکچر کے فقدان کی وجہ سے طلبہ ان مختص کوٹہ سیٹوں اور سکالر شپس کی بنیاد پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ موجودہ حکومت کی سرپرستی میں بیشتر یونیورسٹیوں میں ان سیٹوں کو آدھے سے بھی کم کر دیا گیا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان ایمپلائز، پنشرز اینڈ لیبر تحریک کے رہبر محمد اسلم نے اپنے جاری بیان میں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام طلبہ دشمن اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اپنے حقوق کی خاطر ملتان سے لاہور و اسلام آباد پیدل مارچ کرنے والے طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم حقوق کی لڑائی میں تمام طلبہ کو اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔

پاکستان کی موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ایماء پر محنت کش خاندانوں پر جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی جابرانہ پالیسیوں کے نفاذ اور نجکاری و ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے محنت کشوں کا روزگار چھینا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف ملک بھر کی 61 ٹریڈ یونینز اور لیبر تنظیموں کی جانب سے ”آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز و لیبر تحریک“ کی کال پر 14 اکتوبر 2020ء کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جا رہا ہے۔ اس دھرنے کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں طبقاتی نظام تعلیم اورتعلیمی اداروں کی نجکاری پالیسی کا خاتمہ جیسے بنیادی مطالبات  بھی شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*