حب: 300مزدوروں کی برطرفیوں کے خلاف احتجاج

رپورٹ: PTUDC کوئٹہ

بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی میں چینی کے برتن بنانے والے فیکٹری سے 300 مزدوروں نکال دیا گیا، فیکٹری مالک نے فیکٹری کو بند کرکے تالا لگا دیا۔   مزدوروں نے فیکٹری مالک کے مزدور دشمن اقدامات اور ظلم و ستم کے خلاف فیکٹری گیٹ کے سامنے دھرنا دے کر سخت احتجاج کیا۔  مزدوروں کا کہنا ہے کہ فیکٹری مالک انتہائی چالاک اور مکار ہے،   وہ ہمیشہ مزدوروں کا بروقت اجرت نہیں دیتا۔  اگر مزدور بروقت اجرت ادا کرنے کی بات کرتے ہیں تو انہیں فیکٹری سے نکال دیا جاتا ہے۔  ماضی میں مالک نے اسی طرح فیکٹری کو تین بار بند کردیا تھا۔  مزدوروں کی تنخواہیں ہڑپ کر لی اور بعد میں دو بارہ فیکٹری کھول دیتا ہے۔  اس بار بھی مزدوروں کے ساتھ یہی کھلواڑ ہو رہا ہے۔  پورے بلوچستان میں فیکٹریاں نہ ہونے کے برابر ہے۔  ڈسٹرکٹ لسبیلہ حب چوکی کے مقام پر کچھ چھوٹی بڑی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں ان فیکٹریوں کے مالک زیادہ تر کراچی سے ہیں۔  فیکٹری انتظامیہ اور اکثر مزدوروں کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔  حب چوکی میں اس لیے فیکٹریاں لگاتے ہیں کیونکہ بلوچستان حکومت نے سرمایہ داروں کو دس سال کی ٹیکس چھوٹ دے رکھی ہے۔  جب ٹیکس دینے کا وقت آتا ہے تو یہ سرمایہ دار مختلف بہانے بنا کر فیکٹریوں کو بند کردیتے ہیں اور بعض اوقات فیکٹریوں کو جلایا بھی جاتا ہے۔  اسکے علاوہ بلوچستان حکومت نے فیکٹری مالکان کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا ہے کہ 75فیصد مزدور مقامی رکھیں گے لیکن سرمایہ دار اس معاہدے پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں کرتے۔  مقامی باشندوں کو صرف کنٹریکٹ کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے جنہیں یونین سازی کا حق حاصل نہیں۔  باقی مراعات،   سوشل سیکیورٹی،   EOBI، سیفٹی کی سہولیات اوراوور ٹائم وغیرہ نہیں دی جاتی ہیں۔  اس مہنگائی اور معاشی بد حالی کے دور میں آٹھ سے دس ہزار روپے اجرت دی جاتی ہے۔  حب چوکی میں سرمایہ داروں، فیکٹری مالکان اور انتظامیہ نے جنگل کا قانون بنایا ہوا ہے۔  مزدوروں کا بد ترین استحصال کیا جا تا ہے۔  اس کے باوجود صوبائی حکومت، لیبر ڈپارٹمنٹ اور سیاسی جماعتیں سب کے سب مزدوروں کے ساتھ ہونے والے استحصال، ظلم و زیادتی کے بارے میں کوئی بھی نوٹس نہیں لیتے۔  اسی طرح مزدوروں کے اپنے نمائندے خصوصاً فیڈریشنز کے نمائندے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

  PTUDC حکومت بلوچستان، وزیر لیبر اور لیبر ڈپارٹمنٹ کی توجہ حب چوکی کے مزدوروں کی حالت زاراور تین سو نکالے گئے مزدوروں کی جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ حب چوکی میں لیبر قوانین کے مطابق فیکٹری مالکان کو پابند کیا جائے۔  نکالے گئے مزدوروں کو فی الفور نوکریوں پر بحال کیا جائے۔  مزدوروں کی تمام تنخواہیں اور بقایاجات ادا کی جائے۔  یونین سازی کو بحال کیا جائے۔  سوشل سیکیورٹی، EOBI اوردیگر سہولیات فراہم کی جائے۔  حکومت بلوچستان کے ساتھ معاہدے کے تحت 75فیصد ملازمین مقامی باشندوں کو رکھا جائے۔  PTUDC حب چوکی میں مزدوروں کے ساتھ ہونے والی ہر ظلم اور نا انصافی کی مذمت کرتی ہے اور انکی ہر جدوجہد میں شانہ بشانہ رہے گی۔