نیا سال2020ء مبارکباد: ایک رسم اور ایک آس

تحریر: رؤف لنڈ

انسانوں کے اس طبقاتی سماج میں خوشی اور غمی کے انداز اور اظہار بھی طبقاتی ہوتے ہیں۔ بالادست طبقہ سے تعلق رکھنے والے سارا سال، ہر مہینے، ہر ہفتے اور ہر دن خوشیاں مناتے ہیں اور ان کی یہ خوشیاں کسی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ استحصال، چھینا جھپٹی اور لوٹ کھسوٹ کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ دوسری طرف یہی بالادست طبقہ مختلف مذہبی و سیاسی تہواروں اور نئے سال کی آمد کے دن کو ایک منظم پروپیگنڈے کے ذریعہ مصنوعی خوشی میں تبدیل کر کے اپنی سال بھر کی استحصالی خباثتوں کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔۔ طبقاتی سماج میں طبقاتی کشمکش کی نوعیت دنیا بھر میں ہر خطے کے سماجی حالات کے مطابق ہوتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ نئے سال کی اس چکا چوند آتش بازی میں جہاں امریکہ، آسٹریلیا، جاپان، چین، برازیل، جرمنی، روس، سوئٹزر لینڈ، ہانگ کانگ، ترکی اور متحدہ عرب امارات وغیرہ سمیت دیگر ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں رات کے وقت اچانک دن کا سماں پیدا کرلیا گیا لیکن وہاں آج کی صبح بے گھری، بے روزگاری، مہنگے علاج اور مہنگی تعلیم کے بڑھتے اعشاریوں میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ خود مملکت خداداد پاکستان جس کے ہم سب باسی ہیں اور جس کی آج کے حالات کی صحیح اور درست تصویر کشی اس شعر میں ملتی ہے کہ؛
جہاں بھونچال بنیادِ فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھو کہ ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

سو جب یہاں کے بڑے بڑے شہروں کے بحریہ ٹاؤنز، ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹیز، گلبرگ اور ماڈل ٹاؤنز میں آتش بازی کی پھلجڑ یاں چنگھاڑ رہی تھیں وہاں اسی وقت تقریباً ملک کے تمام چھوٹے شہر اور دیہات تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ نئے سال کی صبح (سورج طلوع ہونے سے قبل) پاکستان کے عام لوگوں نے جو پہلی پہلی بد خبری سنی وہ عالمی منڈی میں سستے تیل، پٹرول، اور گیس کی بڑھائی گئی قیمتوں بارے خبر تھی۔ پٹرول کے مہنگا ہونے سے بجلی کی قیمت بڑھانے کی اور ضرورت کی ہر چیز کے مہنگا ہونے کی ناگزیر خبر کا انتظار باقی ہے۔ ایسی درد ناک خبروں اور اس بڑھتی مہنگائی کی اذیت کا ان کو کیا پتہ جو رات گئے تک چکا چوند روشنیوں میں گرم گرم کمروں میں نرم نرم بستروں پرنشے میں بدمست ہوکر اٹھکیلیاں کر کے سوئے تھے اور آج دن کے گیارہ بارہ بجے ہینگ ہو کر اٹھیں گے۔ آج کا سارا دن اگرچہ انہی بدمست لوگوں کے ہیپی نیو ائیر کے پروپیگنڈا کے تحت پاکستان کے فاقہ مست ایک دوسرے کو نیا سال مبارک کہتے ہوئے ملیں گے۔ لیکن پھر یہ محروم، یہ مظلوم، یہ فاقہ مست کچھ بھی ہو گوشت پوست کے انسان بھی تو ہیں۔ یہ انسان ظلم، جبر، استحصال اور بر بریت کی ہر شکل اور ہر اذیت کو محض برداشت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی ان اذیتیوں اور ذلتوں سے سیکھتے بھی رہتے ہیں۔ بھلے ان کو لمبی لمبی باتیں کرنا اور بڑے بڑے بھاشن دینا نہ آتا ہو۔ بے شک یہ بڑے بڑے فلاسفروں اور دانشوروں کے فلسفے اور دانش سے آشنا نہ ہوں۔ لیکن زندگی جیسے استاد اور دکھ درد جیسے اسباق سے یہ ہر لمحہ سیکھتے رہتے ہیں۔ کیا ہوا کہ اس وقت غریب، محروم، بے بس اور بے کس طبقے کو یہ معلوم نہیں کہ ان کو کیا چاہیے لیکن اتنا تو سب جانتے ہیں کہ یہ جو ہو رہا ہے یہ سب اچھا نہیں ہے۔

محروم طبقے کے ہر فرد کو اتنا تو پتہ ہے کہ آج 2019ء نہیں رہا۔ بس جب انہیں پتہ چل گیا کہ یہ ذلت، رسوائی، لاعلاجی، ان پڑھی، بیماری،بد امنی، بیروزگاری اور بد امنی ہمارا مقدر نہیں تو وہ یہ بھی کر گزریں گے کہ لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے پرودگاروں کو بتا سکیں کہ انسانیت کی راہ میں جو رکاوٹ بنے گا، نہیں رہیگا۔ بس ہم طبقاتی سماج بدلنے کی اسی آس، اسی عزم اور اسی یقین کیساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کہ
’کالی رات جاوے ای جاوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرخ سویرا آوے ای آوے‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*