ترکی میں مزدور جدوجہد کا ماضی اور حال

تحریر: یاسر ڈیمولوگ (ممبرایڈیٹوریل بورڈ ’یووینس‘ استنبول، ترکی)

سماج میں سیاسی و سماجی تبدیلی کی بنیادی طاقت محنت کش طبقے کے پاس ہوتی ہے۔ یہی محنت کش طبقہ معیار زندگی میں بہتری کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں سے لے کر عظیم انقلابات تک فیصلہ کن محرک ثابت ہوتا ہے۔ مارکسیوں کے نزدیک طبقاتی جدوجہد، سرمایہ داروں اور محنت کشوں کے مابین ناقابل مصالحت تضادات کا شاخسانہ ہوتی ہے۔ مشرقی خطوں میں سرمایہ داری کسی ارتقائی مرحلے کی بجائے صنعتی طور پر مستحکم ممالک سے بھدے انداز میں برآمد کی گئی ہے۔

ترکی میں محنت کش طبقے کی جدوجہد کا آغاز سلطنت عثمانیہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا کے متوازی ہوا۔ 18ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف کئی مزدور تحریکوں کا ابھار ہواجبکہ اس کی تنزلی میں کئی اہم مزدور مزاحمتوںاور تنظیموں کا جنم ہوا۔ سلطنت عثمانیہ میں سرمایہ دارانہ نظام کا ارتقا یہاں کی مخصوص صورتحال کے تضادات سے بھر پور تھا۔ نئی ابھرنے والی بورژوازی غیر ملکی سرمائے کے گماشتے کے طور پر ابھری اور یوں یہ ملکی بورژوازی نہایت نحیف تھی۔ بورژوازی کے ساتھ محنت کش طبقے کی ساخت بھی دیگر علاقوں کی نسبت مختلف تھی۔ محنت کش طبقہ خصوصاً ہنر مند اور صنعتی مزدوروں کی اکثریت یونانی، یہودی، آرمینی اور غیر ملکی نسلوں سے تعلق رکھتی تھی۔ 1915ءکی صنعتی مردم شماری کے مطابق صرف 15فیصد سرمایہ دار اور محنت کش ترک تھے جبکہ 60 فیصد محنت کش یونانی، 15فیصد آرمینی اور 10 فیصد یہودی تھے۔ ان نسلی تفریقوں کو حکمران طبقے نے طبقاتی جڑت کو کمزور کرنے اور طبقاتی جدوجہد کو توڑنے کے لئے استعمال کیا۔ سلطنت عثمانیہ کے زوال کے دوران مختلف قومی تعصبات کے ابھار نے محنت کش طبقے کی تحریک پر منفی اثرات مرتب کئے اور یہی بنیادی وجہ تھی کہ اس عہد میں محنت کش طبقہ شاندار جدوجہد کے باوجود کسی منطقی انجام تک نہ پہنچ پایا۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد سلطنت عثمانیہ کا انہدام ہوا۔ 1923ءتا 1960ءتک سماجی و معاشی حالات کے خلاف محنت کش طبقے نے عظیم جدوجہد کی لیکن قیادت کی عدم موجودگی اورنسلی تعصبات کے باعث محنت کش طبقہ اقتدار پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔ لیکن اس دوران حکمران طبقہ بھی اپنی تاریخی پسماندگی کے باعث ایک ترقی یافتہ معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہا۔ اس عہد میں سیاسی عدم استحکام کے باعث کئی ایک حکومتیں زوال کا شکار ہوئیں۔ ستمبر 1980ءمیں جنرل کینان ایورین کے مارشل لا نے محنت کش طبقے کی تحریک کو بدترین ریاستی جبر سے کچلا۔ اس دوران کئی مزدور حقوق پامال کیے گئے۔یونینز اور سیاسی تنظیموں پر پابندیوں کے نفاذ سے ان کو ختم کیا گیا۔ کئی ایک نام نہاد مزدور رہنماﺅں نے حکومت کے ساتھ سمجھوتا کر لیا اور بہت سے تو مزدور تحریک کو کچلنے کے لئے استعمال کئے جانے لگ گئے۔ 1980ءکے مارشل لا نے آئین کو استعمال کرتے ہوئے واضح طور پر سامراج کی ایما پر نیولبرل پالیسیوں کے نفاذ کا عمل شروع کیا لیکن 1989ءبہار کی تحریک نے ایک بار پھر محنت کش طبقے کو سیاسی منظر نامہ پر اجاگر کیا۔1980ءکے بعد پہلی مرتبہ سرکاری محکموں کے محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لئے شاندار جدوجہد کا آغاز کر دیا ۔ اس دوران انہوں نے اپنی تحریک کو پھیلانے کی غرض سے اخبارات شائع کرنے کے ساتھ ساتھ بھوک ہڑتالیں کیں اور کئی جگہوں پر فیکٹریوں پر براہ راست قبضے کئے جانے لگے۔ صرف تین ماہ کے دوران 6 لاکھ محنت کش اس جدوجہد میں شامل ہو گئے۔ 1990ءمیں زونگولڈاک صوبے کے شہر گونگڈو میں 68 کان کنوں کی ہلاکت کی خبر نے اس تحریک کو ایک نئی اٹھان دی۔ اس تحریک میں محنت کشوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ درمیانے طبقے کی کچھ پرتوں نے بھی لاکھوں کی تعدادمیں شمولیت اختیار کی۔قیادت کی جانب سے تحریک کو ختم کرنے کے اعلانات کے باوجود محنت کش نہیں رکے بلکہ 77 دنوں کی لگاتار جدوجہد کے بعد ان کے مطالبات تسلیم کر لئے گئے۔

2010ءمیں ایک بار پھر مزدور تحریک میں شدت دیکھی گئی۔اب بھی مختلف شعبوں کے محنت کش جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں اور اپنے حالات زندگی کو بدلنے کے لئے کوشاں ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام مشرقی عوام کو سستے مزدور کے طور پر دیکھتا ہے ، جس کی وجہ سے پیداواری صنعت اب یورپ سے مشرق میں منتقل ہو رہی ہے۔ سستی محنت دنیا کے حکمرانوں کی امارت میں بے انتہا اضافہ کر رہی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ مشرقی خطوں کے محنت کش انسان کو انسان کے استحصال سے چھٹکارا دلانے کے لئے عظیم سوشلسٹ انقلاب کی قیادت کریں۔ ماضی میں کمیونسٹ انٹرنیشنل کے بینر تلے ’مشرقی عوام کی کانگریس ‘ ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ ہے۔ پاکستان ، ترکی ، ایران ، انڈیا اور تمام مشرقی عوام کی آزادی ایک دوسرے کےساتھ مشروط ہے۔

ہم محنت کش ایک ہیں، ہم کبھی شکست خوردہ نہیں ہوسکتے!

ہم اس جدوجہد کو اس کے منطقی انجام سوشلسٹ انقلاب تک جاری رکھیں گے۔

ہم ایک بار پھر مشرق سے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیں گے۔

سوشلسٹ انقلاب زندہ باد!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*