عورت کس کی غلام ہے؟

تحریر: التمش تصدق

8 مارچ دنیا بھر میں محنت کش خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جسے منانے کا فیصلہ مزدوروں کی عالمی تنظیم ”دوسری انٹرنیشنل“ کے تحت منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔ لیکن اس دن کو عالمی سطح پر شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب روس میں انقلابی تحریک کا آغاز 1917 میں اسی دن خواتین کے مظاہرے سے ہوا جس عظیم انقلاب نے محنت کش مرد و خواتین کو ہزاروں سالہ طبقاتی غلامی، جبر اور استحصال سے نجات دلائی تھی۔ پاکستان اور اس کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں بھی ہر سال آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر احتجاجی ریلیاں اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔لیکن اس سال 8 مارچ سے قبل ہی خواتین کا عالمی دن میڈیا اور سوشل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

دائیں بازوکی مذہبی جماعتوں کی طرف سے محنت کش خواتین کے عالمی دن کو فحاشی قرار دے کر عورت مارچ کو بزور طاقت روکنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ بنیاد پرست خواتین کے حقوق کی بات کو گناہ کبیرہ تصورکرتے ہیں اور ان کو نجی ملکیت قرار دے کر بے زبان جانور کی طرح مقید رکھنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک عورت کی حیثیت بچے پیدا کرنے والے آلے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ دوسری طرف لبرل خواتین و حضرات بھی عورت کے تمام تر مسائل کی ذمہ داری سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کے بجائے مردوں پر عائد کرتے ہوئے عورت کی آزادی کی اس حد تک وکالت کرتے ہیں کہ اس وجود کو بازار میں نمائشی جنس بنانے میں کوئی قدغن عائد نہیں ہونی چاہیے، ان کے لیے عورت کی گھریلو غلامی سے نجات اس لیے ضروری ہے کہ آزاد منڈی میں عورت بھی آزاد ہو، اپنی سستی محنت سرمایہ داروں کے ہاتھوں فروخت کرنے اور خود بکنے میں آزاد ہو تاکہ ان کے منافع میں اضافہ ہو سکے۔ مردوں سے آزادانہ میل جول، اپنی پسند کے کپڑے پہننے کو ہی آزادی قرار دیا جاتا ہے۔ مادر پدر آزاد خیالوں کی جانب سے مغرب میں عورتوں کے معاشی اور سماجی استحصال سے نظریں چرا کر مغربی جمہورت کو عورتوں کے لیے جنت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اگرچہ پاکستان اور بھارت جیسے پسماندہ اور رجعتی سماج میں ایسے مسائل بھی خواتین کو درپیش ہیں جو جدید سرمایہ دارانہ ممالک میں کسی حد تک حل ہو چکے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں تیزاب پھینکنے، زندہ جلانے، سنگسار کرنے اور غیرت کے نام پر قتل کرنے جیسے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں۔ اکثریتی محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ان مسائل کے ساتھ اور بھی بنیادی نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن پر آزاد خیال اشرافیہ اور مذہبی بنیاد پرستوں کی بے نتیجہ بحث میں پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔محنت کش طبقے کی خواتین کو بنیادی ضروریات زندگی سے محرومی کا سامنا ہے، تعلیم سے محرومی، غذائی قلت، بھوک، علاج معالجے کی عدم دستیابی اور قلیل اجرتوں جیسے مسائل جن پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے جنہوں نے محنت کش خواتین کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ ہرسال ہزاروں عورتیں زچگی کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ معاشی مفادات کی وجہ سے ہر جگہ لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ وراثت کے قانون میں لڑکوں سے جائیداد کی منتقلی کی وجہ سے بچیوں کی پیدائش پر سوگ منایا جاتا ہے۔ دوہرے جبر اور استحصال کا شکار خواتین کے مسائل اور زخموں کو بھی این جی اوز نے منافع بخش کاروبارمیں تبدیل کر دیا ہے۔ شدید معاشی اور سماجی گھٹن سے آزادی کی جدوجہد کو جسموں کی تشہیر کی آزادی تک محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جس معاشرے میں ماں آزاد نہ ہو وہ معاشرہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتا ہے۔ بقول انقلاب روس کے رہنما لیون ٹراٹسکی کہ ’ماں ہی وہ فیصلہ کن نقطہ ہے جہاں معیشت اور ثقافت کے تمام تانے بانے ایک دوسرے کو قطع کرتے ہیں،ممتا کی آزادی کا مسئلہ سب سے پہلے رہائش، پانی، باورچی خانہ، کپڑے دھونے اور دیگر گھریلو مشقت سے نجات کا مسئلہ ہے۔‘ بلا اجرت گھریلو مشقت کو عورت کا فرض تصور کیا جاتا ہے جو حساب کتاب میں شمار نہیں ہوتی ہے، یہ مشقت بچپن سے ہی لڑکیوں پر مسلط کر دی جاتی ہے جس سے عورت کی شعوری اور سماجی نشوونما میں کوئی مدد نہیں ملتی۔مخصوص دائرے میں تربیت کے نتیجے میں جنم لینے والی شعوری پسماندگی کو جواز بنا عورت کو فطری طور پرکم تر اور کم عقل ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سرمایہ دارانہ استحصالی نظام میں محنت کش طبقے تقسیم کرنے کے لیے جہاں نسلی، لسانی، قومی اور مذہبی بنیادوں پر جبروتشدد اور تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں صنفی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے تعصبات، نفرتوں اور جبر کو فروغ دیا جاتا ہے۔ پاکستان دیگر تعصبات کی طرح صنفی تعصب کو فروغ دینے میں بھی اول نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ یہاں عورت کی آزادی کی بات جائے یا عورت اپنی آزادی کی بات کرے تو بڑے بڑے بے غیرتوں کی غیرت جاگ جاتی ہے، جن کی غیرت کو دل دہلا دینے والے ایسے واقعات سے کوئی فرق نہیں پڑتا جن سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ جن کی غیرت کو کم سن بچیوں کو ریپ کے بعد قتل کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جن کی غیرت مردہ عورتوں کو قبر سے نکال کر ریپ کرنے پر ہرگز نہیں جاگتی۔ جن کی روح غیرت کے نام پر قتل کرنے پر نہیں کانپتی۔

