کراچی: آئی سی آئی پاکستان میں جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاج

رپورٹ: PTUDC کراچی

ICI پاکستان میں بڑے پیمانے پر جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے، کمپنی نے اپنے مستقل، کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے سینکڑوں محنت کشوں کو جبری برطرف کرنا شروع کردیا ہے۔  25 برس سے کام کرنے والے محنت کشوں کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے برخاست کردیا گیا، جس سے محنت کشوں میں شدید بے چینی پائی جا تی ہے۔ محنت کشوں کے مطابق آئی سی آئی پاکستان واقع ویسٹ وہارف میں 300 کے قریب مزدور کام کرتے ہیں جس میں صرف 8 مزدورمستقل ملازم قراردیے گئے ہیں، باقی مزدور مختلف نام نہاد ٹھیکیداروں کے ذریعے عرصہ دراز سے کام کررہے ہیں۔ ICI میں لیبر قوانین کے نفاذ کی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ 200 سے زائد مزدوروں کو کینٹین کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ٹھیکیداری نظام کے ذریعے مزدوروں سے بے گار لی جارہی ہے۔ حالانکہ تمام مزدورمستقل بنیادوں پر مستقل نوعیت کا کام کرتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے کہ ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والے مزدوروں کو مستقل ورکر تسلیم کیا جائے گا۔ ICI میں ظلم کی انتہا ہے کہ کئی ملازمین کو جو کافی عرصہ سے کام کررہے تھے ان کو بغیر کسی نوٹس کے زبانی طور پر بول کر نکال دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں محنت کشوں کی جانب سے آئی سی آئی پاکستان ویسٹ وہارف کے باہر منگل مورخہ یکم اکتوبرکو جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے ICI پاکستان کی انتظامیہ کے خلاف  شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ 3 تا 25 سال سے کام کرنے والے ICI پاکستان کے ملازمین کو بغیر کسی نوٹس کے فارغ کردیا گیا ہے، ملازمین کی برطرفی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر برطرف کیے گئے ملازمین کو فوری طور پربحال نہیں کیا گیا تو مزدور یونینوں کے ساتھ مل کر ICI پاکستان کی انتظامیہ خلاف شدید احتجاج پرمجبورہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*