محنت کشوں کے احتجاجات: اور نکلیں گے عشاق کے قافلے !

رپورٹ: PTUDC لاہور

کورونا وبا کو بنیاد بنا کر محنت کشوں کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے، وبا کی آڑ میں محنت کشوں کے حقوق سلب کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے تو نجی شعبے میں پچھلے مہینوں کی واجب ادا تنخواہوں کی بندش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لیکن اس تمام منظر نامہ میں محنت کشوں بھی لمبے صبر کے بعد چپ رہنے کی بجائے اپنے حقوق کی خاطر میدان عمل میں اتر رہے ہیں۔ ملک کے ہر صنعتی مرکز میں محنت کشوں کی جانب سے چھوٹے بڑے احتجاجات کا سلسلہ شروع ہے۔ دوسری جانب ریاست بھی محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے سرمائے کے تحفظ کی خاطر ان کے مظاہرو ں کو بزور طاقت کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کورونا کے نام پر لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی ہے تاہم مزدور تحریک پر یہ لاک ڈاؤن مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ ایسا ہی آج کے مظاہروں میں بھی نظر آیا جب لاہور اور کراچی میں احتجاج کرنے والے محنت کشوں کے مظاہروں کو ختم کروانے کے لئے پولیس کا استعمال کیا گیا۔ کراچی میں تو پولیس نے محنت کشوں پر گولیاں چلا دیں اور ابھی تک کی رپورٹس کے مطابق ایک محنت کش زخمی ہے۔ یہ تینوں فیکٹریاں پھر ایکسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، یہی ایکسپورٹرز جن کے لئے حکومت کی جانب سے ریلیف کا اعلان کیا گیا اور فیکٹروں کو پابند کیا گیا کہ وہ جبری بر طرفیوں سے باز رہے لیکن اب ریاستی آشرواد میں محنت کشوں کے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں۔ لیکن یہ بکھری ہوئی لڑائیاں مستقبل قریب میں محنت کشوں کی جدوجہد کی ایک بڑی اٹھان کے لئے چنگاری کا کام بھی کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار ڈان میں حکمران طبقہ کو خبردار کرتے ہوئے،  اشعر الرحمان نے اپنے کالم میں محنت کشوں کے غم وغصہ کو ایک بڑی تحریک میں بدلنے کے امکان کے بارے میں لکھاکہ، 

‘ٹریڈ یونین کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ایک بار منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ڈاکٹروں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحفظ کے کم سے کم معیارات پر پورا اترنا لازمی ہے۔ یہاں تک کہ ان مخصوص خطرناک وقتوں میں کام کرنے والوں کو مناسب مالی معاوضہ دینے کی بھی باتیں کی گئی ہیں۔

اپنی منصفانہ اجرت کا مطالبہ کرنے والے ایک مؤثر کارکن کے عمومی سانچے سے باہر نکل کر مزدور تخلیقی طریقوں پر اثرات مرتب کرتا رہے گا۔ لاک ڈاؤن کے ذریعے پاکستانیوں پر ڈالی جانے والی مالی مشکلات سے متعلق منظرِ عام پر آنے والی چند سب سے زیادہ ڈراؤنی تصاویر میں سے ایک وہ تصویر ہے جس میں کارکن کو ہتھوڑی اور بیلچے سے لیس امیر کے پیچھے چلتا دیکھا جاسکتا ہے۔ درحقیقت یہ سب اچھی زندگی گزارنے والوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔’

اس سلسلے میں مورخہ 19مئی کو ملک میں ہونے والے تین اہم احتجاجات کی تفصیلات کچھ یوں ہیں؛

کراچی
کراچی کے کورنگی ایریا میں واقع ڈینم ٹیکسٹائل فیکٹری کے سینکٹروں مزدوروں نے تنخواہیں نہ ملنے پر سخت احتجاج کیا، تقریباً تمام مزدور وں نے کام چھوڑ دیا اور احتجاج میں شامل ہو گئے۔ محنت کشوں نے مالکان کے خلاف سخت نعرے بازی کی، احتجاج کو منتشر کرنے کے لئے سندھ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا اسی اثنا میں پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔ فائرنگ کی وجہ سے ایک مزدور زخمی ہو گیا۔

محنت کشوں نے واقعہ کے بعد احتجاج میں تیزی لاتے ہوئے مین کورنگی روڈ کو بند کردیا تاہم بعد میں مذاکرات کے بعد محنت کش پر امن طورپرمنتشر ہو گئے تاہم محنت کشوں کا کہنا تھا کہ جب تک ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

لاہور
لاہور کے علاقہ گجومتہ میں واقع یو ایس اپیریل فیکٹری کے 5000 مزدوروں نے تنخواہیں اور عید پر بونس نہ ملنے کی وجہ سے کام چھوڑ کر فیکٹری مالکان کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ یہاں بھی محنت کشوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بجائے پولیس کو طلب کیا گیا اور محنت کشوں کے احتجاج کو ختم کروانے کی کوشش کی گئی تاہم محنت کشوں نے واضح کیا کہ جب تک ان کے بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی جاتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

شیخوپورہ
شیخوپورہ کے قریبی علاقہ میں واقع کھارانوالہ میں واقع سفائر ٹیکسٹائل کے ہزاروں محنت کشوں نے تنخواہ نہ ملنے پر سخت احتجاج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گزشتہ تین ماہ کی تنخواہ بھی واجب ادا ہے، مالکان کی جانب سے کام کروایا جاتا رہا تاہم انہیں تنخواہ ادا نہیں کی جا رہی۔ محنت کشوں نے مالکان کو 24گھنٹے کا وقت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ان کی تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو وہ احتجاج کا سلسلہ وسیع کرتے ہوئے آج مورخہ 20مئی کو 3بجے لاہور فیصل آباد روڈ کو مکمل بند کر دیں گے اور تمام تر صورتحال کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین PTUDC تمام محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ریاست پاکستان سے واضح مطالبہ کرتی ہے کہ ان کے مطالبات فوری طور پر پورے کئے جائیں۔ ان واقعات میں یہ واضح ہوا ہے کہ سندھ ہو یا پنجاب ہر جگہ محنت کشوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ تمام تر وعدے محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں، ہم ریاستی تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، ان پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*