ان دنوں ’میرا جسم میری مرضی‘کے نعرے پر ہر طرف طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ عورت کو ذاتی ملکیت تصور کرنے والے سیخ پا ہو رہے ہیں کہ عورت اپنے جسم پر اپنی مرضی کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے۔یہ گوشت کا ٹکڑا تو ہمارا ہے۔ حیا کے فلسفے کو عورتوں تک محدود کرنے والے بیمار ذہنوں کو میرا جسم میری مرضی کے نعرے میں بے حیائی نظر آتی ہے۔ دوسری طرف اس دعوے کی حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ طبقاتی استحصالی نظام کی موجودگی میں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین کے جسم پر نہ ہی ان کی مرضی ہے اور نہ ہی اس استحصالی نظام کی موجودگی میں اپنے جسم پر ان کی مرضی ہو سکتی ہے۔ جہاں انسان جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی قوت محنت سرمایہ دار کے ہاتھوں فروخت کرنے پر مجبور ہو وہاں اکثریتی محنت کشوں کے لیے اپنے جسم پر اپنی مرضی چلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہاں محنت کشوں کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں پر سرمایہ داروں کی مرضی ہے۔ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے غریب خواتین جسم فروشی کا دھندہ کرنے پر مجبور ہیں جس میں انہیں اپنے جسم کو اپنی مرضی کے بغیر مجبوری میں جنسی درندوں کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اپنے جسم پر اپنی مرضی کا دعویٰ بالادست طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی کر سکتی ہیں جن کی نہ صرف اپنے جسم پر اپنی مرضی ہے بلکہ دیگر جسموں پر بھی ان کی مرضی ہے۔ محنت کش خواتین و حضرات اپنے جسم پر اپنی مرضی کی محض خواہش کر سکتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔

عورتوں کے حقوق کی جنگ محض عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دلانے کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ جنگ عورت کو عورت کے برابر معاشی حقوق دلانے کی جنگ ہے، مرد کو مرد کے برابر حقوق دلانے کی جنگ ہے۔ کیونکہ طبقاتی سماج میں نہ ہی عورت عورت کے برابر ہے اور نہ ہی مرد مرد کے برابر ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو عورت کی غلامی کا آغاز اس وقت ہوا جب نجی ملکیت کا آغاز ہوا اور سماج طبقات میں تقسیم ہوا۔ غلاموں اور دیگر اشیاء کی طرح عورت کو بھی نجی ملکیت بنا دیا گیا۔غیر طبقاتی سماج میں ہی انسان نسل، لسانی، قومی، مذہبی اور صنفی امتیاز اور تعصبات سے بالاتر ہو کر برابری کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتا ہے۔ حقوق نسواں کا حصول جنس کی بنیاد پر نہیں طبقے کی بنیاد پر انقلابی سوشلزم سے ہی ممکن ہے کیونکہ عورت مرد کی نہیں طبقاتی نظام کی غلام ہے جس کے غلام محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے مرد بھی ہیں۔