کراچی: حکومت کی جانب سے ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کرنے کا کام تیز، ملازمین کا بھرپور مزاحمت کا اعلان

رپورٹ: PTUDC 

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تقسیم اور ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کی پالیسی پر حکومت قائم ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے منافع بخش ایئرپورٹس کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لئے حکومت نے کوششیں تیز کر دیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے لاہور، کراچی، ملتان اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کو مکمل کرنے کے لیے نئے قوانین تیار، آؤٹ سورسنگ آپشنز، سول ایوی ایشن کی تشکیل نو اور عدالتی تحفظات دور کرنے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں ایوی ایشن ڈویژن پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے اقدامات کا آغاز کرچکی ہے جس کے تحت اختیارات میں کمی کے ساتھ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے نام سے دو مختلف اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔

وزارت قانون سے بلوں کی منظوری ملنے کے بعد سول ایوی ایشن ڈویژن ایک ہفتے میں کابینہ کمیٹی کے سامنے سول ایوی ایشن بل 2020، سول ایوی ایشن اتھارٹی آرڈیننس ترمیمی بل 2020 سمری کی صورت میں منظوری کے لیے پیش کردے گا۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی بورڈ کو سول ایوی ایشن سروس قوانین میں ترمیم کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں باضابطہ منظوری 30 ستمبر کو دی جائے گی۔ عدالت نے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کوصرف ائیرپورٹ سروسز جیسا کہ کار پارکنگ تک محدود کرنے کی ہدایت کررکھی ہے، مگر آئی ایم ایف کے دباؤ میں حکومت ہر صورت پر ان کا حکم بجا لاتے ہوئے منافع بخش اداروں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہ رہی ہے۔

دوسری جانب ملازمین کی جانب سے ادارے کی متوقع نجکاری کے خلاف جدوجہد جاری ہے، مورخہ 10 ستمبر کو کراچی ایئرپورٹس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ملازمین نے بھرپور احتجاج کیا اور اس موقع پر سول ایوی ایشن کے ایمپلائز یونٹی کے چیئرمین راؤ سلیم نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات اور ادارے کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ملک بھر میں ایئر پورٹس پر کام بند کر دیا جائے گا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں مورخہ 12ستمبر کو دنیا اخبار میں شائع ہونے والے اشتہار میں حکومت کی جانب سے ادارے کی تقسیم کے لئے ڈی جی سول ایوی ایشن ریگولیٹری اور چیئرمین ایئرپورٹس سروسز کی بھرتیاں وقتی طور پر روک گئی ہیں۔ یہ کامیابی ان کے احتجاج کی وجہ سے ملی تاہم نجکاری کی تلوار ابھی تک موجود ہے اور اس کے خلاف جدوجہد تیز کرنا ہو گی۔

موجودہ حکومت عوامی اداروں اور ملازمین کو خزانے پر بوجھ قرار دے کر ان کی نجکاری کرنا چاہتی ہے مگر سول ایوی ایشن جیسے منافع بخش ادارے کو فروخت کرنا ناقابل فہم فیصلہ ہے۔ سول ایوی ایشن کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق فضائی حدود میں بھی خاطر خواہ اضافہ اوور فلائنگ کی مد میں سی اے اے کو 3کروڑ روپے یومیہ اضافہ ہوا ہے، سی اے اے نے گذشتہ ماہ کے 15 دنوں کے دوران 49 کروڑ روپے حاصل کئے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کو16تا31اگست تک 4ہزار1 سو38 پروازوں نے پاکستان کی فضائی حدود کو استعمال کیا، پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی تعدادیومیہ 350 سے زائد ہوگئی۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC، سول ایوی ایشن کے ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ادارے کی نجکاری پالیسی کی منسوخی تک جدوجہد جاری ہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*